Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / اُتر پردیش میں سماجوادی پارٹی حکومت کا زوال یقینی

اُتر پردیش میں سماجوادی پارٹی حکومت کا زوال یقینی

انتخابی وعدوں کی تکمیل اور فسادات کی روک تھام میں ناکامی۔ اسد اویسی کا تاثر
لکھنؤ۔10 اکٹوبر (سیاست نیوز) حکومت اتر پردیش کے خلاف جاری مخالف لہر سیاسی جماعتوں کے اتحاد سے ختم نہیں ہوسکتی ۔ حکومت نے عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا نہیں کیا ہے اور نہ ہی فرقہ وارانہ فسادات کو روکنے کی کوشش کی گئی ہے۔ رکن پارلیمنٹ حیدرآباد اسد الدین اویسی نے یہ بات کہی۔انہوں نے مجوزہ عظیم اتحاد کے متعلق کہا کہ سماج وادی پارٹی کے خلاف جاری عوامی مخالفت کو سیاسی جماعتو ںکے اتحاد سے کم نہیں کیا جا سکے گا۔ اسد اویسی جو کہ اترپردیش انتخابات میں حصہ لینے کیلئے اپنی پارٹی کو تیار کرچکے ہیں نے بتایا کہ ان کی ریاستی یونٹ اس سلسلہ میں مشاورت کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے اکھلیش اور شیو پال یادو کے درمیان اختلافات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملائم خاندان میں سب ساتھ نظر آرہے ہیں لیکن ان کے دل نہیں مل رہے ہیں۔ رکن پارلیمنٹ حیدرآباد نے کہا کہ اتر پردیش میں ملائم خاندان کے اختلافات کے علاوہ عوام میں حکومت کے خلاف جاری لہر کو ختم کرنا اتنا آسان نہیں ہے کیونکہ سماج وادی پارٹی نے اترپردیش میں فرقہ وارانہ فسادات کو روکنے میں کامیابی حاصل نہیں کی اور نہ ہی انتخابات سے قبل کئے گئے وعدوں کو پورا کیا گیابلکہ صرف یادو خاندان کیلئے حکومت نے کام کیا ہے ۔ اسداویسی نے مزید کہا کہ سیاسی جماعتوں کا عظیم اتحاد‘ ملائم خاندان کے تنازعات اور مخالف عوام لہر کا سامنا نہیں کر پائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اکھلیش اور شیوپال کے دست و گریباںہونے کے نظارے عوام کے ذہنوں میں ہیں۔ انہوں نے سماج وادی پارٹی کی سلور جوبلی تقاریب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین جو متوقع عظیم اتحاد کا حصہ ہو سکتے ہیں ان کی موجودگی میں بھی شیو پال یادو اور اکھلیش نے ایک دوسرے سے ملاقات کی زحمت نہیں کی جس کے اختلافات کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اسد اویسی جو کہ اتر پردیش میں کچھ جلسوں سے مخاطب کرتے ہوئے انتخابات کے دوران حاصل ہونے والے ردعمل کا جائزہ لے رہے ہیں نے کہا کہ ان کی پارٹی اترپردیش انتخابات میں حصہ لینے کے متعلق مشاورت کر رہی ہے اور اس کا فیصلہ ریاستی یونٹ کی جانب سے جاری مشاورت کی تکمیل کے بعد کیا جائے گا۔ اطلاعات کے بموجب اس سلسلہ میں قطعی فیصلہ کیا جا چکا ہے لیکن اس کی توثیق کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے تاکہ حکمت عملی کا انکشاف نہ ہو جائے اور عظیم اتحاد کے آثار کا دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی انتظار کیا جا رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT