Tuesday , June 19 2018
Home / جرائم و حادثات / اوڈین تھیٹر دھماکہ مقدمہ کا ملزم بری

اوڈین تھیٹر دھماکہ مقدمہ کا ملزم بری

ایس آئی ٹی محمد ضیاء الحق کیخلاف جرم ثابت کرنے میں ناکام

ایس آئی ٹی محمد ضیاء الحق کیخلاف جرم ثابت کرنے میں ناکام
حیدرآباد 25 نومبر (سیاست نیوز) نامپلی کریمنل کورٹ کے فرسٹ ایڈیشنل میٹرو پولیٹین سیشن جج نے اوڈین تھیٹر دھماکہ کیس کے ملزم محمد ضیاء الحق کو آج بری کردیا ۔ 7 مئی 2006 میں آر ٹی سی کراس روڈ پر واقع اوڈین تھیٹر میں گرینیڈ بم دھماکہ ہوا تھا جس میں دو افراد رادھیکا اور رمیش ساکن چکڑ پلی زخمی ہوگئے تھے۔ اس کیس کو اس وقت کے کمشنر پولیس حیدرآباد مسٹر اے کے موہنتی نے اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) کے حوالے کردیا تھا اور طویل عرصہ تک اس کیس میں کوئی سراغ نہ مل سکا ۔ 4 مئی سال 2010 ء کو بھوانی نگر پولیس نے ٹیکسی ڈرائیور محمد ضیاء الحق عرف ابو عبداللہ عرف جانی کو عیدی بازار علاقہ سے گرفتار اور اس کے قبضہ سے چین میں تیار شدہ دو ہینڈ گرینیڈس اور 7.4 ایم ایم پستول اور چھ کارتوس برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا ۔ ضیاء الحق کی گرفتاری کے بعد اس کیس کو نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے ) کے حوالے کردیا گیا تھا۔ جبکہ اوڈین تھیٹر بم دھماکہ کیس کی تحقیقات ایس آئی ٹی نے کی ۔ تحقیقات کے دوران این آئی اے نے دعوی کیاتھا کہ محمد ضیاء الحق نے ہی جس کا تعلق پاکستانی تنظیم لشکر طیبہ سے ہے ، اوڈین تھیٹر میں ہینڈ گرینیڈ کے ذریعہ دھماکہ کیا تھا جس کے نتیجہ میں دو افراد زخمی ہوگئے تھے جبکہ ایس آئی ٹی نے ملزم کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی اور استغاثہ نے کیس کی سماعت کے دوران 23 گواہوں کو عدالت میں پیش کیا تھا اور ان گواہوں کے بیانات قلمبند کئے گئے ۔ وکیل دفاع سینئر کریمنل ایڈوکیٹ مسٹر محمد مظفر اللہ خان نے اپنی بحث میں یہ دلائل پیش کئے کہ ان کے موکل کو تھیٹر دھماکہ میں غلط ماخوذ کیا گیا ہے اور اس کیس سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ سیشن جج نے استغاثہ اور وکیل دفاع کی بحث کے بعد آج محمد ضیاء الحق کو بری کردیا اور ایس آئی ٹی ملزم کے خلاف جرم ثابت کرنے میں ناکام رہی۔ واضح رہے کہ سابق میں این آئی اے کے کیس میں نامپلی کریمنل کورٹ کے سیشن جج نے ضیاء الحق کو 7 سال کی سزاء سنائی تھی اور ایک ہزار روپئے جرمانہ عائد کیا تھا چنانچہ اِس مقدمہ میں بری کئے جانے کے باوجود انھیں جیل میں ہی رکھا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT