Thursday , December 13 2018

آغاز سے قبل ہی آئی سی ایل کو مشکلات کا سامنا

ممبئی ۔22 اپریل (سیاست ڈاٹ کام)گذشتہ دنوں ریلائنس آئی ایم جی نے جب انڈین سوپر لیگ (آئی ایس ایل) کا اعلان کیا تو ایسے کئی نام سامنے آئے جنھیں انگلش پریمیئر لیگ یا لا لیگا کے میچوں میں صرف ٹی وی پر ہی دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔یہ سوال بھی ابھرا کہ کیا آئی ایس ایل ہندوستانی فٹبال کے شائقین کے سامنے میسی، رونالڈو یا نیمر جیسے ہر ہفتے کروڑ

ممبئی ۔22 اپریل (سیاست ڈاٹ کام)گذشتہ دنوں ریلائنس آئی ایم جی نے جب انڈین سوپر لیگ (آئی ایس ایل) کا اعلان کیا تو ایسے کئی نام سامنے آئے جنھیں انگلش پریمیئر لیگ یا لا لیگا کے میچوں میں صرف ٹی وی پر ہی دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔یہ سوال بھی ابھرا کہ کیا آئی ایس ایل ہندوستانی فٹبال کے شائقین کے سامنے میسی، رونالڈو یا نیمر جیسے ہر ہفتے کروڑوں روپے کی تنخواہ پانے والے بڑے کھلاڑیوں کو اپنے غیر ہموار ناقص میدانوں پر اتار پائے گی؟آئی ایس ایل کے ساتھ معاہدہ کرنے والے ہندوستان کے مڈ فیلڈر گورمانگ سنگھ نے اس ضمن میں کہا کہ ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ کتنے بیرونی کھلاڑی اور کتنے بڑے نام اس لیگ کا حصہ ہوں گے یا لیگ کا مستقبل کیا ہوگا۔ ابھی صرف اندازے ہی لگائے جا رہے ہیں۔ لیکن میں اپنے بارے میں کہہ سکتا ہوں کہ میں ہندوستانی فٹبال میں اس نئی کوشش کے تئیں بہت پر امید ہوں۔لیگ کے متعلق ایک اہم عہدیدار کا دعویٰ ہے کہ دو ماہ طویل اس پیشہ ورانہ ٹورنمنٹ میں آٹھ ٹیمیں ہوں گی اور ہر ٹیم کو دس بیرونیکھلاڑیوں کو شامل کرنے کی اجازت ہوگی۔

فی الحال فرانس کے رابرٹ پیئرز اور سویڈن اور آرسنل کی جانب سے کھیلنے والے فریڈرک لنجبرگ کے نام سامنے آئے ہیں۔ ہر ٹیم میں 22 کھلاڑیوں کو رکھنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ اگر کسی طرح سے آٹھ ٹیمیں 80 غیر ملکی کھلاڑیوں کو کھیلنے کیلئے تیار بھی کر لیتی ہیں تو باقی 96 کھلاڑی کہاں سے آئیں گے۔ہندوستان میں اگر اتنے کھلاڑی ہوتے کہ یہاں سے کھلاڑیوں کو منتخب کیا جا سکتا تو فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا کی درجہ بندی میں اسکا مقام بہتر ہوتا۔ ہندوستان فیفا درجہ بندی میں اس وقت 145 ویں مقام پر ہے۔کرکٹ کی انڈین پریمیئر لیگ کی طرح اس لیگ میں بھی بالی وڈ کے بڑے ناموں اور ارب پتی افراد نے پیسے لگائے ہیں۔ کرکٹرسچن تندولکر اور سابق کپتان سورو گنگولی کولکتہ کے مالکان میں شامل ہیں۔سلمان خان بھی فٹبال کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک ٹیم کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔معروف کرکٹر سچن نے آئی ایس کے بارے میں امید ظاہر کی ہے کہ اس سے اگلی نسل کو فائدہ ہوگا اس کے علاوہ بالی وڈ اداکار رنبیر کپور (ممبئی)، سلمان خان (پونے) اور جان ابراہم (گوہاٹی) نے بھی ٹیمیں حاصل کی ہیں۔ لیکن کیا یہ نام باقی دنیا کو یہ اعتماد دلا سکیں گے کہ یہ یقینا ایک بین الاقوامی سطح کی کوشش ہے۔

شیلانگ کے گورمانگ نے کہا کہ اسے بالکل دوسری طرح سے دیکھتا ہوں۔ ہندوستان میں فٹبال پر پیسہ کون لگائے گا۔ اگر فلم اسٹار یا کرکٹر آگے آئے ہیں تو بڑی بات ہے۔ ہم سب کو ان کوششوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔ اسے یوں سمجھئے کہ آئی ایس ایل کا فائدہ ہندوستانی فٹبال کی اگلی نسل کو ملے گا۔سچن تندولکر نے بھی کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا ہے۔ لیگ کے اعلان کے فورا بعد اپنے بیان میں انھوں نے کہا یہ لیگ ملک کے نوجوان کھلاڑیوں کو سیکھنے، اپنی صلاحیت نکھارنے اور خود کو غیر معمولی طور پر فٹ بنانے میں مددگار ثابت ہو گی۔ یقینا اس سے ملک کے فٹبال کو فائدہ ملے گا۔ایک بڑا سوال یہ ہے کہ آخر یہ لیگ کب کھیلی جائے گ۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ہندوستان کے موسم کو دیکھتے ہوئے ستمبر میں اس کا آغاز ہو سکتا ہے۔ لیکن بڑی دقت تاریخوں کی ہے کیونکہ فیفا ستمبرآکتوبر اور نومبرکے مہینوں میں اپنے رکن ممالک کو دوستانہ میچ کھیلنے کی اجازت دیتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT