Wednesday , November 22 2017
Home / اضلاع کی خبریں / اُمت کو اسلاف کے طریقہ پر قائم رکھنے کی کوشش

اُمت کو اسلاف کے طریقہ پر قائم رکھنے کی کوشش

نظام آباد۔ 27 اکتوبر (پریس نوٹ) مولانا مظہرالحق حسامی خطیب جامع مسجد گنڈا رام نظام آباد نے ہمہ مسالکی تنظیم اصلاح معاشرہ و ازالہ منکرات کے منعقدہ اجتماع عام مدینہ مسجد پھولانگ نظام آباد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک کو روزوں، زکوۃ، شب قدر، نزول قرآن سے فضیلت حاصل ہے۔ ماہ ذی الحجہ کو حج و قربانی سے فضیلت حاصل ہے۔ ماہ محرم کو عاشورہ اور نیا سال ہجری سال اور شہادت حسینؓ سے فضیلت حاصل ہے۔ عاشور جس دن کئی اچھے اور مبارک واقعات عطا کئے جس میں آدم علیہ السلام کی دعا کی قبولیت ہے۔ زمین پر تشریف آوری ہے۔ نوح علیہ السلام کی کشتی جبل جودی سے لگی ہے۔ بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات حاصل ہوئی اور قیامت اسی دن ہوگی۔ صحابہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ! یہودی اس دن روزہ رکھتے ہیں تو ہمارے لئے کیا حکم ہے؟ آپؐ نے فرمایا اس کے زیادہ مستحق تو ہم ہیں۔ وہ عاشورہ کا ایک روزہ رکھتے ہیں تو ہم دو روزے رکھا کریں یعنی 9 اور 10 یا پھر 10 اور 11 محرم۔ مولانا نے مزید کہا کہ نیا سال اسلام میں حضورؐ کی ہجرت مبارکہ مکہ سے مدینہ منورہ ہوئی۔ سال، دن، مہینے محرم سے حساب کتاب کیلئے ہجری کیلنڈر مقرر کیا گیا۔ حضرت عمرؓ نے اس کو مقرر فرمایا کیونکہ ہر قوم کا نیا سال ہوتا ہے، عیٰسی علیہ السلام کی پیدائش سے عیسوی سال اور آتش پرستوں مجوسی سال بھی ہوتا ہے اور ہندو دھرم کا بھی نیا سال اُگادی سے شروع ہوتا ہے اور ہجرت محرم سے جو واقع ہوئی اس کو امت مسلمہ اپنے سال اور مہینے کیلئے یاد رکھیں۔ اصلاح معاشرہ قابل مبارکباد ہے جو کئی سال سے ہجری کیلنڈر محرم سے شائع کرکے امت کو اپنے اسلام کے طریقے پر قائم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ ورنہ یکم جنوری کو دیگر اقوام کی طرح نئے سال کے نام پر امت کے نوجوان بھی اس کو اپناتے ہیں، اس سے گریز کرنا چاہئے۔ مزید انہوں ننے کہا کہ شہادت حسینؓ کا واقعہ دراصل بدی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانا ہے۔ آپؓ اور اہل بیت اس میں شہید ہوئے۔ یہ واقعہ بھی امت مسلمہ قیامت تک نہیں بھلا سکتی، البتہ اس دن بدعات اور خرافات، ماتم، نوحہ وغیرہ سے بچنا چاہئے اور شربت پلا پلاکر اظہار محبت کیسا ؟ جبکہ اس دن روزہ سنت ہے۔ نوحہ و ماتم سے نانا کی سنت چھوڑ رہی ہے۔ اس کے علاوہ شہید زندہ ہے، یہ قرآن مقدس فرماتا ہے۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے اور قتل ہوئے وہ زندہ ہے، تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں۔ شہید زندہ ہے اور زندہ کا ماتم نہیں کیا جاتا۔ جناب محمد نعیم الدین نے تلاوت کی۔ جناب نعمان و حافظ حسین خان نے انتظامات کئے۔ جناب قدرت پٹیل صدر کمیٹی نے شرکت کی۔ حاضرین کی کثیر تعداد موجود تھی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT