Monday , December 18 2017
Home / Top Stories / آر ایس ایس، گائورکھشکوں کے تشدد کی ہرگز تائید نہیں کرتی: ویدیا

آر ایس ایس، گائورکھشکوں کے تشدد کی ہرگز تائید نہیں کرتی: ویدیا

خاطیوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کرنے کا مطالبہ، قانون کو اپنا کام کرنا چاہئے
جموں۔21 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) گائورکھشکوں کے تشدد واقعات کو سیاسی رنگ دینے کی کوششوں کو بند کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے آر ایس ایس نے کہا کہ وہ کسی بھی نوعیت کے تشدد کی حمایت نہیں کرتی۔ گائورکھشک سے مربوط تشدد کو تو وہ ہرگز قبول نہیں کرتی۔ آر ایس ایس نے گائو رکھشک کے نام پر تشدد برپا کرنے والوں اکے خلاف سخت ترین کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ آر ایس ایس کے اکھل بھارتیہ پرچار پرمکھ منموہن ویدیا کا یہ ریمارک اس وقت سامنے آیا جبکہ اپوزیشن پارٹی پارلیمنٹ میں حکومت کے خلاف احتجاج کررہی ہے اور حکومت کو گائورکھشک کے نام پر ہونے والے تشدد اور مسلمانوں کو ہلاک کرنے کے واقعات کے خلاف گھیرے میں لے لیا ہے۔ نام نہاد گائورکھشکوں کی جانب سے معصوم افراد کی ہلاکت کے واقعات پر پارلیمنٹ میں اپوزیشن نے آواز اٹھائی ہے۔ منموہن ویدیا نے مزید کہا کہ گائورکھشک کے نام پر تشدد برپا کرنے والوں کو آر ایس ایس سے جوڑنے کے بجائے ان لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے جو اس طرح کے واقعات کے لیے ذمہ دار ہیں۔ قانون کو اپنا کام کرنا چاہئے۔ جو لوگ تشدد برپا کرتے ہوئے بدامنی پھیلانا چاہتے ہیں ان پر شکنجہ کسا جانا چاہئے۔ ویدیا جو ہجوم کی جانب سے بے قصور مسلمانوں کو زدوکوب کرکے ہلاک کرنے اور گائورکھشک کے نام پر تشدد برپا کرنے کے واقعات پر پوچھے گئے سوالات کا جواب دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سنگھ پریوار کسی بھی نوعیت کے تشدد کی حمایت نہیں کرتی۔ ہم نے اس سے پہلے بھی کہا ہے کہ ہم تشدد کے حامی نہیں ہیں۔ گائورکھشک ایک مختلف مسئلہ ہے۔ گائو رکھشک کی تحریک سینکڑوں برس پرانی ہے۔

یہ واقعات بھی برسوں سے ہوتے آرہے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ واقعات پہلی مرتبہ ہورہے ہیں، اار ایس ایس لیڈر نے کہا کہ میڈیا والے اس تشدد کو ایک نوعیت کے نظریہ سے مربوط کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور اپوزیشن اس مسئلہ کو سیاسی رنگ دینے کی کوششک ررہی ہے۔ یہ غلط ہے کہ آر ایس ایس تشدد کی حامی تنظیم ہے۔ وہ ہرگز تشدد کی حمایت نہیں کرتی۔ اس پر سیاست کرنا ایسا ہی ہے جیسے سماج کے وقار کو ٹھیس پہنچانا۔ یہ ٹھیک نہیں ہے۔ یہاں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے 3 روزہ کانکلیو منعقد ہوا جو جموں کشمیر میں آزادی کے بعد سے پہلا اس طرح کا اجلاس تھا۔ یہ کانکلیو کل ہی اختتام پذیر ہوا۔ کانفرنس میں ملک کو درپیش مسائل کے علاوہ دیگر عنوانات پر غور و خوص کیا گیا۔ اکھل بھارتیہ پرچارک کانفرنس 18 جولائی تا 20 جولائی منعقد ہوئی جو امرناتھ یاتریوں پر دہشت گرد حملوں کے پیش نظر تھی۔ سکیوریٹی کی ابتر صورتحال اور کشمیر میں بڑھتی دہشت گردی جیسے موضوعات پر غور کیا گیا۔ اس میں زائد از 195 پرچارکوں نے حصہ لیا جو آر ایس ایس کے تمام ملحق تنظیموں کے سربراہ ہوتے ہیں۔ اس کانفرنس میں آر ایس ایس کے اعلی قائدین نے بھی حصہ لیا جن میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت، سینئر قائدین بھیاجی جوشی، دتاتریہ ہوشبلے اور کرشنا گوپال قابل ذکر ہیں۔ ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ سابق کانگریس حکومت مبینہ طور پر آر ایس ایس کو دہشت گردی میں گھسیٹنے کی کوشش کررہی ہے۔ ویدیا نے کہا کہ اس مسئلہ کو سیاسی رنگ دینا غلط ہے اور آر ایس ایس کو اس میں ملوث کرنا بھی غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کی شناخت ہندوتوا ہے جو کسی دوسرے مذہب کے خلاف نہیں ہے اور ہم ہر انسان کی فلاح و بہبود کے فلسفہ پر یقین رکھتے ہیں۔ این ڈی اے امیدوار رامناتھ کووند کے انتخاب سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ تمام قانون سازوں نے انہیں ملک کا 14 واں صدر جمہوریہ منتخب کیا ہے اور اس انتخاب کا احترام کیا جانا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT