Friday , November 24 2017
Home / سیاسیات / آسام میں بی جے پی کی کامیابی کیلئے کانگریس ذمہ دار ہوگی

آسام میں بی جے پی کی کامیابی کیلئے کانگریس ذمہ دار ہوگی

صدر اے آئی یو ڈی ایف بدرالدین اجمل کا بیان، اسمبلی انتخابات میں اتحاد کی پیشکش کا تذکرہ
گوہاٹی 12 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) صدر اے آئی یو ڈی ایف و خوشبویات کی تجارت کی اہم شخصیت بدرالدین اجمل نے کہاکہ کانگریس کو انھوں نے آسام کے آئندہ اسمبلی انتخابات میں اتحاد کی پیشکش کی تھی لیکن اسے مسترد کردیاگیا۔ اجمل نے کہاکہ اگر آسام میں بی جے پی کامیاب ہوتی ہے جس کے لئے سیکولر ووٹ تقسیم ہوں گے تو کانگریس ہی اِس کی ذمہ دار ہوگی۔ بدرالدین اجمل جنھوں نے اپنے آپ کا تحفظ کرتے ہوئے خود کو ’’بادشاہ گر‘‘ کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ ٹوئٹر پر تحریر کیاکہ اگر سیکولر ووٹوں کی تقسیم کے نتیجہ میں آسام میں بی جے پی برسر اقتدار آتی ہے تو اس کے لئے کانگریس ہی ذمہ دار ہوگی۔ قطعی مرحلہ کے انتخابی اجلاس میں کل اُنھوں نے کہاکہ اقلیتی غالب آبادی والی ریاست آسام میں آسام یونائیٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ نے اپنے ٹوئٹر پر دو دن قبل ہی یہ بیان جاری کردیا ہے کہ ہم سے کانگریس نے مفاہمت کی پیشکش کی تھی جسے ہم نے مسترد کردیا۔ اُنھوں نے کہاکہ ہم نے اپنی بہترین کوشش کی تاکہ کانگریس سے اتحاد کیا جائے۔

پرشانت کشور نے اس سلسلہ میں راہول گاندھی سے بات چیت کی۔ بدرالدین اجمل نے کہاکہ لیکن بدقسمتی سے کانگریس نے اتحاد سے انکار کردیا۔ اس کے بجائے وہ سیکولر ووٹ تقسیم کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ بدرالدین اجمل نے ٹوئٹر پر جاری کردہ اپنے کئی بیانات میں اِسی کا ادعا کیا ہے۔ اے آئی یو ڈی ایف کے رکن پارلیمنٹ جو بھگوا پارٹی پر تنقید کے لئے شہرت رکھتے ہیں، 27 مارچ کو ٹوئٹر پر تحریر کرچکے ہیں کہ بی جے پی دہشت زدہ ہوگئی ہے۔ اُنھیں احساس ہوگیا ہے کہ عوام کی تائید حاصل نہیں ہے۔ اُن کی گھناؤنی چالیں اُنھیں مدد نہیں دیں گی۔ اِس سے قبل 17 مارچ کو اُنھوں نے کہا تھا کہ بی جے پی کو غیرقانونی تارکین وطن کا مسئلہ صرف انتخابات کے وقت یاد آتا ہے۔ آسام کے عوام بی جے پی کی سازش کا اِس بار شکار نہیں ہوں گے۔ اے آئی یو ڈی ایف نے جس کا غلبہ زیادہ تر زیریں آسام میں ہے کوشش کررہی ہے کہ بالائی آسام کے انتخابات میں بھی اپنے وجود کا ثبوت دے۔ چنانچہ 4 اپریل کو پہلے مرحلہ کی رائے دہی میں اِس کے 27 امیدوار اور 11 اپریل کو مقرر دوسرے مرحلہ کی رائے دہی میں اُس کے 47 امیدوار مقابلہ کریں گے۔ اے آئی یو ڈی ایف کو اُمید ہے کہ وہ انتخابات میں اقلیتوں کے ووٹ حاصل کرتے ہوئے زبردست کامیابی حاصل کرے گی۔ بدرالدین اجمل نے دعویٰ کیاکہ اُن کی انتخابی مہم کے کئی اجلاسوں میں وہ معلق اسمبلی کی صورت میں بادشاہ گر کے موقف میں ہوں گے اور نائب وزیراعلیٰ کا قلمدان طلب کریں گے۔ جس کے لئے ہر سیاسی پارٹی جس کی وہ تائید کریں گے آئندہ حکومت تشکیل دے سکے گی۔

TOPPOPULARRECENT