Wednesday , July 18 2018
Home / اداریہ / آرچ بشپ کے مکتوب کا تنازعہ

آرچ بشپ کے مکتوب کا تنازعہ

زباں پہ مہر لگی ہے تو کیا کہ رکھ دی ہے
ہر ایک حلقۂ زنجیر میں زباں میں نے
آرچ بشپ کے مکتوب کا تنازعہ
گجرات اسمبلی انتخابات میں سیاسی سرگرمیاں کیا کروٹ لیں گی یہ آئندہ ماہ معلوم ہوں گی ۔ اس وقت حکمراں طاقتوں نے ہر چھوٹی بات کو اپنی شکست سے منسوب کرتے ہوئے یہ ظاہر کرنا شروع کیا ہے کہ انتخابات کا خوف اسے دن بہ دن کمزور کرتا جارہا ہے ۔ ہاردک پٹیل کی کھلے عام کانگریس کو تائید کے اعلان کے ساتھ ہی بی جے پی حلقوں میں کھلبلی کے آثار نمایاں ہوگئے ۔ اب گاندھی نگر کے آرچ بشپ کی جانب سے اقلیتی رائے دہندوں کے نام قوم پرست پارٹیوں کو ووٹ نہ دینے کے مکتوب سے ہنگامہ برپا کیا جارہا ہے ۔ اگرچیکہ الیکشن کمیشن نے اس مکتوب کے حوالے سے آرچ بشپ کو نوٹس جاری کی ہے لیکن اس طرح کی اپیل جمہوری عمل کا حصہ سمجھی جاتی ہے مگر حکمراں طاقتوں نے ایک مذہبی ادارہ کی جانب سے گجرات اسمبلی انتخابات کے دوران ’ قوم پرست طاقتوں ‘ سے ملک کو بچانے کی اپیل کو اپنی ناکامی محسوس کرنے والوں نے اس مکتوب کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی سمجھا ہے ۔ آرچ بشپ نے عیسائیوں کو مخاطب ہو کر مکتوب جاری کیا تھا ۔ جس میں انہوں نے اپنے طبقہ کے ارکان کو ملک کی موجودہ حالت اور جمہوری کردار کو لاحق خطرات سے باخبر کرتے ہوئے اقلیتوں میں پائے جانے والے عدم تحفظ کے احساس کی جانب توجہ دلائی تھی ۔ اس مکتوب کو گجرات کے سیاسی حلقوں نے حکمران بی جے پی کے خلاف ووٹ دینے کی راست اپیل متصور کیا تو گاندھی نگر کلکٹر اور ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر نے الیکشن کمیشن سے جاری نوٹس کے حوالے سے آرچ بشپ سے اس طرح کے مکتوب کی اجرائی کے پیچھے ان کے ارادوں کی وضاحت مانگی ہے ۔ کسی بھی انتخابات میں ہر فرد یا گروپ کو اپنی ذاتی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے لیکن بعض سیاسی حلقوں کی تابعداری کرنے والے عہدیداروں نے آرچ بشپ کے اس مکتوب کو راست حکمران پارٹی بی جے پی پر نشانہ سمجھ کر شور مچایا ہے ۔ جب کہ آرچ بشپ کا کہنا درست ہے کہ ان کے مکتوب میں کسی مخصوص پارٹی کا ذکر نہیں ہے بلکہ انہوں نے اپنے طبقہ کے رائے دہندوں کو ملک کے قوم پرست طاقتوں سے چوکنا رہنے سے باخبر کیا ہے ۔ یہ مکتوب کئی اقلیتی طبقہ کے رائے دہندوں کو گمراہ کرنے اور الجھن سے دوچار کرنے والا ہے اور اس میں استعمال کردہ زبان انتخابات کے پیش نظر استعمال نہیں کی جاسکتی تو دیگر حوالوں سے بھی یہ بات نوٹ کی جانی چاہئے کہ انتخابات کا حصہ بننے والی پارٹیاں بھی اپنے مکتب فکر کے رائے دہندوں کو رجھانے کی کوشش کرتی ہیں اور اسی طرح یہ عمل ایک جمہوری حسن کا حصہ سمجھا جاتا ہے مگر آرچ بشپ کے مکتوب کو مسئلہ بنانے کے پیچھے ایک مذہبی ادارہ کی جانب سے مداخلت کے مترادف قرار دے کر الیکشن کمیشن وجہ نمائی نوٹس جاری کرتاہے تو اس کے پیچھے کارفرما مقاصد واضح ہونے میں دیر نہیں ہوگی ۔ ملک کے جمہوری کردار کو ہی جب داؤ پر لگایا جاچکا ہے تو پھر اس ملک میں ہر درست قدم غلط اور غلط کو درست مان کر چلنے کا چلن عام ہوتا جائے گا ۔ آرچ بشپ کے خیال میں گجرات اسمبلی انتخابات کے نتائج غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں ۔ لہذا اقلیتوں کو محتاط ہو کر ووٹ ڈالنا چاہئے ۔ اس ملک کے محب وطن شہری ہونے کے ناطے اقلیتوں کو بھی اپنے ملک کے مستقبل کی فکر لاحق ہے ۔ ہمارے ملک کا مستقبل قوم پرست طاقتوں کے ہاتھوں تباہ کن دور میں داخل ہوگا ۔ ہمارے ملک کے سیکولر اور جمہوری کردار پر آنے والی آنچ سے ہم کو باخبر رہنا چاہئے ۔ حالیہ برسوں میں ملک کے اندر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہوتی رہی ہیں ۔ دستوری حقوق کو پامال کیا جاتا رہا ہے ۔ ملک میں ایسا کوئی دن نہیں جاتا کہ اقلیتوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا ہو ۔ گاندھی نگر کے اس آرچ بشپ نے چرچ کی جانب سے دنیا بھر کے دیگر علاقوں میں انتخابات کے وقت جاری کی جانے والی اپیلوں کا بھی حوالہ دیا ۔ عموماً انتخابات کے وقت یا ملک کے کسی ایک طبقہ کے ساتھ ہونے والی زیادیتوں کے پس منظر میں یہ رائے قائم ہونا فطری امر ہے اور یہ ہندوستانی جمہوریت کا حصہ ہے کہ یہاں کے رائے دہندوں کو آزادانہ طور پر منصفانہ طریقہ سے ووٹ دینے کا حق دیا جاتا ہے ۔ الیکشن کمیشن بھی آزادانہ اور منصفانہ رائے دہی کو یقینی بنانے میں اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی انجام دیتا رہا ہے ۔ گجرات انتخابی عمل کو غیر متنازعہ طریقہ سے پورا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انتخابی ادارہ غیر جانبدارانہ طور پر اپنے فرائض انجام دے کیوں کہ یہ انتخابات حکمراں طاقتوں کے لیے اہم ہیں اور وہ بھی سرکاری مشنری کی آڑ میں بہت کچھ کر گذر سکتی ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT