Monday , December 11 2017
Home / اضلاع کی خبریں / آخرت سے غفلت، سب سے بڑی حماقت

آخرت سے غفلت، سب سے بڑی حماقت

دنیا کی زندگی اصل زندگی نہیں بلکہ اصل زندگی کے لئے امتحان  کا مرحلہ ہے ،جو اس میں کامیاب ہوا وہ اصل زندگی سے نوازا جائے گا !
اﷲ رب العزت کا ارشاد ہے : ’’اور یہ دنیا کی زندگی تو کھیل تماشا ہے۔آخرت کی زندگی ہی اصل زندگی ہے۔کاش وہ اس حقیقت کو جانتے‘‘۔(سورۃ العنکبوت )ایک اور مقام پر فرمایا :ترجمہ : جان رکھو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشا اور زینت اور تمہارے آپس میں فخر اور مال و اولاد کی ایک دوسرے سے زیادہ طلب ہے۔( اسکی مثال ایسی ہے ) جیسے بارش کہ ( اس سے کھیتی اگتی اور ) کسانوں کو کھیتی بھلی لگتی ہے۔پھر وہ خوب زور پر آتی ہے۔پھر تو اس کو دیکھتا ہے کہ یہ ( پک کر ) زرد پڑ جاتی ہے پھر چورا چور ہوتی ہے۔اور آخرت میں کافروں کے لئے ) عذاب شدید اور ( مومنوں کے لئے ) خدا کی طرف سے بخشش اور خوشنودی ہے اور دنیا کی زندگی تو متاع فریب ہے‘‘۔سورۂ فاطر میں اس حقیقت سے رب العزت نے روشناس کرایا کہ ’’ اے لوگو! بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے سو دنیا کی زندگی تمہیں ہرگز فریب نہ دے دے، اور نہ وہ دغا باز شیطان تمہیں اللہ (کے نام) سے دھوکہ دےo

فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے : ’’ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص اپنی انگلی سمندر میں ڈبوئے تو پھر دیکھو کہ وہ کتنا پانی اپنے ساتھ لا تی ہے‘‘۔(صحیح مسلم )
ہم دنیا کی بے ثباتی کو اس واقعہ سے سمجھ سکتے ہیں کہ :
شاہ بہلول کے مجذوبانہ حال کی وجہ سے بادشاہ ہارون رشید ان سے دلی عقیدتمندی کے باوجود دل لگی کرلیتا تھا مگر بادشاہ کے دل میں شاہ بہلول کا بڑا احترام تھا۔ انہوں نے اپنے درباریوں کو حکم جاری کیا تھا کہ شاہ بہلول کسی بھی وقت آئیں ان کوروکا نہ جائے بلکہ میرے پاس بلالیا جائے۔ایک روز ہارون رشید دربار میں بیٹھا تھا کہ شاہ بہلول آگئے۔ بادشاہ کو حسب معمول مزاح کی سوجی۔ اس کے ہاتھ میں ایک خوبصورت چھڑی تھی اس نے وہ شاہ بہلول کو دی اور کہا کہ اگر آپ کو اپنے سے زیادہ کوئی بے وقوف آدمی مل جائے تو یہ چھڑی آپ اس کو دیدیں۔ شاہ بہلول نے وہ چھڑی بڑے شوق سے قبول کی اور چل دئیے۔ تین سال کے بعد ہارون رشید بیمار ہوا اور بستر مرگ پر پہنچ گیا۔ شاہ بہلول عیادت کیلئے تشریف لائے، مزاج پرسی کی ہارون رشید کو اندازہ ہوگیا تھا کہ وقت قریب ہے اس نے کہا کہ مزاج کیا پوچھتے ہو، سفر کی تیاری ہے۔

شاہ بہلول نے سوال کیا: ’’کہاں کا سفر درپیش ہے؟‘‘
ہارون رشید نے جواب دیا کہ آخرت کا۔
شاہ بہلول نے پھر سوال کیا: ’’کتنے روز کا سفر ہے؟‘‘
ہارون رشید نے جواب دیا ’’آپ بھی دیوانے ہی رہے، بھلا آخرت کے سفر سے بھی کوئی جاکر واپس آتا ہے‘‘۔
شاہ بہلول نے پھر سوال کیا: ’’کتنا لشکر، سامان اور خدمت گزار آگے روانہ کیے؟‘‘
بادشاہ نے جواب دیا ’’آپ کیسی احمقانہ بات کرتے ہیں وہاں کے سفر میں کون لاؤ لشکر، سامان اور خدمت گزار بھیج سکتا ہے؟‘‘

شاہ بہلول نے اپنی عباء کے اندر سے وہ چھڑی نکالی جو تین سال قبل ہارون رشید نے انہیں دی تھی اور یہ کہہ کر بادشاہ کو واپس کی کہ ’’آپ کے حکم کی تعمیل میں تین سال سے میں کسی ایسے شخص کی تلاش کر رہا تھا جو مجھ سے زیادہ احمق اور بے وقوف ہو۔ مجھے اپنے سے زیادہ آپ کے علاوہ احمق اور بے وقوف آج تک نہیں ملا‘‘۔اس لئے کہ آپ چند دن کے سفر پر جاتے ہیں تو جانے سے پہلے کتنا سامان سفر، لشکر اور کتنے خدمت گزار آگے روانہ کرتے ہیں اور آخرت کا اتنا اہم اور طویل بلکہ ہمیشہ کا سفر درپیش تھا آپ نے وہاں کیلئے کچھ بھی انتظام نہیں کیا‘‘۔لہٰذا مجھ سے زیادہ احمق اور بے وقوف آپ آج ملے ہیں۔ میں نے یہ چھڑی آج تک محفوظ رکھی تھی اور آپ کے حکم کی تعمیل میں یہ میں آپ کو دیتا ہوں۔ یہ کہہ کر چھڑی بادشاہ کے حوالہ کی اور چل دئیے۔ ہارون رشید بہلول مجذوب کی حکیمانہ نصیحت سن کر بلک بلک کر رونے لگا اور کہا ’’بہلول واقعی ہم ساری زندگی آپ کو دیوانہ سمجھتے رہے مگر واقعی ہارون رشید سے زیادہ کون احمق ہوگا جو اتنے اہم سفر کی تیاری سے غافل رہا۔‘‘
دوستو! حقیقت یہ ہے کہ انسان کی اس سے زیادہ بے وقوفی اور حماقت کیا ہوگی کہ اتنے اہم اور حقیقی سفر کی تیاری سے غافل رہے جبکہ ایک لمحہ اور ایک سانس کیلئے اس کا اطمینان نہیں کہ یہ سفر نہ جانے کس لمحے درپیش ہوجائے۔ کون بڑے سے بڑا شہنشاہ اور حکیم اس بات کی ضمانت لے سکتا ہے کہ انسان کا جو سانس اندر آگیا اس کے باہر نکلنے تک موت اس کو مہلت دے گی اور جو سانس باہر نکل گیا اس کے اندر آنے تک اس کی زندگی اس سے وفا کریگی۔ پھر اس دھوکے کی زندگی پر بھروسہ کرکے آخرت کے حقیقی گھر کو بھول جانا کیسا دیوانہ پن ہے۔
ہمارے آقا و مولانا پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیسی سچی اور پیاری بات فرمائی ہے۔ ’’عقل مند انسان وہ ہے جو نفس کو قابو میں رکھے اور مرنے کے بعد کی تیاری کرے‘‘۔ (ترمذی)
مرسلہ : عبداﷲ محمد عبداﷲ

TOPPOPULARRECENT