Wednesday , December 19 2018

آدھار کو مربوط کرنے پر آج سپریم کورٹ کا فیصلہ

آدھار کو بینک اکائونٹ سے مربوط کرنا اختیاری یا لازمی؟
نئی دہلی۔14 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج درخواستوں کے ایک مجموعے پر جن میں حکومت کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا کہ آدھار کارڈ کو مختلف فلاحی اسکیموں سے مربوط کیا جائے، اپنا فیصلہ کل کے لیے محفوظ کردیا۔ پانچ ججوں پر مشتمل دستوری بنچ نے جس کی صدارت چیف جسٹس دیپک مشرا کررہے تھے کہا کہ درخواستوں کی قطعی سماعت کے بعد جن میں آدھار اسکیم کو جس کا آغاز آئندہ سال 17 جنوری سے ہونے والا تھا چیلنج کیا گیا تھا، مکمل کرلی۔ اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے مرکزی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ حکومت قطعی آخری مہلت میں 31 مارچ 2018ء تک توسیع دینے کے لیے تیار ہے تاکہ قومی بائیومیٹرک شناخت کنندہ کو مربوط کرنا لازمی قراردیا جائے اور ایسا کرنے پر بھی مختلف خدمات اور فلاحی اقدامات سے استفادہ کیا جاسکے گا تاہم وینوگپال نے جو جسٹس اے کے سیکری، جسٹس اے ایم کھانولکر، جسٹس ٹی وائی چندرا چور اور جسٹس اشوک بھوشن پر مشتمل تھی کہا کہ آدھار کو لازمی برقرار رہنے کی اجازت دی جانی چاہئے۔ نئے بینک کھاتے کھولنے کے لیے آدھار کو لازمی قرار دیا جائے۔ حکومت نے کل ایک اعلامیہ جاری کرتے ہوئے آدھار اور مستقل اکائونٹ نمبر (پیان) کا حوالہ دینے کو لازمی قرار دینے کی قطعی آخری مہلت میں آئندہ سال 31 مارچ تک توسیع کردی تھی۔ بینک کھاتے اور بعض مالیاتی لین دین کے لیے اس میں توسیع کی گئی تھی تاہم 6 فبروری 2018ء کی قطعی آخری مہلت میں جسے موبائل سم کارڈس کو آدھار سے مربوط کرنے کی آخری مہلت قرار دیا گیا تھا، توسیع کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔ آدھار کارڈ کو موبائل خدمات سے مربوط کرنے کے مسئلہ پر اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ قطعی آخری مہلت آئندہ سال 6 فبروری مقرر کی گئی ہے اور یہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق ہے۔ دستوری بنچ اس قطعی آخری مہلت میں بھی توسیع دینے پر غور کرسکتی ہے۔ 27 نومبر کو سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ ممکن ہے کہ وہ ایک دستوری بنچ قائم کرے گی تاکہ مرکز کے اس اقدام کو جس کے تحت آدھار کارڈ مختلف خدمات اور فلاحی اسکیموں کے فوائد سے استفادہ کرنے کے لیے لازمی قرار دیا ہے، چیلنج کرنے کے لیے پیش کردہ درخواستوں کی سماعت کرے۔ حال ہی میں 9 ججس پر مشتمل سپریم کورٹ کی دستوری بنچ نے حق خلوت کو بنیادی حق دستور کے تحت قرار دیا تھا۔ کئی درخواست گزاروں نے آدھار کے کارآمد ہونے کو چیلنج کرتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ اس سے حق خلوت کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT