Tuesday , January 16 2018
Home / شہر کی خبریں / آصف جاہی حکمرانوں کی جائیدادوں پر لینڈ گرابرس کی نظریں

آصف جاہی حکمرانوں کی جائیدادوں پر لینڈ گرابرس کی نظریں

مکرم جاہ بہادر اور مفخم جاہ کے درمیان تلخیاں منظر عام پر، تعلیمی ٹرسٹ کی جائیدادوں کو تخلیہ کرنے نوٹس کی اجرائی

مکرم جاہ بہادر اور مفخم جاہ کے درمیان تلخیاں منظر عام پر، تعلیمی ٹرسٹ کی جائیدادوں کو تخلیہ کرنے نوٹس کی اجرائی

حیدرآباد 15 مارچ (سیاست نیوز) سلطنت آصفیہ کے خاتمہ اور انضمام حیدرآباد کے بعد سے شہر حیدرآباد و سکندرآباد کے علاوہ ملک کی مختلف ریاستوں میں نظام حیدرآباد کی جائیدادیں جو زرخرید تھیں ان کی تباہی کے عمل کا آغاز ہوا اور آج بھی کئی جائیدادیں جوکہ نظام کی جانب سے دیگر خانوادوں کو بطور عطیہ دی گئیں یا پھر خود آصف جاہی حکمرانوں کی جانب سے چھوڑی گئی جائیدادیں لینڈ گرابرس کو کھٹک رہی ہیں لیکن اس کے برعکس نواب میر برکت علی خان مکرم جاہ بہادر نے دور اندیشی اور فہم کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جائیدادوں کو تعلیمی ٹرسٹ کے تحت محفوظ کرلیا جس کے نتیجہ میں آج شہر کے کئی مرکزی مقامات پر ٹرسٹ کی ملکیت جائیدادیں موجود ہیں اور ان پر بھی اب نگاہ بد پڑنے لگی ہے۔ مکرم جاہ ایجوکیشنل اینڈ لرننگ ٹرسٹ جوکہ پرانی حویلی مسرت محل سے چلایا جاتا ہے اور ٹرسٹ کے مرکزی پراجکٹ میں مکرم جاہ اسکول شامل ہے اس میں گزشتہ یوم تبدیلیوں بلکہ اضافی ٹرسٹیز کے اعلان سے یہ بات واضح ہورہی ہے کہ آصف ثامن نواب میر برکت علی خان مکرم جاہ بہادر نے ٹرسٹ کی باگ ڈور اپنے فرزندوں کو سونپ دی ہے۔ بانی و صدرنشین مکرم جاہ ایجوکیشنل اینڈ لرننگ ٹرسٹ مکرم جاہ بہادر نے اپنے بڑے فرزند والا شان صاحبزادہ میر عظمت علی خان عظمت جاہ کو صدرنشین و ٹرسٹی بنانے کے علاوہ اسریٰ جاہ بہادر کی دختر عظمت جاہ کی حقیقی بہن صاحبزادی شاہکار جاہ اور ہیلن سے تولد ہوئے دوسرے فرزند صاحبزادہ سکندر اعظم خان اعظم جاہ کو ٹرسٹیز کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے ٹرسٹ کی سرگرمیوں کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ ٹرسٹ کی جانب سے جائیدادوں کے حصول کے لئے کی جانے والی قانونی چارہ جوئی کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ مکرم جاہ ٹرسٹ کی سرگرمیوں کو وسعت دینے کے علاوہ مکرم جاہ بہادر کی نسل خود ان سرگرمیوں میں شامل ہونے کوشاں ہے۔ ٹرسٹ کی جانب سے نہ صرف جائیدادوں کے قابضین کو تخلیہ کی نوٹسیں روانہ کی گئی ہیں بلکہ کرایہ اور ٹرسٹ کی آمدنی میں اضافہ کی کوشش بھی کی جارہی ہے۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب شہر کے دیگر مقامات پر موجود جائیدادوں کو بھی حاصل کرنے کے لئے نشاندہی کا عمل جاری ہے۔ پرنسیس عیسن اسکول اور درشہوار چلڈرنس ہاسپٹل کو مکرم جاہ ایجوکیشنل ٹرسٹ کی جانب سے دی گئی تخلیہ کی نوٹس و قانونی چارہ جوئی سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ آصف ثامن نواب میر برکت علی خان مکرم جاہ بہادرا ور نواب میر کرامت علی خان بہادر مفخم جاہ کے درمیان تلخیاں پیدا ہورہی ہیں جس کی وجہ سے مفخم جاہ کی اہلیہ شہزادی عیسن کے نام سے چلائے جانے والے لڑکیوں کے معروف تعلیمی ادارے کو فراہم کردہ ٹرسٹ کی جائیداد واپس حاصل کرنے کیلئے قانونی چارہ جوئی کا آغاز ہوا ہے اور شہزادی درشہوار کے نام سے چلائے جارہے دواخانہ کو بھی خالی کروانے کی کوششیں شروع ہوچکی ہیں۔ جبکہ دواخانہ مکرم جاہ بہادر و مفخم جاہ کی والدہ شہزادی درشہوار کے نام سے چلایا جارہا ہے۔ اسی طرح ٹرسٹ کی جانب سے نظام ٹرسٹ کے دفتر واقع مسرت محل، ایچ ای ایچ نظامس میوزیم کے علاوہ سٹ ون کے دونوں مراکز اور طوربیت المال کے دفتر کے ساتھ قانونی رسہ کشی کا آغاز ہوچکا ہے۔ دونوں برادروں کے درمیان پیدا ہونے والی ان تلخیوں کا فائدہ کسے حاصل ہوگا یہ تو مستقبل کے حالات اور عدالتی فیصلوں پر منحصر کرتا ہے لیکن شہر میں موجود ٹرسٹ کی ان جائیدادوں کے تحفظ کے ذریعہ ملت اسلامیہ کو کافی فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے۔ اگر یہ جائیدادیں بدطینت ٹولیوں کے قبضہ و تصرف میں چلی جاتی ہیں تو ایسے میں ملت کے نونہالوں کے نقصان کا خدشہ ہے۔ اسی لئے مکرم جاہ ٹرسٹ کے ذمہ داروں بالخصوص آصف جاہی خاندان کے ٹرسٹیز کے علاوہ دیگر ٹرسٹیز جناب مرزا راشد علی خان، جناب محمد عبدالباسط سابق ڈی جی پی، لیفٹننٹ جنرل ذکی، مسرز دھاملا ریڈی کے علاوہ سکریٹری جناب میر کمال الدین علی خان کو اس معاملہ میں گہری نظر رکھنی چاہئے تاکہ ملت کے نونہالوں کو کسی بھی قسم کے نقصان سے بچایا جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT