Sunday , September 23 2018
Home / شہر کی خبریں / آبپاشی پراجیکٹس میں بے قاعدگیوں کے الزامات مسترد

آبپاشی پراجیکٹس میں بے قاعدگیوں کے الزامات مسترد

5 پراجیکٹس کی ری ڈیزائننگ، 61 ہزار کروڑ کا اضافی بوجھ، اسمبلی میں ہریش رائو کا جواب
حیدرآباد۔ 21 مارچ (سیاست نیوز) وزیرآبپاشی ہریش رائو نے آبپاشی پراجیکٹس کی ری ڈیزائننگ میں بھاری بے قاعدگیوں سے متعلق کانگریس کے الزامات کو مسترد کردیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس نے مقدمات کے ذریعہ پراجیکٹس کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہریش رائو نے پراجیکٹس کی تعمیر میں بے قاعدگیوں کے الزامات کو کانگریس کا جھوٹا پروپگنڈہ قرار دیا تاہم اس بات کا اعتراف کیا کہ 5 بڑے پراجیکٹس کی ری ڈیزائننگ سے مالیت میں 61,498 کروڑ کا اضافہ ہوچکا ہے اور مزید 30 لاکھ ایکڑ اراضی کو سیراب کیا جاسکے گا۔ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران بی جے پی ارکان کشن ریڈی، ڈاکٹر لکشمن، سی ایچ رام چندرا ریڈی اور این وی وی ایس پربھاکر کے سوال کے جواب میں ہریش رائو نے مرکزی حکومت سے پراجیکٹس کی منظوریوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس حکومت متحدہ آندھراپردیش میں پراجیکٹس کی منظوریاں حاصل کرنے میں ناکام ہوگئی تھی۔ جبکہ ٹی آر ایس نے پراجیکٹس کی ری ڈیزائننگ کے ذریعہ تمام درکار منظوریاں حاصل کرلی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ری ڈیزائننگ کے ذریعہ زائد اراضی کو سیراب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہریش رائو نے کہا کہ ریاست میں ایک کروڑ ایکر اراضی کو سیراب کرنے کے لیے پراجیکٹ کی ری ڈیزائننگ کی گئی ہے۔ مستقبل میں تلنگانہ ریاست ملک بھر کے لیے چاول فراہم کرنے والی ریاست بن جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے دوراندیشی کے ساتھ پراجیکٹس کی تکمیل کا فیصلہ کیا ہے اور روزانہ وہ شخصی طور پر پراجیکٹس کے کاموں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے بی جے پی فلور لیڈر کشن ریڈی کے اس الزام کو مسترد کردیا کہ بعض پراجیکٹوں کی ڈی پی آر تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ڈی پی آر کی تیاری تک کسی بھی پراجیکٹ کے کام کا آغاز نہیں کیا جاتا۔ ٹی آر ایس برسر اقتدار آنے کے بعد موبلائزیشن اڈوانس سسٹم کو ختم کردیا گیا ہے کیوں کہ تعمیری کاموں سے قبل ہی کنٹراکٹرس رقومات حاصل کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی قائدین حکومت کے خلاف جھوٹا پروپگنڈا کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ کانگریس کو عوامی تائید حاصل نہیں ہورہی ہے۔ کالیشورم پراجیکٹ کی ری ڈیزائننگ کے بعد مزید 37 لاکھ ایکر اراضی کو سیراب کیا جاسکے گا۔ انہوں نے کہا کہ پالمور پراجیکٹ کی تکمیل سے آنے والی نسلوں کو بھی فائدہ ہوگا۔ ہریش رائو نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو آبپاشی پراجیکٹس کی تکمیل کے ذریعہ ریاست کے کسی بھی علاقہ کو پانی سے محروم رکھنا نہیں چاہتے۔ انہوں نے ارکان اسمبلی کو تیقن دیا کہ پراجیکٹس کے تحت تمام اسمبلی حلقہ جات کا احاطہ کیا جائے گا۔ ہریش رائو نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ کسانوں کی خودکشی کے واقعات ختم ہوجائیں اور ہر اسمبلی حلقے کو پانی سیراب کیا جائے۔ اپوزیشن جماعتیں سیاسی مقصد براری کے لیے تنقیدیں کررہی ہیں جبکہ حکومت عوام کی خواہشات اور امنگوں کی تکمیل کے مقصد سے کام کررہی ہے۔ اصل سوال کا جواب دیتے ہوئے ہریش رائو نے کہا کہ ریاست میں نئے پراجیکٹس کے کاموں کا آغاز نہیں کیا گیا ہے۔ 5 پراجیکٹس کی ری ڈیزائننگ کی گئی جن میں پراناہیتا چیوڑلہ، جے سی آر دیوادلہ لفٹ اریگیشن اسکیم، اندراماں فلڈ فلو کنال، پی وی نرسمہا رائو کنٹناپلی سجلا سراونتی، سیتا راما لفٹ اریگیشن پراجیکٹس شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سنٹرل واٹر کمیشن اور دیگر مرکزی اداروں نے حکومت کے اقدامات کی تائید کی اور درکار کلیئرنس جاری کیا ہے۔ بی جے پی کے پربھاکر نے الزام عائد کیا کہ ریاستی حکومت پراجیکٹس کی منظوریوں کے سلسلہ میں مرکزی حکومت کے رول کو فراموش کررہی ہے۔ کشن ریڈی نے کہا کہ کئی پراجیکٹس کا تخمینہ ری ڈیزائننگ کے ذریعہ بڑھادیا گیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ آبپاشی پراجیکٹس کی تعمیر کے سلسلہ میں شفافیت کو ملحوظ رکھے۔ ایک اور سوال کے جواب میں ہریش رائو نے کہا کہ کالیشورم پراجیکٹ کو قومی درجہ دلانے کے لیے مرکز سے نمائندگی کی گئی ہے۔ پارلیمنٹ میں ٹی آر ایس کے ارکان نے اس مسئلہ پر احتجاج منظم کیا۔ انہوں نے آندھراپردیش تنظیم جدید قانون میں تلنگانہ پراجیکٹس کے ساتھ ناانصافی کی شکایت کی اور بی جے پی ارکان سے خواہش کی کہ وہ کالیشورم پراجیکٹ کو قومی درجہ دلانے کے سلسلہ میں تعاون کریں اور مرکز پر دبائو بنائیں۔

TOPPOPULARRECENT