Wednesday , December 12 2018

اوورسیز اسکالر شپ اسکیم کے منتخب امیدوار پہلی قسط سے محروم

آن لائن فہرست کی اجرائی، طلباء حصول رقم کیلئے پریشان حال

حیدرآباد۔ 16 فبروری (سیاست نیوز) حکومت کی اوورسیز اسکالرشپ اسکیم کے منتخب اقلیتی امیدواروں کو ابھی تک پہلی قسط کی اجرائی عمل میں نہیں آئی۔ اسکیم کے تحت 330 سے زائد امیدواروں کا انتخاب عمل میں آیا اور امیدواروں کی فہرست آن لائین جاری کردی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود میں بجٹ کی کمی ہے جس کے نتیجہ میں منتخب امیدواروں کو 10 لاکھ روپئے کی پہلی قسط جاری نہیں کی جاسکتی۔ حیدرآباد میں 269 امیدواروں کو منتخب کیا گیا تھا، ان میں سے چند طلباء کو فضائی کرایہ کے طور پر 40 ہزار روپئے جاری کیے گئے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدار نے بتایا کہ 80 طلباء نے ابھی تک ایرٹکٹ اور بورڈنگ کارڈ کی کاپی داخل کی ہے۔ انہیں فضائی کرایہ کی اجرائی کے لیے بلس تیار کیے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ منتخب امیدواروں کو فضائی کرایوں کی ادائیگی کے لیے حیدرآباد ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر کے تحت 16 لاکھ روپئے موجود ہیں تاہم وہ پہلی قسط کی اجرائی سے قاصر ہیں۔ اس کے لیے درکار رقم ابھی تک جاری نہیں کی گئی۔ محکمہ فینانس میں بجٹ کی اجرائی کے سلسلہ میں بلس داخل کیے گئے ہیں۔ اوورسیز اسکالرشپ اسکیم کے منتخب طلباء رقم کی عدم اجرائی کے سبب مشکلات سے دو چار ہیں۔ انہیں رقم کی اجرائی کی صورت میں بینک یا دیگر ذرائع سے حاصل کردہ قرض کی ادائیگی میں مدد ملے گی۔ طریقہ کار کے تحت طلباء کے انتخاب کے ساتھ ہی پہلی قسط اور فضائی کرایہ کی رقم جاری کردی جاتی ہے لیکن محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کو اس سلسلہ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ طلباء رقم کے لیے دفتر کے چکر کاٹ رہے ہیں لیکن انہیں اطمینان بخش جواب دینے کے لیے کوئی موجود نہیں۔ اسکالرشپ اسکیم پر عمل آوری کی ذمہ داری ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کی ہے لیکن یہ عہدہ مخلوعہ ہے۔ سید عمر جلیل کے تبادلے کے بعد سے اس عہدے پر کوئی تقرر نہیں کیا گیا۔ موجودہ سکریٹری اقلیتی بہبود دانا کشور، واٹر ورکس اور مشن بھگیرتا کی مصروفیات کے سبب اقلیتی بہبود کے امور کے لیے وقت دینے سے قاصر ہیں۔ طلباء اور اولیائے طلباء اوورسیز اسکالرشپ اسکیم کے بارے میں تفصیلات حاصل کرنے سکریٹریٹ پہنچے تو وہاں سکریٹری کی عدم موجودگی سے روزانہ مایوسی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT