Tuesday , September 25 2018
Home / ادبی ڈائری / اُردو مادری زبان کا فروغ

اُردو مادری زبان کا فروغ

ڈاکٹر محمد ناظم علی (نظام آباد)

ڈاکٹر محمد ناظم علی
(نظام آباد)
مادری زبان ، ماں سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے اور بتدریج بچوں میں دانستہ نادانستہ فروغ پاتی ہیں۔ تاریخ شاید ہے کہ دنیا کے ہر ملک میں وہاں کے رہنے والوں نے علاقائی اور جغرافیائی اعتبار سے اپنے علاقے میں مروج زبان کو مادری زبان کے طور پر اپنایا ہے، ویسے زبانیں علاقے و ملک کی ہوتی ہیں اور وسیع تر رقبہ میں بولی سمجھی جاتی ہیں، لیکن آج کل مادری زبان کی تعریف کا کلیہ بدل گیا۔ مادری زبان وہ ہے جو ماں کو تو آئے لیکن بچوں کو نہ آئے۔ کسی بھی فرد کی مادری زبان سے دوری اس کی زندگی کیلئے سوہان روح بن جاتی ہے، فرد کی لیاقتیں، صلاحیتیں، ذہنی قابلیتیں مادری زبان میں تربیت سے پیدا ہوتی ہیں، وہ خواب بھی مادری زبان میں دیکھتا ہے، فکر و سوچ کے سوتے بھی مادری سے فروغ پاتے ہیں۔ دنیا میں جتنے بھی دانش اور اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کی تربیت ابتداء میں مادری زبان میں ہوتی ہوگی۔ مادری زبان سے فرد کی شخصیت سازی، اخلاق سازی، انسانی قدریں پروان چڑھتی ہیں۔ ملک و قوم کی ہمہ جہت ترقی تہذیب و ثقافت کو فروغ بھی مادری زبان سے حاصل ہوگا۔ زبانیں کسی کی ذاتی میراث نہیں ہوتی، یہ وراثت کا تحفظ کرتی ہے۔ تہذیب و تمدن کی تعمیر و تشکیل کرتی ہے۔ ملک کی تہذیب و ثقافت کی امین و نقیب ہوتی ہے، مادری زبان سے ذہن بنتا ہے اور ذہن سے زندگی ہوتی ہے۔

اُردو بھی ایک مادری زبان ہے۔ یہ مختلف علاقوں میں بسنے والوں کی زبان بن جاتی ہے، لیکن ہندوستان میں دلی کے ……… میں پیدا ہوئی۔ سماج کے طبقات و فرقوں کے ذریعہ سے ملک اور بیرون ملک پھیل گیا۔ نوآبادیاتی علاقوں تک وسعت اختیار کرگئی۔ اب قومی اور عالمی زبان بن گئی ۔ آج بھی یہ کسی ایک کی زبان نہیں بلکہ مختلف طبقات و فرقوں کی زبان ہے۔ اس کو ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، بدھ، جین سب بولتے ہیں، اپناتے ہیں، گنگا۔جمنی تہذیب، سکیولر کلچر، مشترکہ قدروں کی زبان ہے۔ اس میں پوری ہندوستانیت بڑی آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ ولیوں، سنتوں، تاجروں اور بادشاہوں کے ذریعہ سے عالم میں پھیل گئی ہے اور ترقی کی سمت رواں دواں ہے اور بتدریج ترقی یافتہ زبان بن رہی ہے۔ حضرت امیر خسرو سے لے کر آج تک ہندوستان میں مادری زبان کے طور پر مروج ہے اور اس کو لوگ سکھ رہے ہیں، اس کے تخلیقی سوتے جاری و ساری ہیں۔ ہندو۔ مسلم اور کئی دیگر طبقات اس میں طبع آزمائی کررہے ہیں۔ اس کو اپنانے سے ہمہ ترقی حاصل ہوگی لیکن آزادی کے بعد مادری زبان کی وہ اہمیت نہیں رہی جتنی ماقبل آزادی رہی۔ میری دانست میں جب سے دانستہ طور پر تعلیم کو روزگار کا ذریعہ بنایا گیا تب سے تمام ہندوستانی مادری زبانوں کی اہمیت میں کمی آتی ہے۔ آج بھی لوگ یہ تصور کرتے ہیں کہ انگریزی زبان سے حصول تعلیم روزگار کی ضمانت کا موجب بنے گا اور لوگ بجائے مادری زبان کے دیگر خاص انگریزی میڈیم کو ترجیحی دے رہے ہیں جس سے مادری زبان کی اہمیت پر اثر پڑا۔ اب تو یہ تصور یقین میں بدل گیا کہ انگریزی سے تعلیم حاصل کرنے پر روزگار اور معاشی و اقتصادی تقاضے پورے ہوں گے، لیکن میں اس کے خلاف ہوں مادری زبان کو تعلیم کا میڈیم بناکر دیکھیں تو اس سے مالی، معاشی اور روزگار کے مواقع بھرپور حاصل ہوں گے۔ ہم سب انگریزی کو سب کچھ سمجھ لیا ہے۔ پیشوں، تجارت، ملازمت کین حصول میں مادری زبان کا اہم اور کلیدی رول ہوتا ہے۔ آج کل جو Skills کی بات کی جارہی ہے، وہ صرف مادری زبان سے پیدا ہوتی ہے۔ مواصلاتی اسکیل، اسکل Skills یا عام معلومات سے بہرور ہونے میں مادری زبان اہم ذریعہ ہوتی ہے۔ مادری زبان میں مافی الضمیر آسانی سے کرسکتے ہیں۔ اظہار خیال فطری طور پر ادا ہوتا ہے۔

اگر کسی مادری زبان کے بچے کو کسی غیرزبان کے ذریعہ سے درس و تدریس کا اہتمام کریں تو وہ علم کا حصول مادری زبان سے ہی حاصل کرے گا۔ وہ بظاہر دوسری زبان سے علم سیکھنے آتا ہے لیکن مادری زبان اس کی مدد کرتی ہے۔ اس کے ذہنی عمل میں سیکھنے کے دوران یہی ساتھ ساتھ ……… ہے۔ اگر ہم باقاعدہ باضابطہ مادری زبان کے ذریعہ سے تعلیم دلائیں تو وہ قابل اور لائق و نالائق طالب علم بنے گا۔ اُردو کے تمام دانشوروں کا یہی خاصا تھا کہ انہوں اُُردو مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دی ہے۔ وہ قابل بناکر ملک و قوم کی احسن طریقے سے خدمت انجام دیتے ہیں۔ زبانیں سیکھتا روحانی عمل ہے۔ یہ دل و ذہن کو متاثر کرتی ہیں اور مادری زبان قلبی واردات کی عمدہ و بہترین عکاسی کرتی ہیں۔ زندگی میں توانائی تابناکی اس سے ہوتی ہے۔ مادری زبان اخلاقیات، اقدار، انسانیت و شرافت کے قدروں کا منبع و محور ہوتی ہے۔ کردار، شخصیت سازی کے اس سے پورے ہوتے ہیں۔

بچوں کی عمدہ تربیت کیلئے مادری زبان اُردو کو اپنائیں تاکہ نسل نو اخلاقی بحران، اخلاق باختگی سے محفوظ رہ سکیں، روحانی اقدار سے آگہی مادری زبان سے ہی ہوتی ہے۔ لوگ مادری زبان سے نسل نو کو دور کررہے ہیں، اس لئے سماج و معاشرہ اور خاندان میں اخلاقی بحران پیدا ہورہا ہے۔ مادری زبان سے مذہبی، اخلاقی قدریں پروان چڑھتی ہیں۔ یہی ترقی کی مواج ہوتین ہیں۔ مہد سے لحد تک مادری زبان ہی رہبری و رہنمائی کرتی ہے۔ منزل و فیصلوں میں کارگر و ثمرآور ثابت ہوتی ہے۔ زندگی کے مسائل، خاندان کے مسائل، سماجی مسائل کے تدارک و انسداد میں مادری زبان کا رول اہم ہوتا ہے۔ نئی نسل کو مادری زبان میں تعلیم دینے کے رواج کا احیاء کرنا وقت کا تقاضہ بھی ہے اور ہمہ جہت ترقی کے مترادف عمل ہے۔ میں ملک کے دانشوروں اور اہل زبان، اہل عمل کو یہ مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ وہ مادری زبان میں تعلیم کے رواج کیلئے تحریک شروع کریں تاکہ ملک کو مزید، تہذیبی، ثقافتی، تمدنی، اخلاقی اعتبار سے طاقتور بناسکے۔ 21 فروری کو یوم مادری زبان بین الاقوامی کے اس موقع پر یہی میرے تاثرات ہیں کہ مادری زبان میں تعلیم سے ہی نئی نسل کے وہ تمام تقاضے پورے ہوتے ہیں جو وہ چاہتے ہیں کہ ہر مادری زبان کی اخلاقیات ہوتے ہیں، اُردو کی بھی اپنی اخلاقیات ہیں، لہذا اُردو کو بھی بطور مادری زبان تعلیم کا ذریعہ بنائیں۔ سرکاری ادارے ہو یا خانگی ادارے اُردو کو مروج کریں اور ملک و قوم کی یکتا، یکجہتی کو مضبوط کریں۔
اُردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زبان کی ہے

TOPPOPULARRECENT