Monday , October 22 2018
Home / مضامین / … اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے

… اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے

 

کے این واصف
ہم سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی باشندے آج کل جب اخبار اٹھاتے ہیں یا نٹ کھولتے ہیں تو ہر روز کوئی نہ کوئی ایسی خبر سامنے آتی ہے جیسے دیکھ کر دکھ ہوتا یا ہماری الجھنوں میں اضافہ ہوتا ہے ۔ پچھلے دو تین سال میں غیر ملکیوں نے یہاں کوئی ایسی خبر سنی نہ پڑھی جس سے ہمیں خوشی حاصل ہوئی ہو۔ ہم جانتے ہیں تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہونے کے بعد سے مملکت کی مجموعی اقتصادی حالت خراب ہونے لگی ۔ اس کا بڑا اثر یہاں کے تعمیراتی شعبہ پر بڑا سب جانتے ہیں کہ سعودی عرب میں سب سے سرگرم اور بڑا شعبہ تعمیرات اور تعمیراتی مواد سپلائی کرنے یا تیار کرنے والوں کا ہے اور برق انہی شعبوں پر گری جس سے ہزاروں افراد یا تو اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے یا ان کی تنخواہوں میں کمی ہوگئی یا ان کے تمام الاؤنسس ختم کردیئے گئے اوراس کا راست اثر مملکت کے بازاروں پر پڑا۔ تجارتی سرگرمیاں سرد پڑگئیں۔ بازار ویران ہوگئے۔ نتیجتاً اس شعبہ میں بھی بیروزگاری ہوگئی ۔ حالات سے پریشان ہوکر لاکھوں کی تعداد میں تارکین نے اپنے اہل و عیال کو مجبوراً وطن واپس بھیج دیا۔ اس سے بھی تجارتی سرگرمیاں ماند پڑگئیں۔ بازاروں کی حالت خراب ہونے کے علاوہ جن شعبوں کو دھکا لگا ان میں سب سے اہم تعلیم کا شعبہ ہے ۔ ایک تو خانگی اسکولوں میں طلباء کی تعداد کم ہوگئی ۔ دوسرے جو بچے اسکولس میں ہیں ان کی قابل لحاظ تعداد ایسی ہے جو اسکول کی فیس نہیں ادا کر پارہے ہیں ۔ اس سے اسکولس کی مجموعی آمدنی پر فرق پڑا ہے ۔ بتایا جارہا ہے کہ یہاں جو VAT لاگو ہونے جارہا ہے ، وہ اسکول فیس پر بھی عائد ہوگا جو والدین پر ایک اور بوجھ ہوگا ۔ بتایا جارہا ہے کہ اگلے تعلیمی سال میں یہاں 40 فیصد خانگی اسکولس بند ہوجائیں ۔ تیسرے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اب ا سکول انتظامیہ کو طلباء سے وصول ہونے والی فیس کا دس فیصد حکومت کو ادا کرنا ہوگا ۔ پھر ابھی پانی ، بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہونے کی خبریں بھی ہیں۔ ان حالات کو دیکھ کر خارجی باشندوں کے ہوش اُڑے جارہے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ یہ غیر ملکی باشندے کس طرح یہاں رہ پائیں گے ۔ یہ ایشیائی اور افریقی باشندے جو یہاں برسہا برس سے مقیم ہیں جب یہ اپنے اپنے وطن کے حالات دیکھتے ہیں تو وہاں بھی کوئیل امید نظر نہیں آتی ۔ سعودیوں کیلئے مختص پیشوں کی فہرست میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ اس کے علاوہ ایک معروف سعودی کالم نگار صالح الشیحی نے اپ نے ایک کالم میں مطالبہ کیا ہے کہ سعودی عرب میں 73 ہزار غیر ملکی مدیران (Managers) برسرکار ہیں۔ جن کی جگہ سعودیوں کو ان کمپنیوں کا سربرا ہ بنایا جائے ۔ انہوں نے توجہ دلائی کہ مملکت کی 73 ہزار کمپنیوں کے غیر ملکی اعلیٰ افسر ہیں۔ کالم نگار نے سوال اٹھایا کہ آخر ان غیر ملکیوں کے پاس ایسا کیا کچھ ہے جو سعودی شہریوں کے پاس نہیں ۔ انہوں نے عربی روزنامہ ’’الوطن‘‘ کے اپنے کالم میں اعتراف کیا کہ میڈیکل اور کچھ تکنیکی شعبے ایسے ہیںجن کی سربراہی کیلئے سعودی مہیا نہیں لیکن بیشتر شعبوں میں سعودی شہری اعلیٰ عہدوں پر فائز کئے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بہتر ہوگا کہ اعلیٰ عہدوں پر فائز کرنے کیلئے سعودیوں پر عائد شرائط میں کمی کی جائے۔
اس طرح کی تحریریں بھی ہم غیر ملکی باشندوں کی ہمت پست کرتے ہیں۔ حکومت نے جہاں بیسیوں کام (ملازمتیں) سعودی باشندوں کیلئے مختص کردیئے ہیں وہیں ایک عرصہ سے بقائے (Grocery Stores) کے کاروبار کو بھی سعودی باشندوں کے حوالے کرنے کا مطالبہ ایک عرصہ سے کیا جارہا ہے ۔ واضح رہے کہ اس کام میں روزِ اول سے ہی غیر ملکی چھائے ہوئے ہیں ۔ اس کاروبار میں غیر ملکیوں نے کافی پیسہ بھی کمایا ۔ کئی غیر ملکیوں نے بقالے کے چھوٹے سے کاروبار سے ترقی کرتے ہوئے بڑ ے بڑے اسٹورس قائم کرلئے اور کروڑ ہا ریال کے کاروبار کر رہے ہیں۔ اس کاروبار میں پیسہ ضرور ہے لیکن کاروبار بہت محنت طلب ہے ۔ سخت جانفشانی کے بعد ہی خارجی باشندے دولت کماتے ہیں ۔ بقالوں میں سعودائزیشن لانے کے سلسلے میں حال میں ایک تجزیاتی رپورٹ شائع ہوئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ مملکت بھر میں بقالوں کی سعودائزیشن کا ہدف ناکام بنانے کیلئے ایک ایشیائی ملک کے باشندوں نے باقاعدہ محاذ قائم کرلیا ہے ۔ یہی لوگ بقالوں پر چھائے ہوئے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق انہوں نے 2010 ء کے دوران خلیجی ممالک سے 6.81 ارب ڈالر باقاعدہ اپنے ملک اپنے ملک بھیجے جبکہ ہُنڈی سے بھیجی جانے والی رقم اس الگ ہے۔ 2013 ء کے دوران مذ کورہ رقم میں 47 فیصد اضافہ ہوا ، یعنی 10 ارب ڈالر بھیجے گئے ۔ 2016 ء کے دوران ہوا۔ ارب ڈالر ارسال کئے گئے ۔ وزارت محنت و سماجی فروغ کے عہدیداروں نے اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے انتہائی رازداری کے ساتھ گفت و شنید شروع کردی ہے۔ مملکت میں بقالوں پر غیر ملکیوں کے غلبے کا معاملہ بڑا پیچیدہ ہے ۔ ایشیائی باشندے کسی بھی قیمت پر اپنا غلبہ ختم کرنے تیار نہیں۔ وہ اس حوالے سے کی جانے والی کوششوں کی زبردست مزاحمت کا عزم کئے ہوئے ہیں ۔ وزارت محنت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے whatsapp کے ذریعہ وزارت کے عہدیداروں سے مطالبہ کیا کہ ایشیائی کارکنان کے غلبے کو توڑئے اور بقالوں کی سعودائزیشن کا ہدف حاصل کرنے کیلئے اعلیٰ عہدیداروں پر مشتمل خصوصی گروپ تشکیل دیا جائے ۔ ایشیائی کارکن مارکٹ کو اپنے حساب سے چلانے اور مملکت کے نئے قوانین و ضوابط سے نمٹنے تنظیمیں اور گروپس قائم کئے ہوئے ہیں۔

یہ لوگ سعودائزیشن کی اسکیموں اور ان کے ممکنہ اثرات دریافت کرنے اور ان سے نمٹنے کیلئے انٹرنیٹ پر بھی خصوصی مہم چلائے ہوئے ہیں ۔ یہ لوگ 7 بنیادوں کو اپنی کا میابی کی ضمانت سمجھ رہے ہیں ۔ پہلی بات تو یہ کہ سعودیوں کیلئے نماز فجر سے لیکر رات 12 بجے تک ڈیوٹی دینا محال ہے ۔ دوسرا نقطہ یہ ہے کہ دسیوں ہزار سعودیوں کو بقالوں میں ملازم رکھنے کا کوئی مالی فائدہ نہیں ہوگا ۔ سعودی 16 گھنٹے کی ڈیوٹی پر محنتانہ زیادہ لیں گے۔ تیسرا نقطہ یہ ہے کہ سعودی ہفتہ میں 7 دن کام نہیں کرسکتے ۔ مہینے میں 30 روز ڈیوٹی نہیں دے سکتے ۔ بغیر چھٹی کے سال کے 12 مہینے کام نہیں کرسکتے ۔ ایک نقطہ یہ ہے کہ سعودیوں کے پاس بقالے چلانے کیلئے درکار تجربہ نہیں ۔ اس ہنر سے وہ نابلد ہیں۔ ادھار سامان فروخت کرنے کے چیلنج سے نہیں نمٹ سکیں گے۔ گاہکوں کو گھروں پر سامان مہیا نہیں کراسکتے ۔ مملکت بھر میں سپر مارکٹ اور بائپر مارکٹ اتنی تعداد میں نہیں کہ وہ 40 ہزار سے ز یادہ بقالوں کا خلاء پر کرسکیں۔ ایشیائی تارکین سعودائزیشن کو ناکام بنانے کیلئے اپنی آمدنی کے ایک حصے سے دستبردار ہونے کی تجویز پر بھی غور کر رہے ہیں۔ تجویز یہ ہے کہ سعودی کو دکھانے کیلئے ملازم رکھ لیا جائے اور کام ایشیائی کرتا رہے ۔ ایک حل یہ بھی سوچا جارہا ہے کہ بقالوں کو تجارتی گوداموں کی شکل دے دی جائے اور اشیائے صرف گاہکوں کو گھروں تک پہنچ ائی جائیں ۔ یعنی آن لائین بقالہ کا رواج متعارف کرایا جائے ۔ ابھی تک سعودی عرب میں تجارتی گودام کی سعودائزیشن نہیں ہوئی ۔ ایشیائی تارکین کے سامنے ایک حل یہ بھی ہے کہ اگر ان پر دباؤ زیادہ بڑھا تو ایسی صورت میں بقائے کے مالک ایشیائی غیر ملکی کمپنی کے ماتحت ہوجائیں گے اور قانون کی نظر میں بڑی کمپنی کیلئے کام کریں گے۔
جیسا کہ ہم نے بتایا کہ اس کاروبار میں پیسہ ہے مگر بقالہ چلانے کا کام بہت محنت طلب ہے جس کا اعتراف اوپر پیش کی گئی رپورٹ میں بھی کیا گیا ۔ یہی حال ٹیکسی ڈرائیونگ کا بھی ہے ۔ کوئی 20 سال سے ٹیکسی ڈرائیونگ پر بھی مکمل سعودائزیشن لانے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن اس منصوبہ میں محض اس لئے کامیابی حاصل نہ ہوسکی کیونکہ یہ کام بھی سخت محنت کا متقاضی ہے ۔ ہر شعبہ میں سعودائزیشن کا لاگو کیا جانا کوئی غلط عمل نہیں ہے ۔ مقامی ا فراد کو روزگار فراہم کرنے کی کوشش کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن ہم کو اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ زمانہ سخت مسابقت کا زمانہ ہے ۔ یہاں جو مضبوط ہوگا وہی ٹک پائے گا ۔ دنیا کے کسی بھی حصہ کا آجر ہووہ یہی دیکھے گا کہ کم سے کم لاگت میں بہتر خدمات کیسے حاصل کیا جائے اور یہی کچھ سعودی عرب میں بھی ہورہا ہے ۔ سعودائزیشن تجزیہ نگاری یا اخباروں کے اوراق کالے کرنے سے نہیں بلکہ جس دن مقامی افراد مسابقت کے میدان میں ڈٹ جائیں گے اس دن یہ ملک خارجی باشندوں سے خالی ہوجائے گا ۔

آخر میں ہم حکومت ہند سے یہ گزارش کریں گے جس طرح سعودی حکومت اپنے عوام کو روزگار دلانے کیلئے ہر طرح کی کوشش کر رہی ہے ۔ ویسے ہی حکومت ہند کو بھی چاہئے کہ وہ خلیجی ممالک سے واپس لوٹنے والے این آر آئیز کیلئے کوئی ٹھوس منصوبہ برائے باز آبادکاری تیار کرے اور پچھلے چار دہائیوں سے ملک کی معیشت کو سہارا دینے والوں کی مدد کیلئے آگے بڑھے ۔ ہم نے برسوں ملک کو زر مبادلہ کی شکل میں بہت کچھ دیا ہے ۔ آج اگر ہم ضرورت مند ہیں یا ملک سے مدد چاہتے ہیں تو حکومت کو چاہئے کہ وہ ترجیحی بنیاد پر ہماری مدد کرے ۔ یہاں کی این آر آئیز تنظیمیں حکومت سے مسلسل نمائندگیاں کر رہی ہیں لیکن وطن میں ہمارے لئے کچھ ہوتا نظر نہیں آتا ۔ یوں لگتا ہے اب این آر آئیز کی صورتحال نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے والی ہوگئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT