Monday , May 28 2018
Home / شہر کی خبریں / آئندہ پارلیمانی اجلاس میں طلاق ثلاثہ پر قانون سازی

آئندہ پارلیمانی اجلاس میں طلاق ثلاثہ پر قانون سازی

ڈرافٹ قانون تیار، جمہوری ڈھانچہ میں ترمیم اور دستور کی تبدیلی میں اجلاس کو اہمیت
حیدرآباد۔ 10 ڈسمبر(سیاست نیوز) ہندستان کے جمہوری ڈھانچہ میں ترمیم اور دستور ہند کی تبدیلی میں آئندہ پارلیمانی سیشن انتہائی اہم ثابت ہوگا اور اس سرمائی سیشن کے دوران خدشہ ہے کہ حکومت ہند کی جانب سے شریعت میں مداخلت کرنے والے قانون کو پیش کرتے ہوئے منظور کروالیا جائے گا۔ حکومت ہند نے طلاق ثلاثہ پر پابندی کے سلسلہ میں قانون سازی مکمل کرنے کے علاوہ اس ڈرافٹ قانون کو تیار کر لیا ہے جو آئندہ پارلیمانی اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ سرمائی سیشن کے دوران پیش کیا جانے والا یہ قانون ہندستان میں بسنے والے 25کروڑ سے زائد مسلمانوں کے مذہبی عائلی امور میں مداخلت کا باب ثابت ہوگا اور اس مسئلہ پر اختیار کردہ خاموشی کسی بھی مسئلہ پر قانون سازی کی راہیں ہموار کرنے کا سبب بن سکتی ہیں۔ حکومت ہند کے منصوبہ کے مطابق اس قانون کو روشناس کرواتے ہوئے نفاذ کے فوری بعد جائیداد کی تقسیم اور دیگر امور کے سلسلہ میں بھی اقدامات یقینی بنائے جائیں گے۔ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے دوران اگر اس قانون کو متعارف کرواتے ہوئے منظور کروایا جاتا ہے تو ایسی صورت میں دستور ہند میں ہندستانی شہریوں کو حاصل مذہبی آزادی پر کاری ضرب لگے گی اور اس کے نشان کو گہرا کرنے کیلئے کئی اور ضربیں حکومت کے منصوبہ میں شامل ہیں ۔ طلاق ثلاثہ پر پابندی اور اس اقدام کے مرتکب کو سزاء دینے کے متعلق حکومت کے فیصلہ کو سپریم کورٹ کے احکام کا حصہ قرار دیتے ہوئے قانون سازی کی جا رہی ہے اور کہا جارہا ہے کہ اسے قانون کی تیاری سے روکا نہیں جا سکتا لیکن ’’جلی کٹو‘‘ معاملہ میں حکومت کی جانب سے اختیار کردہ موقف کا جائزہ لیا جائے تو حکومت اپنے موقف کے مطابق آرڈیننس کی اجرائی کی مجاز ہے لیکن اسے مجبور کیاجانا ناگزیر ہوتا ہے ۔ طلاق ثلاثہ مسئلہ پر قانون سازی کی صورت میں شریعت میں مداخلت کی راہ ہموار ہوجائے گی اور اس مسئلہ کے بعد دیگر مسائل کو پیش کیا جاتا رہے گا اور طلاق ثلاثہ مسئلہ پر کی گئی قانون سازی ان مسائل پر قانون سازی کیلئے بطور مثال پیش کی جاتی رہے گی ۔ تقسیم وراثت اور خواتین کو مساوی حقوق کے نام پر اکسانے کی کوشش کے علاوہ حق علحدگی پر بھی مباحث کا امکان ہے اور کہا جا رہا ہے کہ حق وراثت میں مساوی حصہ کے سلسلہ میں بھی ذیلی قوانین کے متعلق غور کیا جانے لگا ہے اسی طرح خواتین کو حق علحدگی کی فراہمی پر بھی منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔ شریعت میں مداخلت کے سلسلہ میں کی جانے والی اس سازش کے کامیاب ہونے کی صورت میں حکومت کسی بھی معاملہ میں اس مداخلت کو جواز بناتے ہوئے قانون سازی کی مجاز ہوتی چلی جائے گی اور کوئی طاقت حکومت کو روک نہیں پائے گی۔

TOPPOPULARRECENT