Saturday , November 17 2018
Home / Top Stories / آسام واقعہ کیخلاف مغربی بنگال میں ٹی ایم سی کے احتجاجی جلوس

آسام واقعہ کیخلاف مغربی بنگال میں ٹی ایم سی کے احتجاجی جلوس

آسام میں موٹر سائیکل سوار ہندی داں حملہ آوروں کی اندھا دھند فائرنگ سے 5 افراد ہلاک
کولکاتا ؍ گوہاٹی 2 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ترنمول کانگریس مغربی بنگال میں آج آسام میں 5 افراد کی بے رحمانہ ہلاکت کے خلاف بطور احتجاج جلوس نکالے گی۔ 5 افراد کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا جبکہ دیگر دو بندوق برداروں کے ہاتھوں زخمی ہوگئے جبکہ کھیرنی ہری (آسام ضلع ٹنسکیا) میں جمعرات کے دن فائرنگ ہوئی تھی۔ آسام میں بے رحمانہ ہلاکت کے خلاف ترنمول کانگریس احتجاجی جلوسوں کا 2 نومبر جمعہ کے دن شمالی اور جنوبی مغربی بنگال کے تمام علاقوں بشمول سلیگوڑی اور کولکاتا میں اہتمام کرے گی۔ چیف منسٹر مغربی بنگال و صدر ترنمول کانگریس ممتا بنرجی نے کل رات اپنے ٹوئٹر پر تحریر کیا تھا کہ ترنمول کانگریس کے نوجوانوں کے شعبہ کے صدر اور رکن پارلیمنٹ ابھیشک بنرجی احتجاجی جلوسوں میں سے ایک کی جادھو پور میں قیادت کریں گے اور شمالی کولکاتا کے ہزرہ چوراہے کے پاس جلوس نکالا جائے گا۔ ممتا بنرجی نے اپنے ٹوئٹر پر کل اظہار حیرت کیاکہ قومی رجسٹر برائے شہریان کے سلسلہ میں یہ حملہ کیا گیا تھا۔ اُنھوں نے کہاکہ یہ اسی تبدیلی کا ردعمل ہوسکتا ہے۔ آسام سے صدمہ انگیز خبر وصول ہوئی ہے اور ہم ٹنسکیا میں بے رحمانہ حملے کی مذمت کرتے ہیں۔ ہمارے پاس الفاظ نہیں ہیں جن میں ہم سوگوار خاندانوں سے اظہار رنج کرسکیں۔ خاطیوں کو جلد از جلد زبردست سزا دی جانی چاہئے۔ گوہاٹی سے موصولہ اطلاع کے بموجب آسام کی پولیس نے زبردست پیمانے پر تلاشی کارروائی کا آغاز کردیا ہے تاکہ 5 افراد کے قتل میں ملوث خاطیوں کو جلد از جلد گرفتار کیا جاسکے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ بندوق بردار اُلفا سے تعلق رکھتے تھے اور جنگی وردی میں ملبوس تھے لیکن تنظیم نے اپنے حملہ میں ملوث ہونے کے الزام کو مسترد کردیا۔ ڈی جی پی کلادھر سیکیا اور ایڈیشنل ڈی جی پی مکیش فوری ٹنسکیا پہونچ گئے جبکہ چند گھنٹے قبل ہی واقعہ پیش آیا تھا۔ وہ نظم و ضبط کی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ بعدازاں گوہاٹی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہاکہ زبردست تلاشی کارروائی کا آغاز کیا جاچکا ہے تاکہ ملزمین کو پکڑا جاسکے۔ واقعہ میں ملوث کسی بھی شخص کو فرار ہونے نہیں دیا جائے گا۔ کل رات سے ہی ہم نے کئی کارروائیاں ملزمین کی گرفتاری کے لئے شروع کر رکھی ہیں۔ دریں اثناء آسام پولیس نے کہاکہ قومی صدر بی جے پی امیت شاہ نے ہلاکت کے اِس واقعہ کی مذمت کی ہے۔ چیف منسٹر سونووال نے بھی کہاکہ بے قصور افراد کو ہلاک کیا گیا ہے اور خاطیوں کے خلاف قرار واقعی کارروائی کی جائے گی۔ سیاسی پارٹیوں نے اِس سلسلہ میں ریاست گیر سطح پر اِس تشدد کی مذمت کرتے ہوئے خاطیوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ دریں اثناء اندھا دھند فائرنگ میں زندہ بچ جانے والے ایک شخص نے شاہ صاحب نماسدرا کی شناخت کی ہے جو حملہ آوروں میں شامل تھا۔ تین بندوق بردار 7.30 بجے شب سے لے کر 8 بجے شب تک اندھا دھند فائرنگ کرتے رہے تھے۔ یہ تمام موٹر سائیکلوں پر سوار آئے تھے اور اُن سے ہندی میں بات چیت کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT