Wednesday , November 22 2017
Home / Top Stories / آر ایس ایس کے اجلاس میں وزیر اعظم نریندر مودی کی شرکت

آر ایس ایس کے اجلاس میں وزیر اعظم نریندر مودی کی شرکت

نئی دہلی /4 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیر اعظم نریندر مودی نے آج سنگھ پریوار کی تنظیموں اور حکومت کے درمیان اجلاس کے تیسرے اور آخری دن شرکت کی۔ وسیع تر مسائل پر غور و خوض کیا۔ یہ اپنی نوعیت کا اولین اجلاس تھا۔ مودی حکومت کے کئی اعلی سطحی وزراء نے کلیدی مسائل بشمول داخلی سلامتی، نکسل مسئلہ اور جموں و کشمیر کی صورت حال پر مباحث میں حصہ لیا۔ مرکزی وزراء راجناتھ سنگھ، ارون جیٹلی، سشما سوراج، منوہر پاریکر، وینکیا نائیڈو اور اننت کمار ان سینئر وزراء میں شامل تھے، جنھوں نے غور و خوض میں شرکت کی۔ انھوں نے آر ایس ایس اور اس سے الحاق رکھنے والی تنظیموں کے اٹھائے ہوئے مسائل سے متعلق حکومت کے کئے ہوئے اقدامات سے واقف کروایا۔

ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا انتظار، پاکستان اور بنگلہ دیش ہندوستان کا ہی حصہ
سرکاری کار کردگی کے جائزہ کی تردید،مذہب کی بنیاد پر مردم شماری کے بارے میں رپورٹ تیار، جنرل سکریٹری آر ایس ایس کی پریس کانفرنس

نئی دہلی /4 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) حکومت اور بی جے پی کے اعلی سطحی عہدہ داروں کے ساتھ تین روزہ ’’رابطہ‘‘ اجلاس کے بعد آر ایس ایس نے آج کہا کہ مودی حکومت درست سمت میں پیش رفت کر رہی ہے اور اس کی اپنے کام سے وابستگی اور خلوص نے اس تنقید کی تردید کردی ہے کہ یہ ’’ریموٹ کنٹرول‘‘ کے ذریعہ کام کر رہی ہے۔ سنگھ پریوار کے سربراہ نے کہا کہ آر ایس ایس حکومت کی کار کردگی کا جائزہ نہیں لے رہی ہے، بلکہ صرف وزراء کو ’’معلومات‘‘ فراہم کر رہی ہے، جو سوئم سیوک بھی ہیں اور آر ایس ایس کو اس کا حق ہے۔ صرف 14 ماہ گزرے ہیں، ابھی بہت وقت اور کام باقی ہے۔ اب تک جو کچھ کیا گیا ہے، درست سمت میں ہے اور کام سے وابستگی اور خلوص کا مظہر ہے۔ آر ایس ایس نے کہا کہ حکومت کے کارنامے اچھے ہیں، ہمیں پیش رفت کرنا ہے۔ ہر ایک کو مکمل طورپر مطمئن نہیں کیا جاسکتا۔ آر ایس ایس کے جوائنٹ جنرل سکریٹری دتاتریہ ہوسابالے نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم حکومت کی کار کردگی کا جائزہ نہیں لے رہے ہیں اور نہ کوئی پیغام دے رہے ہیں۔ ہم صرف معلومات میں شراکت داری کر رہے ہیں۔ تین روزہ رابطہ اجلاس میں آر ایس ایس کے سرسنچالک موہن بھاگوت اور سنگھ کے اعلی سطحی قائدین حکومت اور بی جے پی کے اعلی قائدین کے روبرو تھے، جن میں سینئر وزراء اور وزیر اعظم نریندر مودی نے مذاکرات کے اواخر میں شرکت کی۔ تنقید کا جواب دیتے ہوئے ہوسابالے نے کہا کہ آر ایس ایس حکومت کو ہدایات نہیں دے رہی ہے اور نہ وزراء آر ایس ایس کو کار کردگی کی اطلاعات دیتے ہوئے رازداری کے حلف کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ ہم غیر قانونی تنظیم نہیں ہیں، ہم بھی ملک کے شہری ہیں، ہمیں بھی وزراء سے سوال کرنے کا پورا حق ہے، جو سوئم سیوک ہیں۔ رازداری کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا ہے،

سوئم سیوک وزراء بن گئے ہیں۔ اس سوال پر کہ کانگریس کی تنقید کہ آر ایس ایس ریموٹ کنٹرول کا کام انجام دے رہی ہے، انھوں نے جوابی وار کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس جو کچھ کہتی ہے، ہمیں اس کا جواب دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ انھیں ریموٹ کنٹرول کے ذریعہ چلایا جا رہا تھا، اس لئے انھیں ہمارے بارے میں کچھ بھی کہنے کا اخلاقی حق نہیں ہے۔ حکومت کے نمائندوں کے ساتھ تبادلہ خیال کو جائز قرار دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کو وزراء کے ساتھ تبادلہ خیال کو مسئلہ نہیں بنانا چاہئے۔ کیا وہ سی آئی آئی یا فکی یا دیگر تقاریب میں شرکت کرتے ہیں تو اسے بھی مسئلہ بنایا جاتا ہے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ہوسابالے نے کہا کہ آر ایس ایس ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا انتظار کرے گی، جیسا کہ حکومت کے ٹائم ٹیبل میں شامل ہے۔ کیونکہ یہ مسئلہ سپریم کورٹ میں زیر التواء ہے، اس لئے ہم انتظار کر رہے ہیں۔ہندوستان کے پڑوسیوں سے تعلقات کے بارے میں ہوسا بالے نے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش قبل ازیں ہندوستان کا ہی حصہ تھے اور ہمارے تعلقات ویسے ہی ہونے چاہئیں جیسے افراد خاندان کے ہوتے ہیں۔ مذہب کی بنیاد پر مردم شماری کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کی رپورٹ تیار ہے جس پر مباحث کئے جائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT