Wednesday , May 23 2018
Home / Top Stories / آسام میزورم سرحدی تنازعات دوستانہ طریقے سے حل کریں

آسام میزورم سرحدی تنازعات دوستانہ طریقے سے حل کریں

NEW DELHI, MAR 14 (UNI):- Union Home Minister Rajnath Singh addressing at Asia Pacific Regional Conference of International Association of Chiefs of Police at Vigyan BhaWan in New Delhi on Wednesday. UNI PHOTO-JA4U

خطہ میں حالات بہتر بنانے لوگوں کو جمع ہونے سے روکنے کی ہدایت : وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ
گواہاٹی، 14 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے آسام اور میزورم حکومت کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ علاقہ میں امن و قانون کی بالادستی کو قائم رکھتے ہوئے سرحدی تنازعات کو حل کرنے کے لئے ہر ممکن قدم اٹھائیں۔ مسٹر سنگھ نے میزورم کے وزیراعلی لل تھنہولا کو خط لکھ کر کہا ہے سبھی معلق معاملات آپسی رضامندی اور دوستانہ طریقے سے حل کئے جانے چاہئے ۔ مسٹر سنگھ نے مسٹر لل تھنہولا سے گزارش کی ہے کہ علاقہ میں حالات کو بہتر بنانے کے لئے بیرابی میں لوگوں کو جمع ہونے سے روکیں۔ گزشتہ مہینے پولیس نے یہاں ایک علاقہ میں لکڑیوں سے آرام گاہ بنانے کی کوشش کر رہے میزروم کے طلبہ پر لاٹھی چارج کی تھی جس علاقہ کے بارے میں آسام کا کہنا ہے کہ وہ اس کی حدود میں آتا ہے ۔ اس واقعہ میں 49 لوگ زخمی ہوگئے تھے اور سرحدوں پر تناؤ بڑھ گیا تھا۔ مسٹر سنگھ نے خط میں ہدایت کی کہ دونوں ریاستوں کے مسائل کا حل آپسی رضامندی اور دوستانہ طریقہ سے ہونا چاہئے ۔ مسٹر سنگھ نے مرکزی وزارت داخلہ کے سکریٹری کو بھی ہدایت کی کہ وہ اگلے ہفتہ دونوں ریاستوں کے چیف سکریٹری سطح کی میٹنگ بلائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑے تو دونوں ریاستوں کے وزراء اعلی کی بھی میٹنگ بلائی جائے ۔ آسام کے وزیراعلی سربانند سونووال نے وزارت داخلہ سے اس معاملہ میں دخل دینے کا مطالبہ کیا تھا اور سرحدی تنازعات کو دوستانہ طریقہ سے حل کرنے کے لئے مسٹر لل تھنہولا سے فون پر بات بھی کی تھی۔
اس کے دو بھائیوں نے گاوں میں مکانات بنائے تھے ۔ اور اس تقریب کے بعد وہ ڈیوٹی سے رجوع ہوگیا۔

سائبر کرائم کو شکست دینے متحد عالمی مساعی درکار :راجناتھ
نئی دہلی، 14 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے انٹرنیٹ پر بڑھتے انحصار کے پیش نظر سائبر حملوں کے واقعات میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام ممالک کی سیکورٹی ایجنسیوں کو متحد ہوکر ‘سائبر دشمنوں’ کو ہرانا ہوگا۔مسٹر سنگھ نے پولیس سربراہوں کی انٹر نیشنل یونین (آئی اے سی پی ) کے دو روزہ ایشیا پیسیفک علاقائی کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے آج یہاں کہا کہ انٹرنیٹ مواصلات اور رابطہ کا سب سے زیادہ سازگار ذریعہ بن گیا ہے ۔ یہ مالیاتی لین دین اور سماجی سرگرمیوں کی ریڑھ کی ہڈی کے طور پر ابھرا ہے اور حکومت اور لوگوں کے درمیان پل کا کام کر رہا ہے ۔انٹرنیٹ کی بڑھتی پہنچ کو دیکھتے ہوئے دنیا بھر میں حکومتوں نے ڈجیٹل پروگرام شروع کئے ہیں۔ ملک میں بھی حکومت نے کئی شعبوں میں ڈجیٹل کی بنیاد پر خدمات شروع کرکے ڈجٹیلائزیشن کو نیا خدو خال دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں تیزی سے تبدیل ہو رہی ٹیکنالوجی کے دور میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر انحصار بڑھ گیا ہے ۔ کمپیوٹر کی بنیاد پر ٹیکنالوجی کا عام سیکورٹی کے نظام سے لے کر جوہری پلانٹس اور خلا ئی پروگراموں کی حفاظت کے لئے استعمال کیاجارہا ہے جس سے سائبر انحصار میں بھی اضافہ ہورہاہے ۔ اسے دیکھتے ہوئے سول اور فوجی دونوں سیکٹروں کے بنیادی ڈھانچے پر سائبر حملوں کا خدشہ اور خطرہ اور بھی بڑھ گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس خطرے سے نمٹنے کے لئے دنیا بھر کی سیکورٹی ایجنسیوں کو آپس میں تعاون بڑھاکر متحد ہونا ہوگا جس سے ‘سائبر دشمنوں’ کو شکست دی جا سکے ۔

TOPPOPULARRECENT