Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / آندھراپردیش کے گوداوری ضلع میں 46 گائے فوت

آندھراپردیش کے گوداوری ضلع میں 46 گائے فوت

فاقہ کشی، جگہ کی تنگی اور نمونیا کا شکار، ذبیحہ اور منتقلی کی مخالفت کرنے والوں کیلئے سبق

حیدرآباد۔23جولائی (سیاست نیوز) گائے کے تحفظ اور اسے بچانے کے نام پر جاری انسان کی ہلاکتوں کے سلسلہ کے دوران پڑوسی ریاست آندھرا پردیش کے ضلع مشرقی گوداوری میںفاقہ اور جگہ کی تنگی کے علاوہ نمونیا کے سبب 46گائے فوت ہو چکی ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق گاؤشالہ میں جہاں گائے رکھی جا رہی تھیں وہاں جگہ کی تنگی اور بھوک کے سبب ہونے والی اموات کے لئے غفلت اور نظر انداز کرنے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے یہ کہا جا رہا ہے کہ 150گائے رکھنے کی جگہ میں 480گائے رکھی جانے کے سبب یہ واقعہ رونما ہوا ہے۔ ملک بھر میں گاؤ رکھشا کے نام پر جاری قتل اور مار پیٹ کے واقعات کے دوران گاؤ شالہ میں 46گائے کی بھوک کے سبب موت اور انہیں رکھنے کی جگہ میسر نہ ہونے کا شکوہ کیا جانے لگا ہے۔ گاؤ کشی پر مکمل امتناع اور بڑے جانور کے ذبیحہ اور منتقلی پر ہنگامہ برپا کرنے والوں کو چاہئے کہ وہ اس واقعہ سے سبق حاصل کریں۔ جوائنٹ ڈائریکٹر افزائش موئیشیاں آندھرا پردیش مسٹروی وینکٹیشورا راؤ نے اس بات کی تصدیق کی کہ مشرقی گوداوری میں 46گائے کے فوت ہونے کا واقعہ پیش آیا ہے اور اس واقعہ کی تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ گاؤ شالہ میں ہونے والی ان اموات کیلئے بھوک اور نمونیا کے علاوہ جگہ کی تنگی وجہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ جس قدر جگہ میسر ہے اس میں اس سے کافی زیادہ جانور رکھے گئے ہیں اور گاؤ شالہ میں صفائی کا مناسب انتظام نہ ہونے کے سبب یہ اموات واقع ہوئی ہیں۔ 46گائے کی بھوک کے سبب ہونے والی اموات پر اب عوام میں یہ سوال پیدا ہونے لگا ہے کہ اب گاؤ رکھشک اس کیلئے کسے ذمہ دار تصور کریں گے؟ مسلمانوں پر گائے کو ذبح کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے نشانہ بنانے والے ملک کی تیزی سے ترقی کرنے والی ریاست آندھرا پردیش میں گائے کو چارہ فراہم کرنے سے قاصر ہیں وہ کیا پسماندہ ریاستوں میں گائے کو چارہ فراہم کرنے کے متحمل ہیں؟گاؤ کشی پر مکمل امتناع کی بات کرنے والے بھی اب اس مسئلہ پر غور کرنے لگے ہیں لیکن اس کے باوجود گائے کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کے سلسلہ میں عملی اقدامات کے بجائے نفرت کے ماحول کو بڑھاوادیا جا رہاہے جبکہ ملک کی کئی ریاستوں میں گائے اسی طرح بھوک اور مختلف بیماریوں کا شکار ہوتے ہوئے فوت ہونے لگی ہے لیکن ان کے متعلق کوئی غور نہیں کیا جارہا ہے بلکہ کسان واضح کرچکے ہیں کہ وہ گائے کو چارہ دینے کے موقف میں نہیںہیں ۔

TOPPOPULARRECENT