Saturday , June 23 2018
Home / Top Stories / اُردوہرٹیج فیسٹول۔ کناٹ پیلس پارک میں شائقین محضوظ

اُردوہرٹیج فیسٹول۔ کناٹ پیلس پارک میں شائقین محضوظ

نئی دہلی۔چھ روزہ اُردو ہرٹیج فیسٹول کی جمعرات کے روز سے شروع ہوئی اور منتظمین نے بتایا کہ بڑح پیمانے پر لوگ اس فیسٹول میں پہنچ رہے ہیں۔ سال2010سے یہ فیسٹول دہلی میں منعقد کیاجارہا ہے ‘ بہت سارے لوگوں کو اس کے متعلق معلومات نہیں ہوتی تھی کیونکہ یہ ماضی میں لال قلعہ کے لائنس میں منعقد کیاجاتاتھا۔

جمعہ کی دوپہر میں کناٹ پیلس سنٹرل پارک آنے والے حیرت زدہ ہوگئے۔ عام طور پر لوگ یہا ں انفرادی طور پر یہ اپنے دوست احباب کے ساتھ چہل قدمی کے لئے آتے مگر اس روز وہ یہاں پر قوالی کے دھن پر تھرکتے ہوئے نظر ائے۔محکمہ آرٹس‘ کلچر اور لسانیت کے عہدیداروں نے بتایا کہ چھ روزہ اُردو ہرٹیج فیسٹول کی جمعرات کے روز سے شروع ہوئی اور منتظمین نے بتایا کہ بڑح پیمانے پر لوگ اس فیسٹول میں پہنچ رہے ہیں۔

مذکورہ محکمہ نے دہلی اُردواکیڈیمی کے اشتراک سے اُردو ہرٹیج اور کلچر کے جشن کا انعقاد عمل میں لایاہے۔ فیسٹول کی افتتاحی شب ممتاز غزل گلوکار طلعت عزیز کی غزلیات پیش کی گئی جس کو سننے کے بعد تقریبا1500لوگ جمع ہوئے تھے۔ دوسرے روز بھی ’جشن وراثت اُردو‘کاٹیلنٹ گروپ دہلی کے بچوں کی پیش کش کے ذریعہ شروعات عمل میں ائی‘ جس میں بچوں نے ’’ قصہ بچپن کی کہانیوں کو پیش کرتے ہوئے سامعین کو محضوظ کیا۔اس پیش کش میں بچوں نے قدیم زمانے میں بچوں کے کھیل کودکے طریقے اور موجودہ دور کے بچوں کے مشغلوں کے درمیان کے فرق کو اجاگر کیا۔فیسٹول میں پہنچی پوجا نے کہاکہ’’ ہم سنٹرل پارک کو روز آے ہیں۔

مگر اس طرح کے تقریب میں بہت ہی کم ہم نے چہل قدمی کی ہے۔ یہ ہمارے لئے کسی خوشگوار حیرت سے کم نہیں ہے‘‘۔ ایم سی ڈی اسکولی بچوں کے اس مظاہرے کے بعد اترپردیش کے قوالی گلوکاروں سرفراز چشتی اور ساتھیو ں نے اسٹیج سنبھالا۔ اس گروپ نے شائقین کا دل مشہور قوالیوں جیسے ’مولی علی‘ اور جو مجھ میں بولتا ہیں میں نہیں ہیں‘‘ کے علاوہ ’دما دم مست قلندر‘ پر بہترین موسیقی پیش کرتے ہوئے جیت لیا۔اپنی دوست کے ساتھ یہاں پر ائی سمن شرما نے کہاکہ ’’ عام طور پر ہم اس طرح کے پروگراموں میں شرکت کرنا چاہتے ہیں مگر ٹکٹ حاصل کرنا آسان نہیں ہے۔

اس فیسٹول میں مفت داخلہ ہے‘‘۔منتظمین کا کہنا ہے کہ دہلی میں سال2010سے اس فیسٹول کا انعقاد عمل میں آتا ہے مگر کئی لوگ اس کے متعلق نہیں جانتے کیونکہ یہ لال قلعہ کا میدان میں منعقد کیاجاتا تھا۔ ایسا پہلی بار ہوا کہ پروگرام قلب شہر میں منعقد کیاگیا ہے۔ منتظمین نے کہاکہ تقریب کا مقام کافی مشہور او رمیٹرو سے قریب ہے‘ جس کی وجہہ سے لوگوں کو یہاں پر آنے میں کافی آسانی ہوئی ہے۔ اس فیسٹول میں اُردو کے بہت سارے مشہور شاعر‘ صوفی اور قوالی گلوکار کو شامل کیاگیا ہے۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر ‘ و منسٹر برائے آرٹس‘کلچر‘ لسانیت منیش سیسوڈیا نے کہاکہ’’ اُردو دہلی کی تہذیبی وثقافتی تاریخ کا حصہ ہے۔ دہلی کی مشترکہ تہذیب کا اہم پہلو بھی ہے۔

اس قسم کی پیش کش کے ذریعہ ہم آہنگی اور محبت کا ماحول پیدا کیاجاسکتا ہے جس کی ہمیں امید ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ نہ صرف اُردو کو بہتر انداز میں محفوظ کیاجائے بلکہ لسانی اور سماجی ماحول میں بھی اس کی پیش رفت ہونی چاہئے‘‘۔انہو ں نے کہاکہ’’ یہ جشن اُردوتمام چاہنے والوں کو یکجا کرنے اور اس سے لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کرے گا‘‘۔

پروگرام کے تقریب گاہ کی تبدیلی اور محدودیت کے بعد اُردو اکیڈیمی کو توقع ہے کہ ہرروز دوہزار لوگ اس میں شرکت کریں گے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ ’’پچھلے سال تک بھی اس پروگرام میں شرکت کرنے والوں کی تعداد ایک ہزار سے زائد نہیں ہوئی تھی‘‘۔فیسٹول کی اختتامی تقریب 20فبروری کو مقر ر ہے جس میں اُردو کے مشہور شاعر راہت اندوری ‘ مہتاب حیدر نقوی او رنکہت امروہی اپنا کلام پیش کریں گے

TOPPOPULARRECENT