Saturday , December 16 2017
Home / Top Stories / اوول آفس میں ریالٹی شو نہیں ہوگا : اوباما

اوول آفس میں ریالٹی شو نہیں ہوگا : اوباما

President Barack Obama talks with Jimmy Kimmel in between taping segments of Jimmy Kimmel Live! at the El Capitan Entertainment Center in Los Angeles, Monday, Oct. 24, 2016. (AP Photo/Susan Walsh)

خواتین محض جنسی تسکین کا نام نہیں، ہلاری کے پاس تجربہ، تحمل، مسلمان غیر نہیں
واشنگٹن ۔ 25 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر بارک اوباما نے ایک بار پھر امریکی عوام سے اپیل کی کہ وہ بھاری اکثریت کے ساتھ ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار ہلاری کلنٹن کو کامیاب اور ریپبلکن امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کو شکست کا مزہ چکھائیں کیونکہ ملک وائیٹ ہاؤس کے اوول آفس میں ریالٹی شو کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ کیلیفورنیا میں ایک استقبالیہ کے دوران اپنے خطاب میں اوباما نے کہا کہ 68 سالہ ہلاری ایک قابل امیدوار ہیں جنہوں نے اپنی تیاریاں مثبت انداز میں کی ہیں۔ ان کے پاس صبروتحمل اور کام کرنے کے آداب بھی موجود ہیں لہٰذا یہ کہنا مناسب ہوگا کہ ہلاری، ٹرمپ سے کہیں زیادہ بہتر ہیں اور دوسری طرف ایک ایسا شخص ہے جس کے بارے میں زیادہ بولنا مناسب نہیں ہے۔ اوباما کا اشارہ ٹرمپ کی جانب تھا کیونکہ جب جب ٹرمپ نے زبان کھولی ہے آپ لوگ خود ہی سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ بڑبولا امریکی صدر کے عہدہ پر فائز ہونے کا ہرگز مستحق نہیں۔ اوباما نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ خاتون اول مشیل بھی اس وقت مختلف انتخابی  ریالیوں میں شرکت کررہی ہیں

کیونکہ ان کا بھی یہی کہنا ہیکہ یہ الیکشن ملک  کیلئے انتہائی اہم ہیں۔ جیسا کہ میں سمجھتا ہوں بالکل اسی طرح مشیل بھی سمجھتی ہیں کہ اس الیکشن میں امریکہ کی اقدار داؤ پر لگی ہوئی ہے اور ہمیں ہمارے بنیادی معیار کو قائم رکھنا ہے جس میں سب سے اہم عوام کے ساتھ ہمارا برتاؤ ہے۔ کیا ہم ایسے لوگوں سے جن کی مذہبی شناخت علحدہ ہے، مساویانہ سلوک کرتے ہیں؟ کیا اسے ہم امریکہ کی روایت سمجھتے ہیں؟ یا پھر ہم انہیں ’’غیر‘‘ اور حقیقی امریکی نہیں سمجھتے اور اسی وجہ سے ہم ان کے ساتھ علحدہ طرز کا برتاؤ کرتے ہیں۔ ایک ایسے وقت جب قانون کا اطلاق سب شہریوں پر یکساں ہونے کا وقت آتا ہے۔ کیا ہم خواتین کو ان کا جائز مقام دیتے ہیں یا پھر انہیں محض ایک جنسی تسکین کی شئے سمجھتے ہیں۔ کیا ہم اپنے ملک کے دستور کو اپنا بنیادی حق نہیں سمجھتے جس میں تمام مذاہب  اور فرقے کے لوگوں کو آزادی سے زندگی گذارنے کی اطمانیت دی گئی ہے

یا پھر ہم اپنی مرضی سے اپنی آسانی کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک کے دستورکا غلط استعمال کرتے ہیں؟ یا پھر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ صدارتی انتخابات صرف ایک ریالٹی شو ہے جہاں حقائق کو جانے بغیر جو بھی منہ میں آیا اناپ شناپ بول دیا؟ ان تمام سوالات کے پس پشت اوباما نے دراصل ٹرمپ کو نشانہ بنایا کیونکہ ٹرمپ اب تک یہی سب کچھ کرتے آئے ہیں جنہوں نے امریکی عوام کو شرمسار کردیا ہے۔ لہٰذا میرا اور مشیل کا یہی نظریہ ہیکہ یہ سب اوول آفس میں ہونے نہیں دیا جائے گا۔ جب میں نے 2008ء کے انتخابات میں حصہ لیا تھا تو میں ایک پرفیکٹ  آدمی نہیں تھا اور یہی سوچا کرتا تھا کہ میں ایک پرفیکٹ صدر بھی ثابت نہیں ہوسکوں گا۔ تاہم صدر بننے کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ یہ ایک انتہائی سنجیدہ اور متانت والی ذمہ داری ہے جسے ہمیں پورا کرنا ہے کیونکہ پورے ملک کی توقعات آپ سے وابستہ ہوتی ہیں خصوصی طور پر بچے صدر کو اپنا آئیڈیل سمجھنے لگتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT