Thursday , November 23 2017
Home / دنیا / ’’اُس وقت کیا ہوگا جب ہم کالا پانی یا کشمیر میں داخل ہوجائیں‘‘ : چین

’’اُس وقت کیا ہوگا جب ہم کالا پانی یا کشمیر میں داخل ہوجائیں‘‘ : چین

ٹرائی جنکشن کا بہانہ بنانا ہندوستان کیلئے نامناسب، فوج کے مکمل تخلیہ کے بغیر بات چیت سے بیجنگ کا انکار

بیجنگ 8 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) چین نے تعطل کے خاتمہ کے لئے ڈوکلم سے اپنی فوج کی فی الفور مکمل واپسی کے لئے ہندوستان کے مطالبہ کو آج مسترد کردیا اور اُلٹا وار کرتے ہوئے حیرت کے ساتھ دریافت کیاکہ ہندوستان اُس وقت کیا کرے گا جب وہ (چینی فوج) اتراکھنڈ کے علاقہ کالا پانی یا کشمیر میں داخل ہوجائے گی۔ سکم سیکٹر کے ڈوکلم علاقہ میں چینی فوج کو سڑک تعمیر کرنے سے ہندوستانی فوج نے روک دیا تھا جس کے بعد اس مقام پر دونوں ملکوں کی فوجیں گزشتہ 50 دن سے ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں اور صورتحال تعطل پذیر ہوگئی ہے۔ چین کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنے علاقہ میں سڑک تعمیر کررہا ہے اور اُس نے ڈوکلم کے متنازعہ علاقہ سے ہندوستانی فوج کے فی الفور تخلیہ کا مطالبہ کیا ہے۔ بھوٹان کا دعویٰ ہے کہ ڈوکلم اُس کا علاقہ ہے لیکن چین بھی اس علاقہ پر اپنا ادعا کررہا ہے اور کہاکہ تھمپو کو اس پر بیجنگ سے کوئی تنازعہ نہیں ہے۔ چینی وزارت خارجہ میں سرحدی و سمندری اُمور کے ڈائرکٹر جنرل وانگ وینلی نے کہاکہ ’’حتیٰ کہ ایک ہندوستانی سپاہی بھی اگر ایک دن کے لئے اس مقام پر رہتا ہے تو یہ ہمارے اقتدار اعلیٰ اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہوگی‘‘۔ وانگ یہاں ہندوستانی میڈیا وفد سے بات چیت کررہے تھے۔

سرکاری آل چائینا جرنلسٹس اسوسی ایشن (اے سی جے اے) نے ڈوکلم تعطل ہندوستانی صحیفہ نگاروں کے دورہ کا اہتمام کیا ہے۔ وانگ نے کہاکہ ’’اس مسئلہ پر ہندوستان کے ساتھ مذاکرات ناممکن ہیں۔ ہندوستان جب تک چینی علاقہ سے دستبردار نہیں ہوتا ہمارے ساتھ کوئی ٹھوس بات چیت نہیں ہوسکتی‘‘۔ چین کی اس خاتون عہدیدار نے ہندوستان پر انگشت نمائی کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو موضوع بنایا اور ہند و نیپال کے درمیان اتراکھنڈ کے علاقہ کالا پانی پر جاری تنازعہ کا حوالہ دیا۔ وانگ نے کہاکہ ’’ہم سمجھتے ہیں کہ ہندوستان کے لئے یہ بہتر نہیں کہ وہ ٹرائی جنکشن (تین فریقی راستہ) کو ایک بہانہ کے طور پر استعمال کرے‘‘۔ اُنھوں نے کہاکہ ہندوستانی طرف کئی سہ فریقی جنکشنس ہیں۔ کالا پانی میں ہند ۔ نیپال کے درمیان اور کشمیر میں ہند و پاک کے درمیان ٹرائی جنکشنس ہیں۔ چنانچہ اُس وقت کیا ہوگا جب چین، ہند اور نیپال کے درمیان میں ٹرائی جنکشن کا بہنہ بناتے ہوئے کالا پانی میں داخل ہوجائیں۔ اس طرح کشمیر کا بھی بہانہ بنایا جاسکتا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ چین کے سرکاری اعلیٰ عہدیدار نے اس تعطل کے ضمن میں کشمیر کا مسئلہ اُٹھایا ہے۔ اس سوال پر کہ چین آیا ہندوستان کے ساتھ جنگ کے لئے تیار ہے؟ وانگ نے جواب دیا کہ ’’میں صرف یہ کہہ سکتی ہوں کہ پی ایل اے (پیپلز لبریشن آرمی) اور حکومت چین کے بارے میں ہم پُرعزم ہیں چنانچہ ہندوستانی فریق اگر غلط راستہ پر چلنے کا فیصلہ کرتا ہے یا پھر وہ ہنوز کسی مفروضہ میں رہتا ہے تو ہمیں اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے بین الاقوامی قانون کے مطابق کسی بھی کارروائی کے استعمال کا حق بدستور حاصل رہے گا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT