Saturday , November 18 2017
Home / مضامین / آسٹریلیا میں مسلمانوں کی آمد پر پابندی کا مطالبہ سوشل میڈیا پر نئی بحث

آسٹریلیا میں مسلمانوں کی آمد پر پابندی کا مطالبہ سوشل میڈیا پر نئی بحث

محمد فیاض الدین
آج کل سوشل میڈیا پر آسٹریلیا کی ایک ٹی وی پرزنٹر ( ٹی وی پروگرامس کی خاتون میزبان) کا مضحکہ اڑایا جارہا ہے ۔ سونیا کروگر نامی اس ٹی وی میزبان کا تمسخر اڑانے کی وجہ یہ ہیکہ انہوں نے ٹی وی چینل ’’ نائن ٹوڈے ‘‘ کے ایک پروگرام میںفرانس کے نائیس میں پیش آئے دہشت گردانہ حملہ پر تبصرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم تارکین وطن کی سرزمین آسٹریلیا پر آمد عارضی طور پر بند کردی جانی چاہیئے یعنی وہ چاہتی ہیں کہ مسلمانوں کی آسٹریلیا آمد پر پابندی عائد کی جانی چاہیئے ۔ مذکورہ ٹی وی چیانل پر دو پروگرامس کی میزبانی کرنے والی سونیا کروگر نے مسلمانوں کی آسٹریلیا آمد پر عارضی پابندی عائد کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر آسٹریلیائی سرحدوں کو مسلمانوں کیلئے عارضی طور پر بندکردیا جاتا ہے تو وہ خود کو بہت زیادہ محفوظ محسوس کریں گی ۔ انہوں نے ایک طرح سے اپنے خیالات کے ذریعہ آسٹریلیائی عوام میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ساری مسلم کمیونٹی ہی دہشت گرد اور تشدد پسند ہوتی ہے اور جن ملکوں میں تارکین وطن مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے وہاں دہشت گردی کے واقعات پیش آتے ہیں ۔ اس ضمن میں انہوں نے جاپان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ جاپان دہشت گرد حملوں سے اس لئے محفوظ ہے کیونکہ وہاں مسلم تارکین وطن کی تعداد بہت کم ہے ۔ عوام میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور نسل پرستی کا جذبہ پیدا کرنے کی نیت سے کئے گئے تبصرہ میں سونیا کروگر نے یہ کہتے ہوئے آسٹریلیائی عوام کو جذباتی طور پر بلیک میل کرنے کی کوشش کی کہ وہ ایک ماں کی حیثیت سے پریشان ہیں اور اس مسئلہ ( دہشت گردی کے مسئلہ ) پر بحث کی خواہاں ہیں ۔

سونیا کروگر کے اس تبصرہ پر آسٹریلیاء میں کئی مرد و خواتین نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں نسل پرست قرار دیا ۔ سونیا کا مضحکہ اُڑاکر انہیں اس طرح کی بکواس سے گریز کرنے کا مشورہ دینے والوں میں ممتاز کامیڈین اور ٹی وی میزبان چارلی پیکرنگ‘ سنیٹرسارہ ‘ ہینسن ‘ پنگ ‘ڈان واکر ‘ ایم رسپانو شامل ہیں ۔ چارلی پیکرنگ نے تو ٹوئیٹر پر سونیا کروگر پر تنقید کرتے ہوئے یہ سوال داغ دیا کہ برائے مہربانی ان چیزوں کی فہرست تو بتا دیجئے جو ایک ماں کی حیثیت سے آپ اپنا حق سمجھتی ہیں ۔ سنیٹر سارہ ہینسن ‘ پنگ نے کچھ اس طرح ٹوئٹ کرتے ہوئے سونیا کی نسل پرستی کے خلاف برہمی ظاہر کی ۔ ’’بطور ماں ہمارے لئے یہ بہتر ہوگا کہ اپنی جہالت اور عدم رواداری کو چھپانے کیلئے بچوں کا استعمال نہ کریں ۔ ڈان واکر نامی خاتون نے اپنے ٹوئیٹ کے ذریعہ سونیا کروگر کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ بچوں کو مذاہب اور رنگ ونسل میں بانٹنے کی کوشش نہ کریں ‘ بطور ماں مجھے اپنی اولاد کو یہ سکھانا ہیکہ مسلم بچے بھی ان ہی جیسے انسان ہوتے ہیں اور بطور انسان میرا یہ فرض بنتا ہیکہ میں امتیازی سلوک اور تعصب و جانبداری کو مسترد کردوں ۔ ایم رسپانو نے آسٹریلیا میں مسلمانوں کی آمد پر عارضی پابندی عائد کرنے سے متعلق سونیا کروگر کے مطالبہ کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ بطور ماں میں ان ماؤں پر پابندی عائد کئے جانے کی خواہاں ہوں جو اپنا جملہ ہی لفظ بطور ماں کے شروع کرتی ہیںاور یہ سمجھتی ہیں کہ ساری کمیونٹی ہی ممکنہ دہشت گرد ہے ۔ ایک اور خاتون نے ٹوئیٹر پر یہ پیام دیتے ہوئے سونیا کے ہوش ٹھکانے لگانے کی کوشش کی کہ بطور ماں میں اس بات کی اُمید کرتی ہوں کہ میں اپنے بچوں کو ہر مختلف چیز سے نفرت اور خوف نہ سکھاؤں گی ۔ کروگر کے خلاف سوشل میڈیا پر جہاں کافی تبصرے ہوئے ہیں وہیں ان کی تائید میں بھی کچھ لوگوں نے آواز اٹھائی ہے ۔ ایسے لوگوں کا کہنا ہیکہ سونیا کروگر کو اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے ۔ سونیا کروگر نے جو ٹی وی شو ’’ دی وائس اینڈ ٹوڈے اکسٹرا ‘‘ پیش کرتی ہیں ۔ پیر کو چیانل نائن ٹوڈے پر کہا کہ میں خود کو اور تمام آسٹریلیائی شہریوں کو اس وقت محفوظ محسوس کرنا چاہتی ہوں جب وہ آسٹریلیا کے قومی یوم کا جشن منانا چاہیں اور میں اظہار خیال کی آزادی دیکھنے کی خواہاں ہوں ۔

واضح رہے کہ آسٹریلیا میں سیاسی پناہ کا پالیسی سسٹم سخت ہے اور امیگریشن کیلئے پوائنٹس پر مبنی نظام پر عمل ہوتا ہے ۔ آسٹریلیائی وزیراعظم مالکم ٹرنیل کے مطابق یہ پالیسی غیر امتیازی ہے اور اس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی ہونے والی نہیں ہے ۔دوسری طرف امیگریشن کے وزیر پٹرڈٹسن نے کہا کہ  اس پالیسی کا نسل اور مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ ساتھ ہی حکومت آسٹریلیا کیلئے خطرہ کا باعث بننے والے عناصر کو برداشت نہیں کرتی ۔ سونیا کروگر کو تارکین وطن کے خلاف سرگرم ون نیشن پارٹی کی بانی پالین ہینن کی تائید حاصل ہوئی ہے جن کا حال ہی میں سنیٹ کے لئے انتخاب عمل میں آیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سونیا کروگر آگے بڑھو میں سمجھتی ہوں کہ اس مسئلہ پر بولنے کوئی تو کھڑا ہواہے ۔ بہرحال جہاں تک بطور ماں سونیا کروگر کی تشویش کا سوال ہے کاش وہ ان لاکھوں عراقی ماؤں کے غم کا اندازہ کرسکتی ‘ جن کے بچے امریکہ اور برطانیہ کی جھوٹ کا شکار ہوکر موت کی آغوش میں پہنچ گئے ۔ دراصل امریکہ اور برطانیہ نے عراق میں عام تباہی کے ہتھیاروں کی موجودگی کا بہانہ بناکر اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور ایک خوشحال ملک کو تباہ و برباد کر ڈالا ۔ امریکہ اوراس کی اتحادی فورسیس کے قبضہ کے دوران تین ملین ( 30لاکھ ) عراقی مارے گئے جن میں خواتین اور بچوں کی کثیر تعداد شامل ہے ۔ سونیا کروگر کو اپنے بچوں کی تو فکر ہے لیکن انہوں نے ان معصوم بچوں کو فراموش کردیا جو بناء کسی قصور کے افغانستان ‘ پاکستان کے قبائلی علاقوں اور یمن و سوڈان میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ڈرون حملوں میں مارے گئے ۔ ان معصوم بچوں کی نعشوں کے چیتھڑے اڑ گئے ان کے خون سے زمین سرخ ہوگئی ۔ غم کے مارے ان کی مائیں اپنا ہوش کھو بیٹھیں ۔ شدت غم سے آسمان کا بھی رنگ بدل گیا ۔

اپنے بچوں کی فکر کرنے والی سونیا کروگر نے کبھی ان فلسطینی بچوں کے بارے میں بھی سوچا جو اسرائیل کی جانب سے بار بار کئے جانے والے فضائی حملوں میں شہید ہوئے ہیں ۔ حالیہ عرصہ کے دوران اسرائیل کے فضائی حملوں میں اس قدر کثیر تعداد میں فلسطینی بچوں نے جام شہادت نوش کیا کہ اسپتالوں میں نعشیں محفوظ رکھنے کی جگہ نہیں تھی ۔ ایسے میں ان بچوں کو خوشبو بکھیرنے والے پھولوں کیطرح ریفریجٹرس اور فریزر میں رکھنے پر مجبور ہونا پڑا ۔ بطور ماں دہشت گردی پر تشویش ٹھیک ہے لیکن دہشت گردی کیلئے ایک مخصوص کمیونٹی اور مذہب کے ماننے والوں کو ذمہ دار قرار دینا نسل پرستی اور انسانیت سے نفرت کے سوا کچھ نہیں ‘ کیونکہ جو انسانیت سے محبت کرتے ہیں جن کے دلوں میں انسانوں کی قدر ہوتی ہے ان کا ایقان ہوتا ہیکہ دہشت گردی کا کسی مذہب سے تعلق نہیں ہوتا بلکہ دہشت گرد تو شیطان ہوتے ہیں اور شیطان اولاد ادم کا سب سے بڑا دشمن ہے ۔ سونیا کروگر جیسی تنگ ذہن میڈیا شخصیتوں کو چاہیئے کہ وہ اپنی آنکھوں سے تعصب کی عینک اتار پھینکیں ‘ اپنی سوچ کو نسل پرستی اور امتیازی سلوک کے غبارے صاف کرلیں اگر وہ ایسا کرتی ہیں تو تب ہی ان میں ہر چیز کا غیر جانبدارانہ انداز میںجائزہ لینے کی خوبی پیدا ہوگی ۔ سونیا کروگر کو چاہیئے کہ وہ امریکی صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کی تقلید نہ کریں کیونکہ تقلید ان عظیم شخصیتوں کی ہونی چاہیئے جنہوں نے انسانیت کی خدمت کی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT