Monday , June 25 2018
Home / Top Stories / اِسرائیلی فضائی جارحیت کا تیسرا دن ، مزید 31 فلسطینی جاں بحق

اِسرائیلی فضائی جارحیت کا تیسرا دن ، مزید 31 فلسطینی جاں بحق

غزہ سٹی ؍ یروشلم۔ 10 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) حماس اور دیگر شدت پسند گروپس کے خلاف غزہ پٹی میں اسرائیل کی بڑی فوجی مہم آج تیسرے دن بھی جاری رہی اور 31 افراد بشمول 5 بچے جاں بحق ہوگئے۔ ان میں 9 ایسے فلسطینی شامل ہیں جو ایک ہوٹل میں ٹی وی پر فٹبال ورلڈ کپ کا مشاہدہ کررہے تھے اور حملے کی زد میں آکر جاں بحق ہوگئے۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جاں ب

غزہ سٹی ؍ یروشلم۔ 10 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) حماس اور دیگر شدت پسند گروپس کے خلاف غزہ پٹی میں اسرائیل کی بڑی فوجی مہم آج تیسرے دن بھی جاری رہی اور 31 افراد بشمول 5 بچے جاں بحق ہوگئے۔ ان میں 9 ایسے فلسطینی شامل ہیں جو ایک ہوٹل میں ٹی وی پر فٹبال ورلڈ کپ کا مشاہدہ کررہے تھے اور حملے کی زد میں آکر جاں بحق ہوگئے۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 80 ہوگئی ہے جبکہ 500 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ آج دوپہر کے وقت اسرائیل نے بیت لاھیا میں فضائی حملے کئے جن میں 5 سالہ عبداللہ ابو غزال جاں بحق ہوگیا۔ اسرائیل نے فلسطین کے ہتھیاروں کے ذخائر اور راکٹس لانچ کرنے کے مقامات کو نشانہ بناتے ہوئے ساحلی پٹی پر آج بھی فضائی حملے جاری رکھے۔ اس کے علاوہ حماس قائدین کے مکانات بھی نشانہ پر ہیں۔ حماس اور دیگر شدت پسند گروپس جوابی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور آج بھی اسرائیل کے آبادی والے مراکز پر مسلسل راکٹس فائر کئے جاتے رہے۔ جنوبی اور وسطی اسرائیلی شہروں اور ٹاؤنس میں سائرن کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ یہاں راکٹس گرے لیکن کسی کے مرنے یا زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں۔ اسرائیل کے F-16 طیارہ نے آج ایک ہوٹل فن ٹائم بیچ کیفے کو حملے کا نشانہ بنایا جہاں لوگ ارجنٹائن اور نیدرلینڈز کے مابین فٹبال ورلڈ کپ سیمی فائنل کا مشاہدہ کررہے تھے۔ اس حملے کی وجہ سے 9 افراد جاں بحق ہوگئے۔ بلڈوزر کی مدد سے فوری ملبہ ہٹایا گیا تاکہ پھنسے ہوئے افراد کو نکالا جاسکے۔جاں بحق ہونے والوں میں شامل دو بھائیوں محمد اور ابراہیم خنان کے جلوس جنازہ میں ہزاروں افراد شریک تھے اور وہ فتح پارٹی کے بیانرس تھامے نعرے لگا رہے تھے۔ ا

ن دو بھائیوں کے پڑوسی محمد العمودی نے بتایا کہ یہ دونوں جنگجو نہیں بلکہ ماہی گیر تھے۔ نمازِ جنازہ کے بعد عمودی نے شرکاء سے کہا کہ ان دو بھائیوں کو ’’شہادت‘‘ نصیب ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی انتقام، رائفل، راکٹ اور ہماری طاقت کے ذریعہ محض اللہ کی خوشنودی کیلئے ہونا چاہئے۔ جب انہوں نے کہا کہ ہماری مزاحمت جاری ہے اور ہم حیفا سے لے کر اس کے آگے کے مقامات تک نشانے لگا رہے ہیں (ان کا اشارہ غزہ سے راکٹ فائر کئے جانے کی طرف تھا) تو تمام شرکاء نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ اسرائیل نے یہ فوجی کارروائی شروع کرنے سے اب تک غزہ میں 780 سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا اور کئی مقامات پر شدت پسندوں اور کمانڈرس کو ہلاک کیا گیا۔ اسلامی جہاد گروپ نے بتایا کہ اس کے تین ارکان غزہ سٹی کے وسط میں آج صبح ڈرائیونگ کے دوران حملے کی زد میں آکر جاں بحق ہوگئے۔ اسرائیل کی اُمور داخلہ اتھارٹی کے مطابق 9 اسرائیلی شہریوں کو معمولی زخم آئے، ان میں اکثریت اُن افراد کی ہے جو پناہ گاہ کی طرف دوڑ رہے تھے۔

اس کے علاوہ کئی افراد کا پریشانی اور خوف کی وجہ سے پیدا شدہ کیفیت پر علاج کیا گیا۔ یروشلم نے وزیراعظم بنجامن نتن یاہو نے سکیورٹی کابینہ کا اجلاس منعقد کیا تاکہ بدترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جاسکے۔ امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ جان ایف کیری نے بیجنگ کے دورہ کے اختتام پر نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے جس کی امریکہ تائید کرتا ہے۔ اسرائیل کے دفاعی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ان کا مشن غزہ پٹی میں حماس اور دیگر شدت پسند گروپس کو راکٹس فائر کرنے سے روکنا نہیں بلکہ حماس کے کمانڈرس کو ہلاک کرتے ہوئے انہیں کمزور بنانا ہے۔ حماس نے اسرائیل کے تجارتی دارالحکومت تل ابیب سے آگے تک راکٹس فائر کئے ، ملک کی ساحلی ہائی ٹیک راہداری بھی ان کی زد میں آچکی ہے۔ غزہ سرحد سے تقریباً 100 میل دور حیفا بندرگاہی شہر کو بھی راکٹ حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ جنوبی زکریا یعقوب، قیساریہ اور خضیرہ میں بھی راکٹس گرنے کے بعد یہاں عوام کے لئے بم شیلٹرس کو کھول دیا گیا۔

پہلی مرتبہ غزہ سے اتنی دور کے فیصلے تک راکٹس حملے کئے گئے ہیں۔ اسرائیل کے ایک ترجمان نے کہاکہ اسرائیلی فضائیہ نے گزشتہ 24 گھنٹے میں غزہ پٹی کے 320 سے زیادہ اہداف پر نشانہ لگایا ہے۔ رات بھر فضائی حملے جاری رہے۔ حماس کی 58 سرنگیں، 220 زیرزمین راکٹ لانچرس، 46 کمانڈ کنٹرول مراکز اِس علاقہ میں قائم تھے جنھیں تباہ کردیا گیا۔ 80 کمانڈ کنٹرول مراکز پر بمباری کی گئی۔ 513 زیرزمین راکٹ لانچرس، 800 ٹن دھماکو مادے استعمال کرتے ہوئے اسرائیلی فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے تباہ کردیئے۔ اسرائیلی فضائیہ کی موجودہ فائرنگ کی شرح دوگنی کردی گئی ہے۔ محکمہ دفاع کے ایک عہدیدار نے کہاکہ آج صبح جب حماس کارکن نیند سے بیدار ہوں گے تو غزہ میں بڑے پیمانے پر تباہی دیکھیں گے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ تین اسرائیلی نوجوانوں کا اغواء اور قتل حماس کی کارستانی ہے جس کی حماس نے تردید کی ہے۔ اُن کی تدفین کے ایک دن بعد فلسطینی نوجوان کو مشرقی یروشلم سے 6 مشتبہ یہودیوں نے اغواء کرکے قتل کردیا تھا۔ اُنھیں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ 16 سالہ لڑکے کی قومیت اِس کی قتل کی وجہ بنی تھی۔

TOPPOPULARRECENT