Friday , May 25 2018
Home / شہر کی خبریں / اوور سیز اسکالر شپ اسکیم میں طلباء کے نشانات کو نظر انداز کرنے کی شکایت

اوور سیز اسکالر شپ اسکیم میں طلباء کے نشانات کو نظر انداز کرنے کی شکایت

سلیکشن کمیٹی نے نشانات کے فیصد کو ملحوظ نہیں رکھا ، از سر نو جائزہ لینے عمر جلیل کا تیقن
حیدرآباد ۔19۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) اقلیتی طلبہ کیلئے بیرون ملک تعلیم سے متعلق اوورسیز اسکالرشپ اسکیم کیلئے امیدواروں کے انتخاب میں بعض طلبہ کے نشانات کو نظر انداز کرنے کی شکایت ملی ہے۔ اگرچہ اسٹیٹ لیول سلیکشن کمیٹی نے اہل امیدواروں کی عبوری فہرست تیار کرلی ہے، تاہم سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے تیقن دیا کہ تمام درخواست گزاروں کے نشانات کا از سر نو جائزہ لیا جائے، جن کے نشانات 60 فیصد سے زیادہ ہیں ، انہیں مستحق طلبہ کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اسکیم کے تحت تمام مستحق طلبہ اسکالرشپ جاری کرنے کی ہدایت دی ہے۔ سلیکشن کمیٹی نے 534 درخواستوں میں سے 335 امیدواروں کا انتخاب کیا ہے، جن میں 39 طالبات ہیں۔ دو امیدوار پی ایچ ڈی کی تکمیل کیلئے بیرون ملک روانہ ہوں گے جبکہ 333 امیدوار پوسٹ گریجویشن کورسس کے ہیں۔ فہرست کی تیاری کے بعد اسے جاری نہیں کیا گیا کیونکہ اسکالرشپ کی اجرائی کیلئے حکومت سے زائد بجٹ کی درخواست کی گئی ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود نے جاریہ سال کے 40 کروڑ کے علاوہ مزید 25 کروڑ کی اجرائی کی سفارش کی ہے تاکہ تمام طلبہ کو پہلی قسط کے طور پر 10 لاکھ روپئے جاری کئے جاسکیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے بجٹ کی اجرائی کے بعد ہی فہرست جاری کی جائے گی۔ اسی دوران بعض طلبہ کو شکایت ہے کہ سلیکشن کمیٹی نے ان کے نشانات کے فیصد کو ملحوظ نہیں رکھا ہے۔ اس سلسلہ میں بعض اولیائے طلبہ نے سکریٹری اقلیتی بہبود سے نمائندگی کی جنہوں نے اس معاملہ کا جائزہ لینے کا تیقن دیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پھر ایک بار تمام درخواستوں کی جانچ کرتے ہوئے اہل طلبہ کی موجودگی کی صورت میں ان کے نام فہرست میں شامل کئے جائیں گے۔ سلیکشن کمیٹی کے اجلاس کے فوری بعد درخواست گزار طلبہ اور ان کے والدین اقلیتی بہبود کے دفاتر میں فہرست کے بارے میں معلومات حاصل کر رہے ہیں۔ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس نے بتایا کہ انہیں ابھی تک منظورہ فہرست حاصل نہیں ہوئی ۔ اولیائے طلبہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ درخواستوںکی جانچ کرتے ہوئے طلبہ کے نشانات کا از سر نو جائزہ لیا جائے اور منظورہ فہرست میں طلبہ کے نام کے ساتھ نشانات کا فیصد درج کیا جائے تاکہ غیر منتخب طلبہ کو کوئی شکایت نہ رہے۔

TOPPOPULARRECENT