Saturday , May 26 2018
Home / شہر کی خبریں / آبادی کے تناسب سے عدالتوں کے قیام پر زور

آبادی کے تناسب سے عدالتوں کے قیام پر زور

مرکزی و ریاستی حکومتوں کی لاپرواہی پر اظہار افسوس، مختلف وکلاء کی پریس کانفرنس

حیدرآباد 4 مارچ (سیاست نیوز) ہندوستان میں قانون او رعدالتی نظام کی بڑی اہمیت، قدر و قیمت ہے اس کے ذریعہ ایسے عوام جو تنازعات کا شکار ہیں وہ مسائل کے حل کیلئے عدالتوں کا رُخ کرتے ہیں۔ افسوس کہ جمہوریت کے اس دور میں صدرجمہوریہ، گورنرس، مرکزی اور ریاستی حکومت کا معاملہ غیر ذمہ دارانہ ہے اور عرصہ دراز سے ملک کی عدالتوں میں انگریزی پالیسی اور طریقہ کار کو اپنانے کی وجہ سے مقدمات زیرالتواء اور آبادی کے تناسب کے لحاظ سے ججس کے تقررات میں لاپرواہی سے عوام کو اپنے مسائل کے حل کے لئے پریشانیوں کا سامنا ہے۔ آج یہ بات سدا راؤ نندی کاماریڈی ایڈوکیٹ صدر انڈین لائیر فورم، پی دامودھر ریڈی ایڈوکیٹ، جی ودھیالہ ایڈوکیٹ، گدی کوٹہ ناگولہ ایڈوکیٹ سکریٹری فورم، بی کرانتی کمار ایڈوکیٹ نے پریس کلب بشیر باغ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ آبادی کے تناسب سے عدالتوں میں ججس کے تقررات عمل میں لائیں۔ انھوں نے کہاکہ حکومت نے عدلیہ کے لئے کوئی مؤثر بجٹ مختص نہیں کیا ہے۔ وہی قدیم بجٹ اب تک لاگو ہے اس میں اضافہ کے لئے ٹال مٹول کیا جارہا ہے اس لئے حکومت ہائی کورٹ، سٹی سیول کورٹ اور اضلاع کی عدالتوں میں جہاں جہاں فاضل ججس کی جائیدادیں مخلوعہ ہیں اُسے فوری پُر کرے۔ بالخصوص پانچ سال کے دوران ججس کے تقررات کے نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات و مصیبت میں گھرے ہوئے عوام کو شدید مسائل سے دوچار ہونا پڑرہا ہے۔ انھوں نے 498(A) کے تحت جو خاندان مسائل میں مبتلا ہیں ان ججس کے نہ ہونے کی وجہ سے بھی واقف کروایا۔

TOPPOPULARRECENT