Monday , January 22 2018
Home / اضلاع کی خبریں / اُردو گنگا جمنی تہذیب کی علمبردار اور مقبول عام زبان

اُردو گنگا جمنی تہذیب کی علمبردار اور مقبول عام زبان

نظام آباد میں اُردو میلہ کا افتتاح، کرشنا راؤ ڈپٹی ایوکیشن آفیسر اور دیگر معززین کا خطاب

نظام آباد میں اُردو میلہ کا افتتاح، کرشنا راؤ ڈپٹی ایوکیشن آفیسر اور دیگر معززین کا خطاب

نظام آباد۔2 فروری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) اُردو دلوں کو جوڑنے والی گنگا جمنی تہذیب کی علمبردار ساری دنیا کی مقبول عام زبان ہے۔ اس زبان کے ساتھ اس کا عظیم تر تہذیبی و ثقافتی ورـثہ جڑا ہے۔ اُردو زبان نے جدوجہد آزادی کی تحریک میں حصہ لیا۔ ہندوستان کے عظیم تر کلچر کی تعمیر میں اس کا اہم رول ہے۔ اور آج یہ زبان انفارمیشن ٹیکنالوجی‘کمپیوٹر‘انٹرنیٹ اور سیل فون سے جڑ کر اب ایک عالمی زبان بن چکی ہے۔ ـضرورت اس بات کی ہے کہ اُردو کے اس عظیم لسانی اور تہذیبی ورثے کو اگلی نسل کو منتقل کرنے کے سنجیدہ اقدامات کئے جائیںتاکہ اردو کا کاروان محبت یوں ہی اپنا سفر طے کرتا رہے۔ اُردو کے تحفظ اور اس کے فروغ کے لئے سیاسی‘سماجی‘تہذیبی اور ثقافتی سطح پر کام کیا جائے ۔ ان خیالات کا اظہارکے کرشنا رائوڈپٹی ایجوکیشنل آفیسر نظام آباد‘خان ضیا ء ریاستی صدر تحریک اردو تلنگانہ ،ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی صدر شعبہ اردو گری راج کالج نظام آباد‘ڈاکٹر محمد ناظم علی پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج موڑتاڑ ‘ سید مجیب علی ڈائرکٹر نالج پارک انٹرنیشنل و کریسنٹ گروپ آف اسکولس نظام آباد‘ جمیل نظام آبادی ‘اظہر فاروقی اور رضی الدین اسلم لیکچرر فزکس جونیر کالج نظام آباد نے کریسنٹ اردو میڈیم اسکول میں منعقدہ ایک روزہ اردو میلے کے افتتاح کے موقع پر کیا۔ اس میلے کا اہتمام تحریک اردو تلنگانہ‘ اردو اسکالرس اسوسی ایشن نظام آباد‘ کریسنٹ اسکول اور محبان اردو کی جانب سے کیا گیا تھا۔ ایم اے فہیم نے اردو میلے کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیا اور اُردو کے فروغ کے اقدامات میں تعاون کا پیشکش کیا۔ کرشنارائو ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر نے طلبا کو میلے کے انعقاد کے لئے مبارک باد پیش کی اور کہا کہ زمانہ طالب علمی کے دوران کی جانے والی سرگرمیاں زندگی بھر یاد رہتی ہیں۔ اردو ایک میٹھی زبان ہے اسے عام کرنا چاہئے۔ ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی نے کہا کہ اس طرح کے میلے کے کامیاب انعقاد سے واضح ہوتا ہے کہ اردو کا مستقبل روشن ہے اور اب یہ زبان انٹرنیٹ اور کمپیوٹر ٹیکنالوجی سے جڑ کر عالمی سطح کی مقبول زبان بن گئی ہے۔ ڈاکٹر محمد ناظم علی نے کہا کہ اردو زبان کے ساتھ اس کی تہذیب وابستہ ہے اور موجودہ دور میں تہذیبی اقدار کو برقرار رکھنا ہوتو اردو کو عام کرنا ہوگا۔ سید مجیب علی نے کہا کہ اُردو میڈیم طلبا کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ اس میلے کا شاندار انعقاد اس بات کا ثبوت ہے کہ اردو میڈیم طلبا بھی عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہیں۔ خان ضیاء نے کہا کہ اس میلے کا انعقاد تلنگانہ اور ملکی و قومی سطح پر اردو کی گمشدہ تہذیب کی بازیافت کی کوشش ہے۔ اور طلبا کے جوش و خروش سے اس کاروان اردو کو دیگر علاقوں تک پہونچانے کا حوصلہ ملا ہے۔ آگے تلنگانہ کے دیگر اضلاع میں بھی اردو میلے کا انعقاد عمل میں لایا جائے گا۔ جمیل نظام آبادی نے کہا کہ اردو زبان اب صرف شعر و ادب تک محدود نہیں بلکہ یہ عہد حاضر کی علمی ضروریات کی تکمیل کر رہی ہے۔ اس طرح کے پروگراموں سے اردو تہذیب عام ہوگی۔ رضی الدین اسلم لیکچرر فزکس نے کہا کہ طلبا نے اردو کے ثقافتی ورـثے کو بہت عمدہ طریقے سے پیش کیا اس کے لئے اسکول انتظامیہ اور اساتذہ قابل مبارک باد ہیں۔ اس اردو میلے میں طلباء نے اردو شعرا کی تصاویر‘ ان کے حالات زندگی‘ منتخب اشعار‘ اردو کی نادر کتابیں اور اخبارات و رسائل‘ اردو اور ٹیکنالوجی کا استعمال‘ دور قدیم کے ظروف‘مراد آبادی برتن ‘ پیتلی برتن‘ حقہ‘ اگالدان‘ پاندان‘ دور قدیم کے لباس کے نمونے‘ شاہی گھرانے کی خواتین کا کردار‘ مختلف پیشوں کا فینسی ڈریس سے اظہار‘ اسلامی طرز زندگی کا تعارف‘خطاطی کے نمونے‘ نادر طغرے‘ اور دیگر بے شمار تہذیبی و ثقافتی جھلکیاں پیش کیں۔ اردو میلے میں گری راج کالج‘ ڈائیٹ کالج اور دیگر کالج اور اسکولوں کے طلبا نے شرکت کی۔ کریسنٹ اردو میڈیم اسکول اور جگتیال ڈگری کالج سے آئی طالبات اور طلبا نے تمثیلی مشاعرہ کامیابی سے پیش کیا۔ اور قدیم وجدید شعرا کی منتخب غزلوں کو پیش کیا۔ محمد عبدالبصیر لیکچرر اے پی آر جے سی نے جج کے فرائض انجام دئے۔میلے کے اختتام پر ذائد از چالیس طلبا کو میمنٹو اور سند پیش کی گئی۔ اردو میلے کے کامیاب انعقاد پر پرنسپل کالج منصور‘ کالج انتظامیہ اور دیگر کا شکریہ ادا کیا گیا۔ اور اس امید کا اظہار کیا گیا کہ آئیندبھی اس طرح کے اردو میلے تلنگانہ کے تمام اضلاع میں پیش کئے جائیں گے۔ نصیر مدرس کریسنٹ اسکول نے اردو میلے کے انصرام میں تعاون کرنے والے اردو اساتذہ‘ میلے کے مشاہدے کے لئے آنے والے سینکڑوں محبان اردو ‘ اردو پرنٹ والیکٹرانک میڈیا اور تمام مہمانان خصوصی کا شکریہ ادا کیا۔

TOPPOPULARRECENT