Sunday , November 19 2017
Home / ہندوستان / او بی سیز کی ذیلی زمرہ بندی کا جائزہ لینے کی توثیق

او بی سیز کی ذیلی زمرہ بندی کا جائزہ لینے کی توثیق

خوشحال طبقہ کی سالانہ آمدنی کی حد 6 لاکھ سے بڑھاکر 8 لاکھ روپئے کی گئی: ارون جیٹلی
نئی دہلی۔23 اگست (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے آج انکشاف کیا کہ کابینہ عنقریب ایک کمیشن تشکیل دے گی جو محفوظ زمروں کی مرکزی فہرست میں دیگر پسماندہ طبقات (او بی سیز) کی ذیلی زمرہ بندی کا جائزہ لے گا۔ جیٹلی نے سالانہ آمدنی کی حد بھی بڑھادی جو او بی سیز میں خوشحال طبقے کو طے کرے گی۔ یہ حد 6 لاکھ روپئے سے بڑھاکر 8 لاکھ روپئے کی گئی ہے۔ یہ ان کے لیے ہے جو مرکزی حکومت کے نوکریوں میں تحفظات چاہتے ہیں۔ آج کابینی اجلاس کے بعد میڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے جیٹلی نے یہ بھی کہا کہ سرکاری شعبہ کے اداروں تک اس فیصلے کو وسعت دینے کی تجویز سرگرمی سے حکومت کے زیر غور ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان میں کئی ریاستوں بشمول آندھراپردیش، تلنگانہ، جھارکھنڈ، مغربی بنگال اور جموں و کشمیر کے جموں خطہ میں پہلے ہی ریاستی حکومت کی نوکریوں میں اس طرح کی زمرہ بندی کی جاچکی ہے۔ تاہم مرکزی فہرست میں ابھی کوئی ذیلی زمرہ بندی نہیں ہے۔ مجوزہ کمیشن اپنی رپورٹ چیرپرسن کے تقرر کے دن سے اندرون 12 ہفتے پیش کرے گا۔ اس کمیشن کو مفوضہ اہم کام یہ جائزہ لینا ہوگا کہ مختلف ذاتوں اور برادریوں میں ریزرویشن کے قواعد کو کس حد تک مساویانہ تقسیم کیا جائے۔ اس ضمن میں مرکزی فہرست میں او بی سیز کے وسیع زمروں کو شامل کیا گیا ہے۔ دریں اثناء قومی کمیشن برائے پسماندہ طبقات (این سی بی سی) نے حکومت کو پیش کردہ اپنی رپورٹ میں یہ سفارش کی تھی کہ او بی سیز کو 3 ذیلی زمروں میں تقسیم کیا جائے جو نہایت پسماندہ طبقات (گروپ A) ، زیادہ پسماندہ طبقات (گروپ B ) اور پسماندہ طبقات (گروپ C ) ہوں ۔

TOPPOPULARRECENT