Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / اوور سیز اسکالر شپس کے لیے والدین کا آدھار کارڈ لازمی

اوور سیز اسکالر شپس کے لیے والدین کا آدھار کارڈ لازمی

اسکیم پر شفافیت سے عمل ، پہلی فہرست کے کئی طلبہ اسکالر شپس سے محروم ، دوسرے مرحلہ کا آغاز
حیدرآباد۔/11فبروری، ( سیاست نیوز) اقلیتی طلباء کو بیرونی ممالک کی یونیورسٹیز میں اعلیٰ تعلیم سے متعلق اوورسیز اسکالر شپ کیلئے والدین کے آدھار کارڈ کا لزوم عائد کیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں امیدواروں اور ان کے سرپرستوں کی جانب سے بعض دشواریوں کی شکایات موصول ہوئیں جس پر محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں سے’ سیاست‘ نے ربط قائم کیا۔ عہدیداروں نے درخواست گذار کے والدین کے آدھار کارڈ کے لزوم کو حق بجانب قراردیا۔ عہدیداروں کا ماننا ہے کہ اسکیم کے تحت صرف ایک خاندان سے ایک فرد کو استفادہ کا حق حاصل ہے لہذا والدین کے آدھار کارڈ کو لازمی قراردیا گیا ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ اس اسکیم پر عمل آوری کے سلسلہ میں مکمل شفافیت برتی جارہی ہے اور قواعد کی تکمیل کے بعد کمیٹی کے ذریعہ امیدواروں کا انتخاب عمل میں آرہا ہے۔ اسکیم کے تحت 10لاکھ روپئے دو اقساط میں جاری کئے جاتے ہیں۔ اوورسیز اسکالر شپ اسکیم کیلئے اقلیتی طبقہ کے تمام امیدوار مستحق ہیں اور اس میں بی سی ( ای )  کی کوئی شرط نہیں۔ ہر فرقہ سے تعلق رکھنے والا طالب علم اسکیم سے استفادہ کا اہل ہے۔ عام طور پر یہ غلط فہمی دیکھی گئی کہ صرف بی سی ای زمرہ کے تحت آنے والے طلباء ہی درخواست کے اہل ہیں جبکہ سید، پٹھان، عرب اور دیگر طبقات بھی استفادہ کے اہل ہیں۔ اسی دوران اسکیم کے پہلے مرحلہ میں منتخب کئے گئے 211طلباء میں 183 طلباء کو  پہلی قسط کی رقم 5 لاکھ روپئے جاری کردی گئی جبکہ باقی طلباء کیلئے رقم کی اجرائی کا معاملہ ٹریژری میں زیر دوراں ہے۔ بعض طلباء نے ابھی تک ضروری دستاویزات اَپ لوڈ نہیں کئے ہیں۔ اسی دوران عہدیداروں نے بتایا کہ پہلے مرحلہ میں تاخیر سے وصول ہونے والی 40 درخواستوں میں سے 26کو مستحق قرار دیا گیا ہے اور حکومت کی منظوری کے ساتھ ہی پہلی قسط کی رقم جاری کردی جائیگی۔ دوسرے مرحلہ میں درخواستوں کے ادخال کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔

TOPPOPULARRECENT