Wednesday , September 19 2018
Home / شہر کی خبریں / آرکیالوجیکل سروے اور مکہ مسجد کے کنٹراکٹر کے درمیان اختلافات

آرکیالوجیکل سروے اور مکہ مسجد کے کنٹراکٹر کے درمیان اختلافات

رقم کی ادائیگی کے مسئلہ پر تکرار، صدرنشین وقف بورڈ نے مقررہ وقت پر کام کی تکمیل کی ہدایت دی
حیدرآباد۔11 مئی (سیاست نیوز) تاریخی مکہ مسجد کے تعمیری اور مرمتی کاموں میں تاخیر کے لیے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا اور کنٹراکٹر میں اختلافات اہم وجہ ہے۔ گزشتہ دو ماہ سے دونوں میں اختلافات عروج پر پہنچ گئے۔ کنٹراکٹر کی شکایت ہے کہ آرکیالوجیکل سروے کی جانب سے انہیں بروقت رقم جاری نہیں کی جارہی ہے اور کنٹراکٹ میں موجود کاموں کے علاوہ زائد کام حاصل کیے جارہے ہیں۔ دونوں میں اختلافات آج دوبارہ اس وقت منظر عام پر آگئے جب صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے مکہ مسجد کے معائنہ کے بعد جائزہ اجلاس طلب کیا۔ کنٹراکٹر نے ہدایت کی کہ آرکیالوجیکل سروے کی جانب سے اب تک صرف 28 لاکھ روپئے ادا کیے گئے جبکہ انہوں نے 60 لاکھ سے زائد خرچ کردیئے ہیں۔ وقف بورڈ کی جانب سے آرکیالوجیکل سروے کو ایک کروڑ کی اجرائی عمل میں آئی۔ پراجیکٹ کی مکمل لاگت 8 کروڑ 40 لاکھ ہے۔ ہیریکان کمپنی کے نمائندے نے شکایت کی کہ کنٹراکٹ میں شامل امور کے علاوہ ان سے مدرسۃ الحفاظ کی صفائی اور اطراف موجود ملبہ کی نکاسی کا کام لیا گیا۔ 70 لاری ملبہ انہوں نے ہٹایا۔ اس کے علاوہ ایک لاکھ 20 ہزار کے خرچ سے نئی گیٹ تیار کی لیکن اسے منظوری نہیں دی گئی۔ آرکیالوجیکل سروے کے عہدیدار بروقت رقم کی اجرائی سے گریز کررہے ہیں جس کے نتیجہ میں کام کی رفتار سست ہے۔ جائزہ اجلاس میں کنٹراکٹر اور آرکیالوجیکل سروے کے ڈپٹی ڈائرکٹر میں تکرار دیکھی گئی جس پر صدرنشین وقف بورڈ نے مداخلت کی اور کہا کہ آپسی معاملات کو بیٹھ کر حل کرلیں لیکن مقررہ وقت پر کام کی تکمیل ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اختلافات سے نہیں بلکہ کام کی تکمیل سے دلچسپی ہے۔ اگر کام میں مزید تاخیر کی جائے گی ا ور اس معاملہ کو چیف منسٹر سے رجوع کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ پراجیکٹ کی تکمیل کے لیے 18 ماہ کا وقت مقرر کیا گیا جس میں سے 6 ماہ مکمل ہوچکے ہیں لیکن کام ابھی بھی ابتدائی مرحلہ میں ہے۔ رمضان المبارک میں کنسٹرکشن مٹیریل کی تیاری کا کام بھی روک دیا جائے گا۔ مسجد کی چھت پر موجود ڈامبر کی تہہ نکالنے کا کام شروع ہوا لیکن اچانک بارش سے دوبارہ چھت متاثر ہوگئی اور چھت کے اندرونی حصہ میں پانی دیواروں سے اتررہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT