Saturday , November 17 2018
Home / Top Stories / آئی سی یو میں مریضہ کے علاج کیلئے تانترک کی خدمات

آئی سی یو میں مریضہ کے علاج کیلئے تانترک کی خدمات

ملک میں عوام کی اکثریت توہم پرستی کے دلدل میں
نیک و بد شگون کے حساب سے مریضوں کا مخصوص اوقات میں علاج، ڈاکٹر کی غفلت سے نوجوان خاتون کی موت، ویڈیو وائرل
پونے 15 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ہمارے ملک نے زندگی کے ہر شعبہ میں ترقی کی ہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی، خلائی سائنس، آئی ٹی اور طب کے شعبوں میں ہندوستان کا شمار چنندہ ملکوں میں ہوتا ہے۔ ہمارے ملک کے باشندوں میں تعلیم کی بھی کوئی کمی نہیں۔ سائنسدانوں، ڈاکٹروں، انجینئروں، ماہرین تعلیم، فن کاروں اور اپنے فن میں غیر معمولی مہارت رکھنے والے آرٹسٹوں کی تعداد لاکھوں کروڑوں میں ہے۔ اس کے باوجود توہم پرستی کا حال یہ ہے کہ لڑکیوں کی شادیاں کتوں سے کرائی جاتی ہیں، دفینہ کے لالچ اور بیماریوں سے چھٹکارا کے لئے شیرخوار بچوں کی بلی چڑھاکر فخر کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اسپتالوں میں علاج کروانے کی بجائے جاڑ پھونک کرنے والے جاہلوں اور تانترک کی مدد لی جاتی ہے۔ جادو کے شبہ میں غریب خواتین کی برہنہ پریڈ کی جاتی ہے۔ دولت میں اضافہ کے لئے مذہبی رہنماؤں کے برہنہ جسموں پر دودھ انڈیل کر اسے نوش کرنا خوش قسمتی تصور کی جاتی ہے اور جب کوئی معقولیت پسند اس توہم پرستی کے خلاف آواز اُٹھاتا ہے تو اس کی آواز ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کردی جاتی ہے۔ حال ہی میں مہاراشٹرا کے پونے میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے ہندوستانیوں کا سر شرم سے جھکادیا ہے۔ پونے کے ایک اسپتال میں چھاتی کے کینسر میں مبتلا ایک مریضہ کا علاج کرنے کی بجائے ڈاکٹر نے ایک تانترک کی خدمات حاصل کی، نتیجہ میں خاتون اعضائے رئیسہ کے شدید متاثر ہونے کے باعث انتقال کرگئی۔ سائنسی ترقی کے اس دور میں ایک کوالیفائیڈ ڈاکٹر کی جانب سے کی گئی اس حرکت پر ملک و بیرون ملک حیرت کا اظہار کیا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سندھیا سونا وانے 11 مارچ کو ڈاکٹر ستیش چوان سے رجوع ہوئی جو ایک خانگی اسپتال چلاتا ہے۔ مریضہ کو اس کی خراب حالت کے پیش نظر آئی سی یو میں منتقل کردیا گیا جہاں مؤثر علاج کی بجائے ڈاکٹر نے ایک تانترک کی خدمات حاصل کرلی۔ مریضہ کے رشتہ داروں نے موبائیل فون کے ذریعہ اس کی فلم بندی کرلی۔ پیر کو سندھیا آئی سی یو میں چل بسی۔ اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس واقعہ میں اس کا کوئی رول نہیں ہے۔ منگل کو رات دیر گئے النکار پولیس اسٹیشن میں متوفی خاتون کے رشتہ داروں نے کیس درج کروایا جس کے بعد ڈاکٹر چوان اور تانترک کے خلاف مہاراشٹرا کے قانون انسداد توہم پرستی، کالا جادو 2013 کے تحت مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا۔ ڈاکٹر ستیش چوان اور تانترک مفرور بتائے گئے ہیں۔ یہ واقعہ دینا ناتھ منگیشکر اسپتال میں پیش آیا۔ علاج نہ کئے جانے کے باعث فوت ہونے والی 24 سالہ خاتون کے بھائی کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر چوان کو تانترکوں پر بہت زیادہ یقین ہے۔ حد تو یہ ہے کہ وہ نیک شگون اور بدشگون پر یقین رکھتے ہوئے مریضوں کا مخصوص اوقات میں آپریشن اور علاج کرتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT