Sunday , June 24 2018
Home / مضامین / آئیے جنوبی ایشیا کو خوشحال بنائیں

آئیے جنوبی ایشیا کو خوشحال بنائیں

میں ٹورنٹو میں سرد موسم کا لطف اٹھارہا ہوں ۔دہلی میں ایک ہفتہ گزارنے کے صرف چار دن بعد ۱۵ گھنٹے کی لگاتار اڑان سے یہاں پہنچے دس ہزار میل کے فاصلے پر اپنا وطن اور آس پاس یاد آرہا ہے۔ ہم پاکستانی ہندوستانی جب چند میل کے فاصلے پر ہوتے ہیں تو ایک دوسرے سے بہت دور ہوتے ہیں لیکن جب علاقے سے ہزاروں میل دور ہوتے ہیں تو فاصلے گھٹ جاتے ہیں۔

میں ٹورنٹو میں سرد موسم کا لطف اٹھارہا ہوں ۔دہلی میں ایک ہفتہ گزارنے کے صرف چار دن بعد ۱۵ گھنٹے کی لگاتار اڑان سے یہاں پہنچے دس ہزار میل کے فاصلے پر اپنا وطن اور آس پاس یاد آرہا ہے۔ ہم پاکستانی ہندوستانی جب چند میل کے فاصلے پر ہوتے ہیں تو ایک دوسرے سے بہت دور ہوتے ہیں لیکن جب علاقے سے ہزاروں میل دور ہوتے ہیں تو فاصلے گھٹ جاتے ہیں۔ آپس میں ملتے بھی ہیں۔کاروبار بھی کرتے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم اپنے بنیادی تنازعات طے کیوں نہیںکر لیتے۔ انہیں ملتوی کیوں کرتے آرہے ہیں۔ کتنی نسلیں اچھے دنوں کی آس لگائے دنیا سے اٹھ گئیں۔ غربت ہے کہ بڑھتی ہی جارہی ہے۔ لگتا ہے کہ ہم محرومیوںکو اپنا مقدر سمجھ بیٹھے ہیں۔ اس لئے اپنی مشکلات دور کرنے، اپنے ہاں خوشحالی لانے کی کوشش کرنے کی بجائے خوشحال ملکوں کا رخ کرلیتے ہیں۔ کاش ہم اپنے شہروں کو نیو یارک، لندن، ہیوسٹن، ٹورنٹو، وینکوور بناتے ۔ہمارے خطے آج سے صدیوں پہلے ان شہروں سے زیادہ بارونق، امیر اور پرکشش ہوتے تھے۔ اسی لئے برطانیہ، ہالینڈ، فرانس، پرتگال، بلجیم دولت کی تلاش میں مشرق کا عزم کرتے تھے۔ ہمارے سونے چاندی اور اناج کی بدولت ان کے دن پھرے اور یہ ترقی کرتے چلے گئے۔ ہم پستیوں میں گرتے گئے۔ اب ہمارے جوان ہمارے دست و بازو ان ملکوں کو طاقت ور بنارہے ہیں۔ ان کے ہاں عمریں لمبی ہورہی ہیں۔ کیونکہ خوراک عمدہ ہے۔ صحت کا خاص خیال رکھتے ہیں۔

زندگی کا دورانیہ طویل ہورہا ہے ۔بزرگ شہری کام کے اہل نہیں رہتے۔ انہیںجوانوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جن کی ہمارے ہاں بہتات ہے۔ ہم خوش ہو جاتے ہیں کہ باہر سے پیسہ تو آرہا ہے۔ دونوں ملکوں میںان محنت کشوں کی طرف سے اربوں ڈالر کا فارن ایکسچینج ہماری معیشت کو مستحکم کرتا ہے، جو بظاہر بہت اچھا لگتا ہے۔ لیکن ہمارے نوجوانوں کو کتنی مشقت کرنا پڑتی ہے۔ گھر سے دور بے آرامی۔ ادھر ہم لوگ تو انہیں ڈالر کمانے کی مشینیں سمجھ کر اور اور کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ نہیں سوچتے کہ ان پر کیا گزرتی ہے۔ وہاںکی زندگی کی پریشانیاں الگ اور ادھر گھر والوں کی نفسیاتی الجھنیں الگ، اگر ہمارے لیڈر اپنے مسائل حل کرنے پر توجہ دیں، اپنے قدرتی اور معدنی وسائل کو نکالیں، اپنا سونا تانبا برآمد کریں تو اپنے ملک میں ہی اتنا پیسہ پیدا ہو سکتا ہے کہ ہمارے بیٹوں کو باہر نہیں جاناپڑ ے ۔ اپنے پیاروں سے دور نہ رہناپڑے۔ ان کی صلاحیتیں ان کے بازوؤں کی طاقت اپنے ملک کے لئے استعمال ہو تو اندازہ کیجئے کہ یہ علاقہ کتنی ترقی کرسکتا ہے۔ اس طر ح ان ملکوں میں جتنی آمدنی ہوگی وہ اس فارن ایکسچینج سے یقینی طور پر کہیں زیادہ ہوگی جو ہمارے ملکوں کے نوجوان انتہائی مشکل حالات میں کام کرکے بھیجتے ہیں۔ ہمارے بعض شہروں میں تو اس پیسے کی ریل پیل دیکھنے میں آتی ہے۔ معاشرے میں عدم توازن بھی پیدا ہو رہا ہے۔ شادیوں پر ایک کروڑ سے کہیں زیادہ خرچ ہو رہا ہے۔ انتہائی کٹھن حالات میں کمائی گئی دولت ان شہروں میں بڑی بیدردی سے خرچ کردی جاتی ہے۔

آپ بھی سوچ رہے ہونگے کہ میں کن قصوں میں الجھ رہا ہوں۔ آپ الیکشن میں مصروف ہوں گے انتظار ہو گا 16 مئی کا۔گنتی ہواور معلوم ہو کہ مودی صاحب کتنی سیٹیں لینے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ میرے خیال میں مودی یہ کام کرسکتے ہیں ان کے بارے میں کچھ بھی کہا جارہا ہو کتنے اختلافات ہوں ایک بات سے سب اتفاق کرتے ہیں کہ وہ ایک سخت گیر ایڈمنسٹریٹر ہوں گے اور باہر کے ملکوں سے مدد لینے پر یقین نہیں رکھیں گے۔ وزارت عظمیٰ تک پہنچنے سے پہلے انہوں نے بڑا لمبا سفر کیا ہے۔ ایک عام سیاسی کارکن، سادھو، پرچارک سے وزیر، پھر چیف منسٹر ۔گجرات کو رول ماڈل بنانے کی مسلسل کوششیں۔ بہت بڑی تعداد میں لوگ ان سے امیدیں باندھ رہے ہیں۔ اسی طرح امیدیں پاکستان میں میاں بھائیوں سے باندھی گئیںافغانستان میں نئے صدر سے بھی وہاں کے عام لوگوں کو بہت سی آس ہوگی یہ حکمران اگر چاہیں تو مل کر اپنے لا محدود وسائل سے تبدیلی اور خوشحالی لا سکتے ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ سب سے زیادہ یہی آپس میں لڑتے ہیں۔ یہ سارک کا علاقہ جنوبی ایشیا دنیا کی سب سے زیادہ آبادی بھی یہاں ہے۔ سب سے زیادہ معدنیات بھی سب سے زیادہ ذہین انسان بھی اور سب سے زیادہ محنت کرنے والے بھی۔ معلوم نہیں کب عقل کا بول بالا ہوگا اور ہم لوگ کب سنجیدگی سے اپنی مائوں بہنوں بیٹوں بیٹیوں کے مستقبل کی فکر کریں گے ۔

حکمران لیڈروں، بڑی سیاسی جماعتوں، یونیورسٹیوں، میڈیا سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ تحقیق کریں کہ ہم اپنے مسائل، اپنے وسائل سے کسطرح اور کتنے عرصے میں حل کرسکتے ہیں۔ اک عزم کی ضرورت ہے ۔ہمیں یہ پختہ اراد ہ کرناچاہیے کہ ہم اپنے دیشوں میں ہی مانچسٹر ،بریڈفورڈ ،برمنگھم ،لاس اینجلس، اٹلانٹا، ایڈمنٹن ،کیلگری بنائیں۔ ہم یہ کر سکتے ہیں یہاں بھی یہ چمکتے دمکتے زندگی میں آسانیوں والے شہر انسانوں نے ہی بنائے ہیں۔ ہم کیوں نہیں بنا سکتے۔ ذرا سوچئے ۔آج مقابلے کا دور ہے ٹیکنالوجی کا عہد ہے ہم جنوبی ایشیا والے کسی سے کم نہیں ہیں ۔
[email protected]
صرف ایس ایم ایس کے لیے:92-3317806800

TOPPOPULARRECENT