Sunday , July 22 2018
Home / Top Stories / آدھار ڈاٹا مکمل طور پر محفوظ، روی شنکر پرساد کا دعویٰ

آدھار ڈاٹا مکمل طور پر محفوظ، روی شنکر پرساد کا دعویٰ

۔120 کروڑ آدھار کارڈس، 57 کروڑ بینک اکائونٹس سے مربوط، ڈرائیونگ لائسنس کو بھی آدھار سے جوڑنے کا منصوبہ

نئی دہلی۔7 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) وزیر اطلاعات و نشریات روی شنکر پرساد نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ آدھار کارڈ کی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی نہیں کی گئی ہے اور ملک کی اکثریت کا آدھار کارڈ پر مکمل بھروسہ ہے چوں کہ یہ مکمل طور پر محفوظ ہے۔ آدھار کو ایک گیم چینجر قرار دیتے ہوئے وزیر موصوف نے لوک سبھا میں بتایا کہ اب تک 120 کروڑ افراد آدھار کارڈ سے جڑچکے ہیں اور 57 کروڑ بینک اکائونٹس کو آدھار سے مربوط کیا جاچکا ہے جس کے نتیجہ میں 57 ہزار کروڑ روپئے کو محفوظ کیا گیا ہے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا ہوتا تو یہ پیسے بدعنوان اور غلط لوگوں کے جیبوں میں چلاجاتا۔ وزیر اطلاعات و نشریات نے مزید کہا کہ یونک آئیڈینٹفکیشن اتھاریٹی آف انڈیا (UIDAI) ہر طرح کے سکیوریٹی اقدامات سے لیس ہے۔ جسے مسلسل اپگریڈ کیا جاتا ہے تاکہ تمام تفصیلات اور معلومات کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو عوامی تفصیلات کی فکر ہے اس لیے تمام تر تفصیلات کو خفیہ اور محفوظ رکھنے کے لیے مطلوبہ اقدامات اختیار کیے گئے ہیں۔ اس اطلاعات پر کہ معمولی فیس داخل کرتے ہوئے کوئی بھی شخص کسی کی بھی آدھار تفصیلات معلوم کرسکتا ہے، روی شنکر پرساد نے کہا کہ اس بارے میں ایک ایف آئی آر درج کیا جاچکا ہے تاہم اس میں کسی جرنلسٹ کا نام نہیں لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم آزادی صحافت کی قدر کرتے ہیں تاہم صحافیوں کو بھی اس تحقیقات میں ساتھ دینا چاہئے۔ دوسری طرف مرکزی حکومت ڈرائیونگ لائسنس کو بھی آدھار سے مربوط کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ملک سے جعلی ڈرائیونگ لائسنس کا خاتمہ کیا جاسکے۔ عدالت کی جانب سے قائم کیے گئے ایک کمیٹی نے آج اس بات کی اطلاع دی ہے۔ اس معاملہ میں ایک سافٹ ویر بھی بنایا جارہا ہے تاکہ وقت پر لائسنس کی فراہمی اور اس کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے۔ جسٹس مدن بی لوکر اور دیپک گپتا پر مشتمل بنچ کو عدالت کی جانب سے قائم کی گئی کمیٹی نے انہیں یہ اطلاع دی۔ اس کمیٹی کی صدارت سابق سپریم کورٹ جج جسٹس کے ایس رادھا کرشنن کررہے ہیں۔ کمیٹی نے عدالت کو اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اس نے وزارت ٹرانسپورٹ و قومی شاہراہ کے ساتھ گزشتہ سال 28 نومبر کو اس موضوع پر ایک اجلاس منعقد کیا جس میں مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے خصوصی طور پر روڈ سیفٹی اور ڈرائونگ لائسنس کو آدھار سے مربوط کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ فرضی ڈرائیونگ لائسنس کی تیاری اور غیر سماجی عناصر سے نمٹا جاسکے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ سارتھی IV کے تحت ٹرانسپورٹ و قومی شاہراہ اور نیشنل افارمیٹک سنٹر کے تحت آدھار کارڈ کو مربوط کیا جارہا ہے جس سے تمام لائیسنس کو آدھار کارڈ سے مربوط کردیا جائے گا۔ اس سافٹ ویر کے ذریعہ ملک میں کہیں بھی تیار کیے گئے فرضی لائسنس کی فوری نشاندہی کی جاسکے گی۔

TOPPOPULARRECENT