Friday , April 20 2018
Home / مضامین / آدھار کتنا محفوظ کتنا ضروری

آدھار کتنا محفوظ کتنا ضروری

عوام میں آدھار کارڈ سے متعلق بے شمار شکوک و شبہات، یو آئی ڈی اے آئی کیا کہتی ہے

ابو معوذ
حالیہ عرصہ کے دوران میڈیا میں ایسی اطلاعات آئی تھیں کہ آدھار ڈاٹا بیس انٹرنیٹ پر صرف 500 روپئے ادا کرکے بہ آسانی خریدا جاسکتا ہے جس کے بعد شہریوں کے نجی ڈاٹا کی سکیورٹی کے بارے میں تشویش ظاہر کی جانے لگی۔ عوام میں اس تعلق سے اچھی خاصی بے چینی پھیل گئی۔ اس ضمن میں عوام کے شکوک و شبہات اور خدشات دور کرنے کی خاطر یونیک آئیڈنٹفکیشن اتھاریٹی آف انڈیا (UIDAI) نے وضاحت کی کہ میڈیا میںجو خبریں آئیں دراصل وہ آدھار ویب سائٹ تک غیر مجاز رسائی سے متعلق تھی نہ کہ بائیو میٹرک ڈاٹا کے سرقہ سے متعلق تھی۔ یہ خبریں ملک بھر میں آدھار ڈاٹا بیس کی سکیورٹی پر ایک بڑے مباحثہ کے آغاز کا باعث بنی۔ کئی ایسے سوالات بھی تھے جن کے جوابات نہ ملنے کے باعث عوام میں کافی اُلجھنیں پیدا ہوگئی تھیں۔ یہاں تک کہ ججس کی ایک پانچ رکنی دستوری بنچ آدھار کے محفوظ ہونے سے متعلق دعوؤں کے درست ہونے کے ایک مقدمہ کی سماعت بھی کررہی ہے۔ چنانچہ UIDAI نے آدھار ڈاٹا بیس کی سیفٹی اور سکیورٹی سے متعلق تفصیلی حقائق جاری کئے۔ درج ذیل میں آدھار کے بارے میں آپ کے شکوک و شبہات اور اُلجھنوں کے جواب دیئے جارہے ہیں۔
یو آئی ڈی اے آئی میرا تمام ڈاٹا بشمول بائیو میٹرکس، بینک اکاؤنٹ، پرمننٹ اکاؤنٹ نمبر PAN وغیرہ رکھتا ہے۔ آیا یہ تفصیلات میری سرگرمیوں کا پتہ چلانے کے لئے استعمال کی جائیں گی؟
اس سوال کا جواب کچھ اس طرح دیا گیا، بالکل غلط، یو آئی ڈی اے ڈاٹا بیس صرف حسب ذیل معلومات رکھتا ہے۔
(a) آپ کا نام، پتہ، تاریخ پیدائش، صنف
(b) دس فنگر پرنٹس (انگلیوں کے نشانات)، دو آنکھوں کی پتلیوں کے اسکیانس، چہرہ کی تصویر۔
(c) موبائیل نمبر اور ای میل آئی ڈی۔
اس کے ساتھ ہی اس نے وضاحت کی کہ UIDAI آپ کے خاندان، ذات پات، مذہب، تعلیم، بینک اکاؤنٹس، شیرز (حصص)، میوچول فنڈس، مالیاتی اُمور جائیدادوں کی تفصیلات، صحت کا ریکارڈ وغیرہ کی تفصیلات نہیں رکھتا اور کبھی یہ معلومات اس کے ڈاٹا بیس میں ہوں گی۔ دراصل آدھار ایکٹ 2016 کی سیکشن 32(3) سختی کے ساتھ یو آئی ڈی اے آئی کو تصدیق کے مقاصد سے متعلق کسی بھی تفصیل پر کنٹرول کرنے ، جمع کرنے، تفصیلات رکھنے سے منع کرتی ہے۔
تاہم جب میں اپنے بینک اکاؤنٹس، حصص (شیرز) ، میوچول فنڈ اور اپنے موبائیل نمبرات کو آدھار سے مربوط کرتا ہوں تو کیا UIDAI مذکورہ معلومات حاصل نہیں کرے گی؟
اس سوال کا جواب ایسے دیا گیا:
’’یقینا … نہیں۔ جب آپ اپنا آدھار نمبر اپنے بینکوں، میوچول فنڈس کی کمپنیوں، موبائیل فون کمپنیوں کو دیتے ہیں تو وہ صرف UIDAI کو تصدیق کیلئے، آپ کا آدھار نمبر، آپ کا بائیو میٹرک (تصدیق کے وقت دیا گیا) اور آپ کا نام وغیرہ پہنچتا ہے۔ آپ UIDAI کو آپ کے بینک اکاؤنٹس یا اس کی تفصیلات نہیں بھیجتے۔ تاحال جہاں تک UIDAI کا تعلق ہے وہ اس قسم کی تصدیق کی درخواستوں کا ہاں یا نہ میں جواب دے سکتے ہیں۔ اگر ان کا ویریفکیشن (تصدیق) جواب ’’ہاں‘‘ میں ہوتا ہے تو آپ کے بنیادی kyc تفصیلات (نام، پتہ، تصویر وغیرہ جو UADAI کے یہاں دستیاب ہے اسے خدمت فراہم کنندہ (سرویس پروائیڈر) کو بھیجتے ہیں۔
اگر کوئی میرے آدھار نمبر کے بارے میں جان جاتا ہے تو کیا ایسے میں وہ اسے (نمبر) کو میرے بینک اکاؤنٹ ہیک کرنا میں استعمال کرتا ہے۔
اس سوال کا جواب UADAI نے کچھ یوں دیا۔
بالکل غلط … جس طرح آپ کا اے ٹی ایم کارڈ نمبر جاننے کے باوجود کوئی بھی اے ٹی ایم مشین سے آپ کی رقم نہیں نکال سکتا اس طرح صرف آپ کا آدھار نمبر جان کر کوئی بھی آپ کا بینک اکاؤنٹ ہیک کرسکتا ہے نہ ہی رقم نکال سکتا ہے۔ اگر آپ بینکوں کی جانب سے دیئے گئے OTP ، PIN کا حصہ نہ ہوں آپ کا بینک اکاؤنٹ محفوظ ہے۔ آپ کو ہم یہ تیقن دیتے ہیں کہ آدھار کارڈ کے باعث مالی نقصان کا ایک واقعہ بھی پیش نہیں آیا۔
مجھ سے اپنے موبائیل نمبرس کو آدھار سے مربوط کرنے اور اس کی توثیق کرنے کے لئے کیوں کہا جارہا ہے؟
اس سوال کا جواب UIDAI نے یوں دیا : آپ کو اپنی اور ملک کی سلامتی کے لئے تمام موبائیل سبسکرائبرس کی شناخت کی توثیق کرنا اور انھیں آدھار سے مربوط کرنا ضروری ہے تاکہ دھوکہ باز، غیر قانونی رقمی تبادلہ کرنے والوں اور مجرمین وغیرہ کی جانب سے اسے استعمال کرنے کے امکانات ختم کئے جاسکیں۔ اکثر اوقات ایسا پایا گیا یا دیکھا گیا کہ دھوکہ دہی اور جرائم کی انجام دہی کے لئے مجرمین اور دہشت گردوں نے فرضی ناموں یہاں تک کہ حقیقی لوگوں کے ناموں سے ان کی علم و اطلاع کے بناء سم کارڈس حاصل کئے۔ جب ہر موبائیل نمبر کی توثیق کی جاکر اسے آدھار سے مربوط کیا جاتا ہے اس سے موبائیل فونس استعمال کرنے والے دھوکہ باز، مجرمین اور دہشت گردوں کی بہ آسانی نشاندہی کی جاکر انھیں قانون کے مطابق سزا دی جاسکے گی۔
آیا سم کی توثیق کے موقع پر لی گئی میری بائیو میٹرکس موبائیل کمپنی جمع کرنے کے بعد میں دیگر مقاصد کے لئے استعمال کرسکتی ہے؟
اس سوال کے جواب میں UIDAI نے بتایا ’’کوئی بھی نہیں۔
بشمول موبائیل کمپنیاں سم کارڈ کی ویریفکیشن یا توثیق کے موقع پر لی گئی آپ کی بائیو میٹرکس استعمال نہیں کرسکتی۔ جیسے ہی آدھار کارڈ ہولڈر فنگر پرنٹ سینسر پر اپنی انگلی رکھتا ہے تو اُس سے بائیو میٹرکس چُھپ جاتے ہیں اور یہ چھپا ہوا ڈاٹا توثیق کیلئے UIDAI کو بھیجا جاتا ہے۔ آدھار (تصدیق) قواعد 2011 کے قاعدہ 17(1)(a) کسی بھی ادارہ بشمول موبائیل فون کمپنیوں، بینکوں وغیرہ کو اس ڈاٹا کے جمع کرنے اسے شیر کرنے اور کسی بھی وجہ سے انگلی کے نشانات شائع کرنے کی سختی سے منع کرتا ہے۔ اس دفعہ کی کسی بھی طرح کی خلاف ورزی آدھار ایکٹ 2016 کے تحت مستوجب سزا جرم ہے۔
آیا این آر آئیز (غیر مقیم ہندوستانیوں) کو بینکنگ، موبائیل، پیان اور دیگر خدمات کیلئے آدھار درکار ہے؟
UIDAI کے مطابق آدھار صرف ہندوستان میں رہنے والے ہندوستانیوں کے لئے ہے، غیر مقیم ہندوستانی NRI’s آدھار حاصل کرنے کے اہل نہیں ہیں۔
بینکس اور موبائیل کمپنیوں جیسے متعلقہ خدمات فراہم کنندگان نے غیر مقیم ہندوستانیوں (این آر آئیز) کو مخصوص استثنیٰ دے رکھا ہے۔ این آر آئیز صرف بینکوں اور دوسری خدمات فراہم کنندگان مثلاً کریڈٹ کارڈ کمپنیوں وغیرہ کو۔ یہ کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ وہ این آر آئی ہے اس لئے انھیں آدھار نمبرات کی ضرورت نہیں ہے۔
کیا غریب و غرباء کو آدھار نہ ہونے پر ضروری خدمات جیسے پینشن اور راشن کے حصول سے روکا نہیں جارہا ہے۔ اس سوال کے جواب میں UIDAI کا کہنا ہے ’’نہیں … سیکشن 7 میں اس بات کا واضح طور پر حوالہ دیا گیا ہے کہ جب تک ایک ایک فرد کو آدھار نمبر نہیں دیا جاتا وہ (مرد ؍ عورت) کو آدھار نہ ہونے کے باعث راشن اور پنشن یا اس جیسے ضروری خدمات حاصل کرنے سے نہیں روکا جاتا۔ ان حالات میں متعلقہ محکمہ کو متبادل طریقہ استعمال کرتے ہوئے ایسے فرد (مرد ؍ عورت) کی شناخت کی توثیق کرنی چاہئے۔ آدھار کارڈ نہ ہونے کے باعث اگر کوئی سرکاری عہدیدار یا محکمہ لوگوں کو مذکورہ خدمات سے محروم کرتا ہے یا ان خدمات تک رسائی کی اجازت نہیں دیتا ہے تو اس کے خلاف ایک شکایت درج کروائی جانی چاہئے کیوں کہ اس طرح کا انکار غیر قانونی ہے۔
آدھار کارڈ عام آدمی کے لئے کس طرح فائدہ بخش ہے؟ اس سوال کے جواب میں UIDAI کا کچھ اس طرح کہنا تھا ’’آدھار نے 119 کروڑ ہندوستانیوں کو معتبر شناخت کے ساتھ بااختیار بنایا ہے۔ آج حقیقت یہ ہے کہ آدھار ہندوستان میں کسی اور شناختی دستاویز کے سب سے زیادہ معتبر اور بااعتماد ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ ایک آجر ہیں، آپ اپنے متوقع ملازم سے کس دستاویز کی توقع رکھتے ہیں یا پھر صرف اپنے خادم، خادمہ، ڈرائیور، سلم علاقہ اور گاؤں میں رہنے والے سے پوچھے کہ وہ ملازمتیں حاصل کرنے شناخت کا ثبوت پیش کرنے، بینک اکاؤنٹس کھولنے ریل کے ذریعہ سفر اور بنا کسی درمیانی شخص کے راست اپنے بینک اکاؤنٹس میں مختلف سرکاری فوائد کو حاصل کرنے آدھار کیسے استعمال کررہے ہیں۔ پوچھئے ان سے وہ بتائیں گے کہ آدھار رکھتے ہوئے وہ کس قدر بااختیار ہوگئے ہیں۔
ہم میڈیا میں یہ سن رہے ہیں کہ آدھار ڈاٹا کا افشاء ہوا ہے کیا یہ سچ ہے۔ اس آخری سوال کے جواب میں UIDAI نے بتایا کہ پچھلے 7 برسوں کے دوران آدھار ڈاٹا کا کبھی بھی افشاء نہیں کیا گیا۔ تمام آدھار ہولڈر کا ڈاٹا محفوظ ہے۔ آدھار ڈاٹا کے افشاء سے متعلق جو کہانیاں سنائی دیتی ہیں ان میں سے اکثر غلط رپورٹنگ کے واقعات ہیں کیوں کہ UIDAI آپ کے ڈاٹا کو محفوظ رکھنے کے لئے اڈوانسڈ سکیورٹی ٹیکنالوجیز کا استعمال کرتا ہے اور اسے سکیورٹی خطرات اور چیالنجز سے نمٹنے اپ گریڈ بھی کرتا رہتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT