Thursday , November 15 2018
Home / Top Stories / اُتراکھنڈ میں ہائیکورٹ گایوں کا قانونی محافظ

اُتراکھنڈ میں ہائیکورٹ گایوں کا قانونی محافظ

ریاست بھر میں گاؤ شالائیں قائم کرنے حکومت کو ہدایت

دہرہ دون۔ 15 اگست (سیاست ڈاٹ کام) عدالت اب اُتراکھنڈ میں گایوں کی قانونی محافظ کا رول ادا کرے گی۔ گایوں سے متعلق تمام مسائل پر بھی عدالت غور کرے گی، خاص کر گایوں کے تحفظ کیلئے وہ خصوصی ہدایات بھی جاری کرے گی۔ سینئر وکیل نے کہا کہ اُتراکھنڈ ہائیکورٹ نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ ریاست کی تمام گایوں کی قانونی محافظ کے طور پر کام کرے گی۔ اس نے ریاستی حکومت کو 31 ہدایتیں جاری کی ہیں اور کہا ہے کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست کے کونے کونے میں گاؤ شالائیں قائم کرے۔ 25 مواضعات میں ہر ایک مرکز کیلئے گاؤ شالہ ہونا ضروری ہے۔ جن لوگوں نے اپنے مویشیوں کو چھوڑ دیا ہے، ان کے خلاف مقدمات درج کئے جائیں گے۔ عدالت نے ملک کے سرپرست نظریہ کا اطلاق کرتے ہوئے یہ اختیار دیا ہے کہ وہ خود کو سرپرست اتھارٹی کے طور پر ذمہ دار بنائے۔ سینئر ایڈوکیٹ ڈی کے جوشی نے وضاحت کی کہ عدالت اب ریاست میں گایوں کی قانونی نگران کار کی حیثیت سے کام کرے گی اور اس سے متعلق تمام مسائل کا بھی جائزہ لے گی۔ اس کیس میں ریاستی حکومت کی پیروی کرتے ہوئے پریش ترپاٹھی نے کہا کہ سرپرست نظریہ کے اطلاق کے ذریعہ ہائیکورٹ اب بے زبان گایوں کی آواز بن گیا ہے اور ریاست میں آوارہ مویشیوں کا محافظ بھی ہوگیا ہے۔ 40 صفحات کے احکام میں بینچ کے کارگذار سربراہ چیف جسٹس راجیو شرما اور جسٹس منوج کمار تیواری نے انیمل ویلفیر قانون اور قومی اور بین الاقوامی دستاویزات ہندو مذہب کے مواد کے حوالے سے فیصلہ دیا ہے کہ جانوروں کا تحفظ اور بہبود، انسانیت کی اخلاقی ترقی کا حصہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT