Friday , October 19 2018
Home / Top Stories / اوڈیشہ میں سائیکلون سے 60 لاکھ افراد متاثر

اوڈیشہ میں سائیکلون سے 60 لاکھ افراد متاثر

بھوبنیشور 12 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) حکومت اوڈیشہ نے جمعہ کو این ڈی آر ایف اور او ڈی آر ایف کے پرسونل کو تعینات کردیا تاکہ بنیادی طور پر اُن تین اضلاع میں بچاؤ اور راحت کاری آپریشن میں شدت پیدا کی جاسکے جہاں بھاری بارشوں اور طوفان تتلی کے سبب آئے سیلاب سے زائداز 60 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ سرکاری ذرائع نے کہاکہ جنوبی اوڈیشہ کے تین اضلاع گنجام، گجپتی اور رائے گڈہ میں سیلاب کی صورتحال مایوس کن ہے کیوں کہ بڑی دریاؤں جیسے رُشی کُلیا اور بنسا دھارا میں پانی کی سطح خطرہ کے نشان کو عبور کرچکی ہے۔ اِن اضلاع میں سائیکلون تتلی کے زیراثر تین دنوں تک بے تحاشہ بارش ہوئی جس کے نتیجہ میں جمعرات کی صبح گنجام میں گوپال پور کے قریب پلاسا میں زمینی تودے کھسک گئے۔ اسپیشل ریلیف کمشنر بی پی سیٹھی نے کہاکہ بالاسور ضلع کے لوگ بھی اِس سیلاب سے متاثر ہیں۔ راحت کاری اور بچاؤ کاموں میں شدت پیدا کرنے کے تحت نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس اور اوڈیشہ ڈیزاسٹر ریاپڈ ایکشن فورس کو تعینات کرنے کا فیصلہ اعلیٰ سطح کی میٹنگ میں کیا گیا جہاں چیف منسٹر نوین پٹنائک نے ریاست کو لپیٹ میں لینے والے نہایت شدید طوفان کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ گنجام ، گجپتی اور رائے گڈہ کے ضلع کلکٹرس کے ساتھ ویڈیو کانفرنس میں پٹنائک نے بچاؤ اور راحت کاری آپریشن کو جنگی خطوط پر انجام دینے کی ہدایات دیں کیوں کہ عوام کی مشکلات سائیکلون اور سیلاب کی دوہری مصیبتوں کے سبب کئی گنا بڑھ چکی ہیں۔

سمندری طوفان تتلی مغربی بنگال میں داخل ، اوڈیشہ میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ
بھوبنیشور ؍ برہمپور ۔ 12 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) سمندری طوفان تتلی سے اوڈیشہ میں ہلاکتوں کی تعداد آج تین ہوگئی جبکہ مزید دو نعشیں ضلع گنجام سے دستیاب ہوئیں جبکہ طوفان تتلی اوڈیشہ سے گذر کر مغربی بنگال میں داخل ہوگیا۔ دو نعشوں میں سے ایک ماہی گیر کی ہے جس نے سمندر میں دور تک جانے کی کوشش کی تھی۔ دوسری نعش ایک 45 سالہ آدمی کی ہے اور دیہات بھوتا پنکال سے دستیاب ہوئی ہے۔ پانچ افراد اس دیہات سے لاپتہ ہیں۔ حکومت اوڈیشہ تاہم ہنوز ان اموات کی تصدیق کرنے سے قاصر رہی ہے۔ بچاؤ کارروائیوں میں شدت پیدا کردی گئی ہے اور ان کے دائرہ کار میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ تین اضلاع میں سیلاب کی صورتحال سنگین ہے کیونکہ ذخائر آب کی سطح آب میں اضافہ ہوگیا ہے۔ دریائیں رشی کلیا اور ومسادھارا خطرہ کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT