Wednesday , January 17 2018
Home / شہر کی خبریں / آندھراپردیش کی خبریں

آندھراپردیش کی خبریں

آندھراپردیش میں مشترکہ خاندانی نظام کو فروغ دینے کا عزم
جاریہ سال کئی ترقیاتی اقدامات ، چیف منسٹر چندرا بابو کا جنم بھومی پروگرام سے خطاب
حیدرآباد ۔ /10 جنوری (سیاست نیوز) چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ ان کی حکومت ریاست آندھراپردیش میں مشترکہ خاندان کے نظام کو فروغ دے گی اور اس کی ہمت افزائی کرے گی ۔ کیونکہ والدین اپنے بچوں کو تعلیم دلوارہے ہیں ۔ لیکن بچے بعد ازاں والدین کا سہارا بننے کے بجائے انہیں چھوڑکر علحدہ رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں جو کہ انتہائی افسوسناک بات ہے ۔ چندرا بابو نائیڈو ضلع چتور کے رام کپم منڈل میں منعقدہ ’جنم بھومی ۔ ماوورو‘‘ پروگرام کے سلسلہ میں گرام سبھا میں شرکت کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مشترکہ خاندانوں کی وجہ سے آدمیوں کے درمیان تعلقات خلوص و محبت کا فروغ ہوگا ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ریاست میں جاری جنم بھومی پروگرام کے آخری دن /11 جنوری کو ریاست بھر میں دو لاکھ افراد کو روزگار فراہمی کیلئے بینکوں کے ذریعہ قرضہ جات ، سبسیڈیز اور عصری کام کے اوزار فراہم کئے جائیں گے ۔ علاوہ ازیں 19 لاکھ غریب خاندانوں کو 50 ہزار کروڑ روپئے کے مصارف سے مکانات تعمیر کرکے فراہم کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ سوچھ آندھراپردیش کے تحت ماہ مارچ کے اختتام تک آندھراپردیش کو برسرعام کھلے مقام پر رفع حاجت کرنے سے پاک ریاست ہونے کا اعلان کیا جائے گا ۔ اس سلسلہ میں اب تک ہی ریاست کے چھ اضلاع سوچھ اضلاع کے طور پر اعلان کردیئے گئے جبکہ ضلع چتور کے ساتھ مابقی 7 اضلاع کسی حد تک سوچھ اضلاع کے معاملہ میں پیچھے ہیں ۔ غریب عوام کیلئے حکومت مختلف فلاح و بہبودی پروگراموں کو روبہ عمل لارہی ہے ۔ عوام کو کرپشن سے پاک اور بہتر حکمرانی کیلئے (1100) ٹول فری نمبر کو متعارف کیا گیا ۔ اس کے ذریعہ حاصل ہونے والی شکایات کی یکسوئی کیلئے عہدیداراوں کو سخت ہدایات دی جارہی ہیں ۔ مسٹر چندرا بابو نائیڈو نے اس موقعہ پر فائیبر نیٹ ٹکنالوجی کا استعمال کرکے گرام سبھا کے مقام سے سری کالاہستی ، رام کپم گورنمنٹ ویلفیر اسکولس میں زیرتعلیم طلباء سومیا اور ونود کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ بات کی ۔ دوپہر 2 بجے تا شام ساڑھے پانچ بجے تک گرام سبھا کا انعقاد عمل میں لایا گیا ۔ بعدازاں مختلف محکمہ جات کے قائم کردہ اسٹالس کا چیف منسٹر نے مشاہدہ کیا اور تاخیر ہونے کی وجہ سے ہیلی کاپٹر سے روانگی کے پروگرام کو منسوخ کرکے بذریعہ کار رات ساڑھے آٹھ بجے مسٹر چندرا بابو نائیڈو کپم پہونچے اور وہیں پر گیسٹ ہاؤز میں شب بسری کی ۔ان کے ہمراہ وزراء کے اچن نائیڈو ، این لوکیش ، امرناتھ ریڈی ، رکن پارلیمان چتور ، شیوا پرساد ، صدرنشین ضلع پریشد چتور گروانی و دیگر قائدین تلگودیشم پارٹی دیگر بھی موجود تھے ۔

جگن موہن ریڈی کی سنکلپ یاترا کے 800 کیلو میٹر مکمل
آندھراپردیش ریاست کی عوام کے مسائل سے آگہی
حیدرآباد ۔ /10 جنوری (سیاست نیوز) صدر وائی ایس آر کانگریس پارٹی و قائد اپوزیشن آندھراپردیش قانون ساز اسمبلی مسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی کی پرجاسنکلپ یاترا ، ’’پدیاترا‘‘ آج (800) کیلو میٹر کا فاصلہ مکمل کیا ۔ ضلع چتور گنگا دھرا نیلور کے نلاوینگنا پلی کے قریب جگن نے یاترا کے (800) کیلو میٹر مکمل کرلئے ۔ اس موقعہ پر جگن موہن ریڈی نے موضع میں پودا لگایا اور عوام کے ساتھ رہنے اور انہیں مسائل کا بھروسہ دلانے کیلئے مسٹر وائی ایس /6 نومبر کو ايڈوپولا پاپا کے مقام سے پدیاترا کا آغاز کیا تھا اور ہر ایک سو کیلو میٹر پر ایک پودا لگاکر اپنی پدیاترا کے ذریعہ آگے بڑھ رہے ہیں ۔ انہوں نے ایک سو کیلو میٹر کا فاصلہ ضلع کرنول کے آلاگڈہ اسمبلی حلقہ میں مکمل کیا تھا اور (200) کیلو میٹر کا فاصلہ حلقہ اسمبلی دھون میں مکمل کرتے ہوئے (300) کیلو میٹر کا فاصلہ ضلع کرنول کے حلقہ اسمبلی یمگنور کے موضع اگراہرم کے پاس مکمل کیا تھا ۔ اس کے علاوہ (29) ویں دن اپنی پدیاترا کے ذریعہ (400) کیلو میٹر کا فاصلہ مکمل کیا ۔ اسی طرح جگن نے ضلع اننت پور کے دھرما ورم منڈل کے موضع اوٹلورو کے پاس اپنی پدیاترا کے (500) کیلو میٹر اور گزشتہ ماہ /24 ڈسمبر کو ضلع اننت پور میں اوٹلورو کے مقام پر (600) کیلو میٹر کا فاصلہ مکمل کیا ۔ علاوہ ازیں مسٹر جگن موہن ریڈی نے ضلع چتور میں جمی واری پلی کے پاس (700) کیلو میٹر کا فاصلہ مکمل کیا تھا ۔

آندھراپردیش میں اندرون ساڑھے تین سال 927 صنعتی اداروں کا قیام
7.77 لاکھ افراد کو ملازمتیں ، مزید کمپنیوں کا عنقریب قیام ، چندرا بابو نائیڈو
حیدرآباد ۔ /10 جنوری (سیاست نیوز) چیف منسٹر آندھراپردیش مسٹر این چندرابابو نائیڈو نے اعلان کیا کہ ساڑھے تین سالہ ریاست میں اب تک 927صنعتی اداروں کو لاکر 7.77 لاکھ بے روزگار افراد کو ملازمتیں فراہم کی گئیں ۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ نوجوانوں کو روزگار فراہمی کیلئے حکومت موثر اقدامات کررہی ہے ۔ ضلع چتور کے وردیاپالم منڈل چناپانڈور مقام پر ’’اپولو ٹائیر کمپنی کا چیف منسٹر نے سنگ بنیاد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا اور کہا کہ ریاست میں ایک پارٹی ہے (نام کااظہار کرنا میں مناسب نہیں سمجھتا ہوں ) ۔ ریاست میں ملازمتیں کہاں حاصل ہورہی ہیں کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنارہی ہے ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آنکھ کھول کر دیکھنے پر انہیں کچھ دکھائی دے گا ۔ چیف منسٹر نے بالواسطہ وائی ایس آر کانگریس پارٹی کو ہی ہدف ملامت بنایا اور کہا کہ مناسب اندازمیں ریاست کی تقسیم نہ ہونے کا اظہار کرکے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے سے مسئلہ کا حل ہرگز نہ ہونے کا تصور کرتے ہوئے ہی ریاست میں صنعتی ترقی کو یقینی بنانے کیلئے حکومت کمربستہ ہوتی ہے ۔ کیونکہ دنیا بھر میں کوئی بھی ملک صنعتوں کے قیام سے ہی ترقی حاصل کرسکا ۔ مستقل اساس پر غربت کا انسداد صنعتی ترقی کے ذریعہ ہی ممکن ہوسکے گا ۔ جس کے پیش نظر ہی آندھراپردیش میں بڑے پیمانے پر صنعتوں کے قیام کی بھرپور ہمت افزائی کی جارہی ہے ۔ 927 صنعتوں کے قیام کیلئے جملہ (3.67) لاکھ کروڑ روپیوں کی سرمایہ کاری کی گئی اور اب تک ہی اپنی اشیاء کی تیاری (پیداوار شروع کی ہوتی) کرنے والی صنعتوں کے ذریعہ (7.77.492) بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کے مواقع حاصل ہوئے ۔ علاوہ ازیں مزید 524 صنعتی یونٹس اراضی وغیرہ کی فراہمی کے مراحل میں ہیں ۔ ان نئی صنعتوں کے ذریعہ 3.04 کروڑ کی سرمایہ کاری حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ مزید (1,00,500) بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کے مواقع حاصل ہوں گے اور اس طرح گزشتہ ساڑھے تین سال میں (6.81) کروڑ کی سرمایہ کاری کے ذریعہ 20.60 لاکھ افراد کو ملازمتوں کے مواقع فراہم کئے جائیں گے ۔ ملک میں آٹو موبائیل گروتھ ریٹ میں اضافہ ہورہا ہے ۔ اور سالانہ 20 فیصد ترقی کی شرح درج ہورہی ہے ۔ جبکہ ریاست میں اب تک ہی ’’اسوزو موٹرس ، کیا موٹرس (KEA) اشوک لی لینڈ ، ہیرو موٹرس کی کمپنیاں قائم کی جاچکی ہیں اور اب اپولو ٹائیر کمپنی کا قیام خوشی کی بات ہے ۔ آٹو موبائیل شعبہ میں آئندہ ضروریات کے مطابق نشاندہی کرتے ہوئے الیکٹرک گاڑیاں تیار کرنے والی صنعتوں کی ہمت افزائی کی جارہی ہے ۔ چیف منسٹر نے اس موقعہ پر ٹیکسٹائیل شعبہ کی ترقی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ بہت جلد حکومت ٹیکسٹائیل شعبہ کی ترقی کیلئے نئی پالیسی مرتب کرکے اعلان کرے گی ۔ مسٹر اومکار کنور صدرنشین اپولو ٹائیرس کمپنی نے چیف منسٹر کو اس بات کا تیقن دیا کہ دو سال میں پہلے مرحلہ کو مکمل کرکے ٹائیرس وغیرہ کی تیاری کا آغاز کردیا جائے گا ۔

TOPPOPULARRECENT