Wednesday , September 19 2018
Home / کھیل کی خبریں / اوول ٹسٹ میںقطعی گیارہ کھلاڑیوں کا انتخاب دھونی کیلئے مسئلہ

اوول ٹسٹ میںقطعی گیارہ کھلاڑیوں کا انتخاب دھونی کیلئے مسئلہ

اوول 13 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) انگلینڈ کے خلاف پانچ ٹسٹ مقابلوں کی سیریز میں ابتدائی سبقت گنوانے کے بعد ہندوستان کو شکست کا خطرہ ہے اور سیریز میں اِسے 1-2 کا خسارہ ہے جبکہ سیریز کا پانچواں اور آخری مقابلہ 15 اگسٹ کو اوول میں شروع ہوگا جس کے لئے ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کے ناقص مظاہروں کے علاوہ آخری مقابلہ کے لئے قطعی گیارہ کھلاڑیو

اوول 13 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) انگلینڈ کے خلاف پانچ ٹسٹ مقابلوں کی سیریز میں ابتدائی سبقت گنوانے کے بعد ہندوستان کو شکست کا خطرہ ہے اور سیریز میں اِسے 1-2 کا خسارہ ہے جبکہ سیریز کا پانچواں اور آخری مقابلہ 15 اگسٹ کو اوول میں شروع ہوگا جس کے لئے ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کے ناقص مظاہروں کے علاوہ آخری مقابلہ کے لئے قطعی گیارہ کھلاڑیوں کا انتخاب ٹیم کے کپتان مہندر سنگھ دھونی کے لئے اہم مسئلہ بن چکا ہے۔ گزشتہ دو مقابلوں کے دوران ہندوستانی ٹیم کو بولنگ اور بیاٹنگ دونوں شعبوں میں مسائل کا سامنا رہا ہے۔

جیسا کہ ہندوستانی بیٹسمین بہتر اسکور بنانے میں ناکام رہے تو دوسری جانب مہمان بولروں نے بھی حریف بیٹسمنوں کو کھل کر رنز بنانے کا موقع فراہم کیا۔ ہندوستانی ٹیم کو اوول ٹسٹ میں کامیابی کے علاوہ دوسرا کوئی نتیجہ سوچنا بھی نہیں ہے کیونکہ مقابلہ اگر ڈرا بھی ہوتا ہے تو اِسے سیریز میں شکست ہوگی۔ اہم ترین مقابلے کیلئے قطعی گیارہ کھلاڑیوں کا انتخاب مہندر سنگھ دھونی اور ٹیم انتظامیہ کے لئے سنگین نوعیت کا مسئلہ بن چکا ہے اور روی چندرن اشون کے ہمراہ رویندر جڈیجہ میں کسی ایک کا انتخاب کپتان کے لئے سب سے اہم موضوع ہے کیونکہ سیریز میں مسلسل تمام مقابلوں میں شرکت کے باوجود جڈیجہ قابل ذکر مظاہرہ نہیں کرپائے ہیں جبکہ گزشتہ مقابلے میں اشون کو بھی ٹیم میں شامل کیا گیا تھا تاہم وہ وکٹ لینے میں ناکام ضرور رہے جبکہ دونوں اننگز میں اُنھوں نے 40 سے زائد رنز اسکور کئے ہیں۔

مانچسٹر میں منعقدہ چوتھے ٹسٹ میں اشون نے رنز اسکور کئے ہیں لیکن اِن کی ٹیم میں شمولیت بحیثیت اسپنر ہوئی ہے اور وہ اپنے اصل کردار کو ادا کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ فاسٹ بولنگ شعبہ میں محمد سمیع اور پنکج سنگھ کے درمیان کسی ایک کا انتخاب اہم مسئلہ بن چکا ہے کیونکہ فاسٹ بولر محمد سمیع دورہ انگلینڈ پر بہتر مظاہرہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائے ہیں جبکہ پنکج سنگھ کو بھی پہلی وکٹ حاصل کرنے کے لئے تقریباً 250 رنز کی قربانی دینی پڑی ہے۔ پنکج سنگھ نے دو مقابلوں کے دوران اپنے کچھ اسپل میں بہتر مظاہرہ ضرور کیا ہے لیکن جب ٹیم کو وکٹوں کی ضرورت تھی اُس موقع پر وہ کامیاب نہیں ہوپائے ہیں۔ امکان ہے کہ اہم مقابلے کے لئے مہندر سنگھ دھونی پنکج سنگھ پر تجربہ کار اور جارحان فاسٹ بولر محمد سمیع کو ترجیح دیں گے۔

مہندر سنگھ دھونی کے لئے ایک اور مشکل ترین فیصلہ اوپنرس کے انتخاب کا ہے کیونکہ دہلی کے دو اوپنرس شکھر دھون اور گوتم گمبھیر ٹیم کو بہتر شروعات فراہم کرنے میں کامیاب نہیں ہوپارہے ہیں۔ شکھر دھون مسلسل ناکام ہورہے ہیں جبکہ دورہ انگلینڈ پر وہ تین ٹسٹ مقابلوں میں انفرادی طور پر کوئی بڑا اسکور نہیں کرپائے ہیں اور نہ ہی مرلی وجئے کے ہمراہ ٹیم کو بہتر شروعات فراہم کرنے میں کامیاب ہوپائے ہیں۔ دھون کی ناکامی کے بعد مانچسٹر ٹسٹ میں گوتم گمبھیر کو موقع دیا گیا تھا تاہم وہ دیگر بیٹسمنوں کی طرح خود بھی بڑا اسکور بنانے میں کامیاب نہیں ہوپائے ہیں۔ ہندوستانی ٹیم جس کی اصل طاقت بیاٹنگ کے علاوہ اسپن بولنگ تصور کی جاتی ہے لیکن روی چندرن اشون اور رویندر جڈیجہ مسلسل ناکام ہورہے ہیں جس کے باوجوددھونی کی جڈیجہ کو حاصل ہونے والی حمایت کو اب تنقید کا نشانہ بنایاجارہاہے۔

TOPPOPULARRECENT