Monday , June 25 2018
Home / مضامین / آر ایس ایس چیف کا تباہ کن مشورہ

آر ایس ایس چیف کا تباہ کن مشورہ

غضنفر علی خان

آر ایس ایس کے چیف (سربراہ) موہن بھگوت نے ہمیشہ کی طرح ایک اور انتہائی تباہ کن خیال کا اظہار کیا۔ انھوں نے گزشتہ اتوار کو بہار کے ضلع مظفر پور میں آر ایس ایس کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آر ایس ایس ایک ڈسپلن کی پابند جماعت ہے اس کی فوجی ٹریننگ پائے ہوئے شاکھا وقت پڑنے پر نیم فوجی (ملیشیا) کا رول بخوبی ادا کرسکتے ہیں۔ ان کا خیال ہے (جو سراسر مبالغہ آمیز ہے) کہ کسی ناگہانی صورتحال میں آر ایس ایس کے تربیت یافتہ لوگ صرف 3 دن کے اندر ہی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار ہیں جبکہ ہماری فوج کو ایسے حالات سے مقابلہ کے لئے کم از کم 7 دن لگ جاتے ہیں۔ یہ کہہ کر انھوں نے ملک کی مسلح افواج کی وفاداری وطن سے ان کی محبت اور ان کی صلاحیت پر اپنے عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ یہ بات اگر موہن بھگوت کے علاوہ کسی اور سیاسی پارٹی کے لیڈر نے کہی ہوتی تو سارے ہندوستان میں بھونچال آجاتا۔ بیان بازیاں شروع ہوجاتیں۔ اس کو گرفتار کرنے کے تقاضے کئے جاتے لیکن موہن بھگوت تو موجودہ مودی حکومت کے سرپرست اعلیٰ ہیں۔ مودی حکومت کی پالیسی کے علمبردار ہیں۔ ان حالات میں ان کے (موہن بھگوت) خلاف کسی کارروائی کا بھلا مودی حکومت تصور بھی کیسے کرسکتی ہے۔ بھگوت کو پتہ تک نہیں ہے کہ صرف پابند ڈسپلن ہونا ہی کسی گروہ کی جنگی صلاحیتوں کے لئے کافی نہیں ہے۔ حد تو یہ ہے کہ چھاپہ مار لڑائی کے لئے بھی صرف ڈسپلن کا ہونا کبھی بھی کافی نہیں ہوتا۔ آج کی دنیا میں جنگ ایک ایسا خطرناک کھیل ہوگیا ہے جو سپاہیوں سے نہیں جنگی ساز و سامان اور ہتھیاروں کے ذریعہ ہی کھیلا جاسکتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ آخر کونسی افتاد ان کے خیال میں آن پڑی ہے کہ وہ بلا سوچے سمجھے آر ایس ایس کے تربیت یافتہ شاکھاؤں کو لڑنے بھڑنے پر آمادہ کررہے ہیں۔ اگر ان کے خیال میں پاکستان ہماری قومی سلامتی کے لئے خطرہ ہے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان کے خیال میں دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہونے والی ہماری فوج پاکستان سے مقابلہ نہیں کرسکتی؟ ملک کا دفاع نہیں کرسکتی ایسا سوچنا بھی وطن دشمنی کے مترادف ہے کیوں کہ پاکستان اپنے ناپاک عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوا۔ جموں و کشمیر میں ہر روز پاکستان جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ ہمارے فوجی کیمپوں پر حملے کرتا ہے اور اس کا ہر حملہ ہر کوشش ہماری مسلح افواج ہی ناکام بنادیتی ہے۔ یہ کیسا احمقانہ خیال ہے کہ ہماری فوج کی صلاحیت کم ہوگئی۔ اب تو پاکستان کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے ہماری فوج زیادہ چوکس ہوگئی ہے۔ وہ ہر وقت تیار ہے اس کو تیار ہونے کے لئے 7 دن نہیں بلکہ 7 گھنٹوں اور 7 لمحوں کی بھی ضرورت نہیں۔ 7 دن میں تو ساری افواج میدان جنگ کو تہہ و بالا کرسکتی ہے۔ پھر بھگوت کو یہ خیال کیوں آیا کہ ہماری افواج کی موجودگی میں ہمیں کسی اور گروہ کی مدد چاہئے۔ ان کا ایسا کہنا فوج کے خلاف بدگمانی پیدا کرنے کے مماثل ہے۔ ان پر تو ملک سے غداری کا مقدمہ دائر کیا جانا چاہئے۔ ملک بہت کچھ برداشت کرسکتا ہے لیکن اس کی سرحدوں کی نگہبانی کرنے والے سپاہیوں کی توہین اس کے لئے ناقابل برداشت ہے۔ اگر بھگوت کے خیال میں ان کے تربیت یافتہ جنگجو افراد اتنے قابل ہیں تو پھر کئی سوالات ازخود پیدا ہوجاتے ہیں مثلاً یہ کہ آر ایس ایس اپنے دعویٰ کے مطابق ایک ثقافتی یا کلچرل تنظیم ہے تو پھر ان تمام دنوں آخر کس کے حملوں کو روکنے کے لئے انھیں فوجی تربیت دی گئی۔ آر ایس ایس کا حدف اس کا نشانہ اس کا ٹارگٹ کون ملک دشمن عناصر تھے۔ ساری توانائی تو آر ایس ایس مسلم دشمنی میں صرف کرتی ہے۔ تو کیا یہ فوجی تربیت ملک کی سب سے بڑی اقلیت یعنی مسلمانوں کو نشانہ بنانا چاہتی ہے۔ ایک ایسے وقت جبکہ مودی حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد ہندوتوا کا غلبہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے جبکہ ملک کی ملی جلی تہذیب کو اس کے قومی وقار کو اس کے ’’قوم پرستی‘‘ کو ہندو قوم پرستی میں بدل دیا جارہا ہے۔ یہ کہنا کہ ملک کی حفاظت اس کی ثقافت اس کی تاریخ اس کی مخلوط تہذیب کو بچانے کے لئے آر ایس ایس اپنی خدمات پیش کرسکتی ہے۔ انتہائی تباہ کن پیشکش ہے یہ فوجی تربیت تو ملک کی اقلیت کو برباد کرنے کے لئے ہی کی جارہی ہے۔ تو کیا بھگوت یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے تربیت یافتہ عناصر کو فوج کا ایک حصہ بنادیا جائے اس کو نیم فوجی (ملیشیا) کا درجہ دیا جائے۔ اگر مودی حکومت ایک لمحہ کے لئے بھی ان کی اس تجویز پر غور کرے گی جس کا یقینی طور پر موجودہ حکومت سے خطرہ ہے تو پھر سارا ملک جہنم بن جائے گا۔ جن ممالک میں ایسے نیم فوجی دستوں یا ملیشیا کو فروغ دیا گیا وہاں ایسی بھیانک تباہی آئی کہ یہ ممالک اس آفت سے نمٹنے کے آج تک قابل نہ ہوسکے۔ ہمارے اطراف اس قسم کی غلطی کرنے والے ممالک کی کئی مثالیں ہیں۔ افغانستان، پاکستان، عراق، شام، لبنان و صومالیہ ایسی غلطی کرنے والے وہ ممالک ہیں جہاں امن و امان غارت ہوگیا کیوں ان ممالک خاص طور پر پاکستان میں طالبان کا وجود آج پاکستان کی بقاء کے لئے خطرہ بن چکا ہے۔ پاکستان میں پاکستان طالبان وہاں کی فوج اور حکومت کے لئے بھی ہلاکت خیز خطرہ بن گئے ہیں۔ کیا بھگوت چاہتے ہیں کہ خدانخواستہ ہمارے ملک میں بھی ایسے حالات پیدا ہوں۔ ابھی کچھ نہیں ہوا ہے تو یہ عالم ہے کہ گاؤ رکھشکوں کے ہاتھوں کئی قتل ہوچکے ہیں۔ لو جہاد کے نام پر ایک قیامت صغریٰ ہے کہ مسلمانوں پر ٹوٹ پڑی ہے۔ ایسے کئی واقعات اورہے جن کی وجہ سے مسلم اور عیسائی اقلیت خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگی ہے۔ ایک سنگین بحران پیدا ہوگیا ہے۔ یہ بات کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے کہ مودی حکومت آر ایس ایس کے ایجنڈے پر کام کررہی ہے۔ اس بحران کو اگر بھگوت مزید تباہ کن بنانا چاہتے ہیں تو ایسا ہمارے ملک ہندوستان میں کبھی نہیں ہوسکتا۔ دستور میں کسی خاص طبقہ کو فوج کا مددگار بنانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ہماری فوج میں ملک کے اکثریتی طبقہ ہندو بھائیوں کے ساتھ سکھ، عیسائی، مسلمان غرض ہر کوئی شامل ہے۔ باقاعدہ طور پر ان کے رجمنٹ بنے ہوئے ہیں۔ ہماری فوج میں کوئی ہندو یا مسلمان بن کر نہیں ہوتا ہے فوج میں شامل ہونے والا ہر فرد واحد ایک ہندوستان ہی کی حیثیت سے فوج میں شریک ہوتا ہے۔ آر ایس ایس لمحہ کی تاخیر کے بغیر ایسی جماعت سمجھی جاتی ہے جو ہندو قوم پرستی کو ہندوتوا ، ملک کو ہندو راشٹر بنانے کو اپنا اولین مقصد سمجھتی ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے وہ سب کچھ کرسکتی ہے۔ اس لئے موہن بھگوت کی آر ایس ایس کے تربیت یافتہ کارکنوں کو کبھی ملیشیا یا نیم فوجی دستہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اگر آج ملک میں بی جے پی کی حکومت نہیں ہوتی کسی دوسری پارٹی یا پارٹیوں کی حکومت ہوتی تو اس خیال کو نہ تو میڈیا اہمیت دیتا اور نہ تذکرہ ہوا ہوتا۔ ڈر تو اس بات کا ہے کہ غیر سرکاری طور پر آر ایس ایس کے نظریات پر عمل پیرا موجودہ حکومت آر ایس ایس سے وفاداری میں کہیں اس خیال کو جو آر ایس ایس چیف نے مظفر پور (بہار) میں پیش کیا ہے سچ مچ کوئی معقول تجویز نہ سمجھ بیٹھے۔ چنانچہ بھگوت کے اظہار خیال کی کسی اور نے نہیں بلکہ مودی حکومت کے وزیر کرن رجیجو نے تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھگوت نے کوئی خلاف دستور، خلاف قانون بات نہیں کی ہے۔ ملک کے ہر شہری کو وقت پڑنے پر ایک فوجی بن جانا پڑتا ہے۔ وزیر موصوف یہ نہیں جانتے کہ ملک کا ہر باشندہ آپ کے کہنے ہی سے پہلے ایک سپاہی ہے۔ یہ ملک اس لئے بھی چل رہا ہے اور آئندہ بھی چلے گا کہ یہاں کا ہر باشندہ ایسا سپاہی ہے جو وقت پڑنے پر اپنی جان و مال کی قربانی دینے کے لئے تیار رہتا ہے۔ اس قسم کی خیال آرائیوں کی وجہ سے جیسی کہ مرکزی وزیر کرن رجیجو کی ہے یہ شبہ ہوتا ہے کہ حکومت میں بھگوت کے چاہنے والے موجود ہیں۔

TOPPOPULARRECENT