Wednesday , December 19 2018

آئی سی سی میچ فکسنگ میں شریک، بنگلہ دیش کا الزام

ڈھاکہ ، 13 جون (سیاست ڈاٹ کام) بنگلہ دیش نے الزام عائد کیا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے میچ فکسنگ اور بدعنوانی پر نظر رکھنے والے انسپکٹرز نے آگاہ ہونے کے باوجود بنگلہ دیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) کا ایک میچ منعقد ہونے دیا اور منتظمین کو اس سے آگاہ نہیں کیا۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے قائم کردہ ایک خصوصی ٹریبیونل کی رپورٹ کے مطاب

ڈھاکہ ، 13 جون (سیاست ڈاٹ کام) بنگلہ دیش نے الزام عائد کیا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے میچ فکسنگ اور بدعنوانی پر نظر رکھنے والے انسپکٹرز نے آگاہ ہونے کے باوجود بنگلہ دیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) کا ایک میچ منعقد ہونے دیا اور منتظمین کو اس سے آگاہ نہیں کیا۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے قائم کردہ ایک خصوصی ٹریبیونل کی رپورٹ کے مطابق، ’’اس بات کے واضح شواہد موجود ہیں کہ 2 فروری 2013ء کو ڈھاکہ گلیڈی ایٹرز اور چٹگانگ کنگز کے درمیان منعقدہ فِکسڈ میچ آئی سی سی کے اینٹی کرپشن اینڈ سکیورٹی یونٹ (ACSU) کی رضامندی سے کھیلا گیا‘‘۔ اے سی ایس یو نے معلومات تو جمع کیں مگر فِکسڈ میچ کو روکنے میں کوئی کردار ادا نہ کیا۔ یہ رپورٹ جس کی نقل فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کو حاصل ہوئی ہے،

8 جون کو آئی سی سی کے حوالے کی گئی۔ خصوصی ٹریبیونل جس کی سربراہی ایک ریٹائرڈ جج نے کی، بی سی بی نے گزشتہ ستمبر میں اس وقت تشکیل دیا تھا جب آئی سی سی نے فکسنگ کے بارے میں 9 افراد کے خلاف الزامات سامنے لائے تھے۔ آرگنائزرز نے بی پی ایل میں نگرانی کیلئے آئی سی سی کے تحقیقات کاروں کی خدمات حاصل کئے تھے کیونکہ 2012ء میں اس کا افتتاحی ایڈیشن اسی طرح کے الزامات سے متاثر ہوا تھا۔ سابق نیوزی لینڈ انٹرنیشنل کھلاڑی لوو ونسنٹ کے علاوہ بنگلہ دیشی محمد اشرفل اور سری لنکائی کوشل لوکواراچی نے بھی فکسنگ میں ملوث ہونے کا اعتراف کرلیا۔

TOPPOPULARRECENT