Sunday , December 17 2017
Home / ہندوستان / اُری سیکٹر میں انسداد عسکریت پسندی کارروائی کا احیاء

اُری سیکٹر میں انسداد عسکریت پسندی کارروائی کا احیاء

سرینگر کے چند علاقوں میں تحدیدات ، محبوبہ مفتی کے اولین ٹوئٹ کا عمر عبداﷲ کی جانب سے خیرمقدم
سرینگر ۔ 25 ستمبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) فوج نے آج خطِ قبضہ کے قریب انسداد عسکریت پسندی کارروائی کا اُری سیکٹر میں احیاء کیا ۔ قبل ازیں اطلاع ملی تھی کہ اس علاقہ میں مزید عسکریت پسند موجود ہیں۔ تین پاکستانی عسکریت پسند فوج کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں کلگائی کے علاقہ میں اُری سیکٹر میں کل ہلاک کردیئے گئے تھے اور تین شہری ایک فوجی اس کارروائی کے دوران زخمی ہوئے تھے۔ کارروائی کا احیاء آج صبح ہوا جبکہ مزید عسکریت پسندوں کے اس علاقہ میں روپوش ہونے کی اطلاع ملی ۔ ایک فوجی عہدیدار کے بموجب اس علاقہ میں کارروائی اس بات کو یقینی بنانے کیلئے دوبارہ شروع کی گئی ہے کہ فوج کے محاصرہ سے بچ کر کوئی بھی عسکریت پسند فرار نہ ہوسکے ۔ ڈائرکٹر جنرل پولیس ایس پی وید نے کہا تھا کہ عسکریت پسند خودکش حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں ۔ گزشتہ سال بھی ایک فوجی اڈے پر اُری سیکٹر میں خودکش حملہ کیا گیاتھا جس میں 19 فوجی ہلاک اور دیگر کئی زخمی ہوگئے تھے ۔ عسکریت پسند اس بار بھی اسی قسم کے خودکش حملے کا منصوبہ بنارہے تھے لیکن پولیس اور فوج کو قبل از وقت اطلاع مل گئی اس لئے اس سانحہ کو ٹالنے میں کامیابی حاصل ہوئی ۔ ڈی جی پی ایس پی وید نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اس کا انکشاف کیا ۔ دریں اثناء عہدیداروں نے سرینگر کے بعض علاقوں میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کیلئے تحدیدات عائد کردیںکیونکہ تاجرین کی تنظیم نے آج اپنے صدر کو این آئی اے کی جانب سے طلب کئے جانے پر بطور احتجاج ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ تاجر تنظیم کے صدر کو دہشت گردوں کو مالیہ فراہم کرنے کے سلسلے میں طلب کیا گیا تھا ۔ ہڑتال کی تائید وادی کشمیر میں علحدگی پسند قائدین بھی کررہے ہیں۔ شہر کے پولیس اسٹیشنوں کے دائرہ کار میں تحدیدات عائد کی گئی ہیں۔ تحدیدات ویناواڑی ، نوہٹا ، خانیار ، ایم آر گنج اور صفا کدل میں عائد رہیں گی ۔ تحدیدات نظم و ضبط برقرار رکھنے کے مقصد سے اور ہڑتال کے پیش نظر کسی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کیلئے عائد کی گئی ہیں۔ کشمیری تاجر اور پیداوار کنندوں کے وفاق نے ہڑتال کا اعلان کیا ہے کیونکہ تاجر تنظیم کے صدر محمد یٰسین خان کو این آئی اے نے طلب کیا ہے ۔ وادی کے دیگر علاقوں میں ہڑتال کی وجہ سے معمولات زندگی متاثر ہوئے ۔ بیشتر دوکانیں ، پٹرول پمپ اور دیگر تجارتی ادارے بند تھے ۔ سرکاری گاڑیاں بیشتر علاقوں میں سڑکوں سے غائب تھیں، تاہم خانگی گاڑیاں ، آٹو رکشا اور ٹیکسیاں شہر کے بعض علاقوں میں چلتی ہوئی دیکھی گئیں۔ علاوہ ازیں وادی کے ضلع ہیڈکوارٹرس پر بھی ان کی نقل و حرکت دیکھی گئی ۔ دریں اثناء سابق چیف منسٹر جموں و کشمیر عمر عبداﷲ نے جو نیشنل کانفرنس کے قائد ہیں آج چیف منسٹر جموں و کشمیر محبوبہ مفتی کے تین سال کے دوران اولین ٹوئٹ کا خیرمقدم کیا جس میں مائیکرو بلاگنگ سائیٹس میں شرکت کرنے کے بعد محبوبہ مفتی نے اپنا ٹوئٹر پیغام ریاستی سیاحت کے فروغ کے سلسلے میں شائع کیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT