Tuesday , December 19 2017
Home / Top Stories / او آر او پی اسکیم سے سرکاری خزانہ پر 8000 تا 10000 کروڑ روپئے کا زائد مالی بوجھ

او آر او پی اسکیم سے سرکاری خزانہ پر 8000 تا 10000 کروڑ روپئے کا زائد مالی بوجھ

مالیاتی ڈسپلن برقراری کو کوئی خطرہ نہیں، 6.5 لاکھ بیواؤں اور 27 لاکھ دفاعی اہلکاروں کو فائدہ : جینئت سنہا

نئی دہلی ۔ 7 ستمبر(سیاست ڈاٹ کام) حکومت نے فوجیوں کیلئے ایک رتبہ ایک وظیفہ (او آر او پی) اسکیم کے پیش نظر سرکاری خزانہ پر 8,000 تا 10,000 کروڑ روپئے کے زائد مالی بوجھ سے مالیاتی استحکام کو لاحق اندیشوں کو مسترد کردیا اور کہا کہ اس بوجھ کو برداشت کرنے کی گنجائش ہے۔ مملکتی وزیر فینانس جینئت سنہا نے پی ٹی آئی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارے پاس مالیاتی خسارہ میں تخفیف کا نشانہ کو زائد مالیاتی بوجھ کے اثرات سے محفوظ رکھنے کیلئے موزوں مالیاتی گنجائش دستیاب ہے۔ چنانچہ اس کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہی او آر او پی اسکیم سے اتفاق کیا گیا ہے‘‘۔ مرکز نے گذشتہ ایک ہی رتبہ پر ایک ہی مدت تک خدمات کی انجام دہی کے بعد سبکدوش ہونے والے فوجیوں کیلئے ایک رتبہ ایک وظیفہ اسکیم کی منظوری کا اعلان کیا تھا جس پر یکم ؍ جولائی 2014ء سے عل آوری ہوگی۔ مملکتی وزیرفینانس نے کہا کہ حکومت نے اس مسئلہ پر کبھی بھی عدم اتفاق نہیں کیا تھا بلکہ لیکن اس اسکیم کو قطعیت دینے میں محض اس لئے تاخیر ہوئی کہ حکومت چاہتی تھی کہ اس میں کوئی خامی باقی نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ یکم ؍ جولائی سے بقایا جات کی ادائیگی اور اس سے سرکاری خزانہ پر پڑنے والے بوجھ کا تخمینہ کیا جاچکا ہے۔ رواں سال کے دوران اس اسکیم پر عمل آوری سے 8000 تا 10000 کروڑ روپئے کا زائد مالی بوجھ عائد ہوگا۔ حکومت کی طرف سے معلنہ او آر او پی اسکیم کے مطابق دفاعی اہلکاروں کے وظائف پر ہر پانچ سال میں ایک مرتبہ نظرثانی کی جائے گی۔ چار ششماہی اقساط میں بقایاجات ادا کئے جائیں گے۔ تاہم تمام جنگی شہید سپاہیوں کی بیواؤں اور دیگر متوفی سپاہیوں کی بیوگان کو ایک مشت بقایا جات ادا کئے جائیں گے۔ جینئت سنہا نے مزید کہا کہ بہادر سپاہیوں کو وعدہ کے مطابق اور آر او پی کے مطابق وظائف کی فراہمی کے ساتھ بجٹ پر مرتب ہونے والے اس اثرات کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس اسکیم پر عمل آوری کے ساتھ مالیاتی ڈسپلن کی برقراری کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اسکیم سے جنگی شہید سپاہیوں کی 6.5 بیواؤں کے علاوہ 27 لاکھ دفاعی اہلکاروں کو فائدہ پہنچے گا۔ اس کے مالی بوجھ کو برداشت کرنے کیلئے ہمارے پاس کافی گنجائش ہے۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ ہم اس اضافی بوجھ کی پابجائی کا راستہ تلاش کرلیں گے۔ واضح رہے کہ رواں مالیاتی سال حکومت نے مالیاتی خسارہ کو مجموعی گھریلو پیداوار کا 3.9 فیصد تک محدود کرنے کا نشانہ مقرر کی ہے۔ ایک علی الحساب مالیاتی روڈمیاپ کے مطابق سال 2017-18ء تک مالیاتی خسارہ کو مجموعی گھریلو پیداوار کے تین فیصد حصہ تک گھٹانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT