Tuesday , August 14 2018
Home / Top Stories / آخر قیادت کو گھٹنے ٹیکنے کی ضرورت کیوں پڑی؟

آخر قیادت کو گھٹنے ٹیکنے کی ضرورت کیوں پڑی؟

بی جے پی سے فائدہ اٹھانے کے الزامات کے بعد اب ٹی آر ایس کی باری؟

حیدرآباد ۔9۔ نومبر (سیاست نیوز) انسان کی فطرت جب وہ کمزور ہوجائے یا پھر مسائل میں گھر جائے تو کسی مضبوط سہارے کی تلاش کرتا ہے۔ عملی سیاست اور سیاسی پارٹیوں میں یہ طرز عمل عام بات ہے۔ جب کوئی پارٹی کمزور ہوجائے یا پھر عوامی تائید سے محروم ہونے لگے تو کسی مضبوط پارٹی سے اتحاد کرکے اپنی ڈوبتی کشتی کو کنارہ لگانے کی کوشش کرتی ہے۔ ایسے میں اگر حکومت کا سہارا مل جائے تو پھر یہ کسی نعمت سے کم نہیں۔ اسمبلی کے جاریہ سرمائی اجلاس کے دوران مقامی جماعت کا رویہ ان دنوں عوامی بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ حیدرآباد کے 7 اسمبلی حلقہ جات میں عام شہریوں کے علاوہ خود مقامی جماعت کے کارکن آپس میں یہ سوال کر رہے ہیں کہ آخر ’قیادت‘ نے حکومت کے آگے گھٹنے کیوں ٹیک دیئے۔ کیا بہار میں 6 ، اترپردیش میں 38 ، ٹاملناڈو میں 2 اور مہاراشٹرا میں 24 سیٹوں پر مقابلہ کرنے والی جماعت اپنے ہی گھر میں دوبارہ 7 نشستوں پر مقابلہ کریگی؟ بی جے پی سے رشتہ کے ا لزامات کے بعد کیا قیادت نے اب ٹی آر ایس سے بھی میچ فکسنگ کرلی ہے ؟ حکومت کے کسی فیصلے یا اعلان کی تائید اور خیرمقدم کرنا الگ بات ہے لیکن چیف منسٹر کی مداح سرائی اور وہ بھی ایسے جس طرح بادشاہوں کے دور میں مصاحبین کرتے رہے ہیں، اس نے عوام کے ذہنوں میں کئی سوال پیدا کردیئے ہیں۔ اسمبلی میں روزانہ جس انداز میں دست بستہ اور مودبانہ انداز میں شکریہ ادا کیا جارہا ہے، اس سے مسلمان حیرت میں ہے کہ آخر قیادت کی کیا کمزوریاں حکومت کی نظر میں آچکی ہیں کہ وہ مسائل سے بچنے تعریف پر مجبور ہوچکی ہے۔ مسلمانوں کے مسائل کے حل کیلئے اگر کوئی حکومت سے اتحاد کرے تو اس میں کوئی برائی نہیں لیکن یہاں تو مسائل کی یکسوئی کے بغیر ہی درباری انداز میں تعریفوں کے پل باندھے جارہے ہیں۔ عوامی جلسوں میں چیف منسٹر اور حکومت کو نشانہ بنانے والے اسمبلی میں بھیگی بلی کیوں بن چکے ہیں۔ خود کو پرانے شہر کے ناقابل تسخیر قائد اور ’ٹائیگر‘ کا ٹائیٹل لگانے میں خوشی محسوس کرنے والے قائدین کو ایوان میں کے سی آر کے روبرو کمزور دیکھا گیا۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ مقامی جماعت کی جڑیں پرانے شہر میں کمزور پڑنے لگی ہیں۔ حالیہ عرصہ میں بہار ، یوپی کے اسمبلی انتخابات اور مہاراشٹرا بلدی انتخابات میں سخت ہزیمت کا اثر پرانے شہر کے حلقوں پر صاف دکھائی دے رہا ہے۔

عوام کے علاوہ پارٹی کیڈر خود بھی یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ قیادت کی مسلسل ناکامیوں کی وجہ کیا ہے؟ یوں تو عوام کا حافظہ کمزور ہوتا ہے لیکن گزشتہ دنوں ناندیڑ میں مقامی جماعت کا جس طرح صفایا ہوگیا ، اس نتیجہ نے نہ صرف تلنگانہ کے اضلاع بلکہ حیدرآباد کے رائے دہندوں پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔ قیادت ناندیڑ کے صدمہ سے ابھر نہیں پائی کہ اُسے اسمبلی اجلاس کی شکل میں ایک موقع ہاتھ لگ گیا۔ ایک طرف پارٹی صدر عوام کو قریب کرنے کے لئے پرانے شہر کی تنگ گلیوں کی خاک چھان رہے ہیں تو دوسری طرف فلور لیڈر اسمبلی میں چیف منسٹر کو 2019 ء میں مدد کیلئے راضی کرنے ’کان خوش کرنے‘ کی مہم پر ہیں۔ کسی پارٹی کا دوسری سے اتحاد باہمی رضامندی سے ہوتا ہے لیکن یہاں یکطرفہ عاشقی دکھائی دے رہی ہے۔ اسمبلی میں جب فلور لیڈر نے کانگریس کو نشانہ بناکر پیش قیاسی کی کہ 2019 ء میں مجلس اور ٹی آر ایس دوبارہ برسر اقتدار آئیں گے تو وقتی طور پر میزیں تھپتھپائی گئیں لیکن ٹی آر ایس کے نیوز چیانل اور اخبار نے اس خبر میں مجلس کو حذف کرکے صرف ٹی آر ایس کے دوبارہ برسر اقتدار آنے کا ذکر کیا۔

حکومت اور پارٹی دونوں بھی یہ نہیں چاہتے کہ اپنے ساتھ مقامی جماعت کے نام کو جوڑا جائے۔ سوشیل میڈیا میں بھی ٹی آر ایس کے قائدین نے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے صرف یہی کہا کہ فلور لیڈر نے اعتراف کیا کہ ٹی آر ایس کا دوبارہ برسر اقتدار آنا یقینی ہے۔ جہاں تک کمزور اور گھٹنے ٹیکنے کی وجوہات کا سوال ہے ، اس سلسلہ میں عوام اور خود مقامی جماعت کے کیڈر میں مختلف چہ میگوئیاں دیکھی جارہی ہے۔ نرمل میں کی گئی قابل اعتراض تقریر کا مقدمہ بھی شائد کسی بھی سماعت کے مرحلہ میں آجائے گا ۔ اس مقدمہ میں بری ہونے کیلئے حکومت کا تعاون ضروری ہے۔ اس کے علاوہ پرانے شہر کے ایک پہلوان گھرانے سے تنازعہ کا معاملہ دوبارہ ہائیکورٹ میں پہنچ چکا ہے ۔ یہ مقدمہ بھی مقامی جماعت کی قیادت کیلئے مشکلات میں اضافہ کرسکتا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں پارٹی کا پرچم لہرانے کے دعویٰ کے ساتھ نکلنے والے برادران کو جس طرح مایوسی ہوئی، اس کا اثر یقینی طور پر 2019 ء کے انتخابات پر پڑے گا۔ پارٹی کیڈر خود اس بات کا اعتراف کر رہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں 2014 ء کے نتائج کو دہرانا آسان نہیں ہے۔ کیڈر کو اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ کارپوریٹر س اور ارکان اسمبلی کی عدم کارکردگی نے بھی عوامی ناراضگی میں اضافہ کردیا ۔ حالیہ عرصہ میں شدید بارش سے پرانے شہر کی کئی بستیاں پانی محصور ہوگئیں لیکن کسی عوامی نمائندہ کوئی توفیق نہیں ہوئی کہ متاثرین کا حال دریافت کریں۔ پانی کی سطح میں کمی کے بعد جب قیادت ان علاقوں میں پہنچی تو عوام نے کھل کر ناراضگی کا اظہار کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ موجودہ ارکان اسمبلی میں چند ایک کو تبدیل کرنے کی قیاس آرائیوں نے ارکان اسمبلی میں بے چینی پیدا کردی ہے اور وہ عوامی خدمت کے بجائے اپنی کرسی بچانے میں مصروف ہیں۔ 2019 ء میں مقامی جماعت کیلئے برکت کے ووٹ ممکن نہیں رہیں گے کیونکہ الیکشن کمیشن نے ووٹنگ مشن میں ووٹر سلپ کا لزوم عائد کردیا ہے۔ الغرض عوام پر گرفت کی کمزوری اور 2019 ء الیکشن کے خوف نے قیادت کو حکومت کو فرشی سلام کرنے پر مجبور کردیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT