Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / آٹھ مسلم ممالک کے مسافرین پر ٹرمپ کی نئی پابندیاں

آٹھ مسلم ممالک کے مسافرین پر ٹرمپ کی نئی پابندیاں

۔10 ایرپورٹس سے سفر کے دوران کیمرے ، لیاب ٹاپس اور دیگر الیکٹرانک آلات ساتھ رکھنے پر ممانعت

واشنگٹن 21 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے انتظامیہ نے دہشت گردی کے خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے آج ایک نیا حکمنامہ جاری کیا ہے جس کے تحت آٹھ مسلم اکثریتی ملکوں کے 10 ایرپورٹس سے امریکہ آنے والے مسافرین کیبن لگیج کے طور پر ہوائی جہاز میں سفر کے دوران کیمرے اور لیاپ ٹاپ جیسے بڑے الیکٹرانک آلات اپنے ساتھ نہیں رکھ سکیں گے۔ امریکی عہدیداروں نے کہا ہے کہ انتہائی سخت سکیورٹی تحدیدات کے مطابق سکیورٹی چیک یا بورڈنگ کلیرنس سے قبل اسمارٹ فونس سے بڑے کوئی بھی الیکٹرانک آلات جیسے آئی پیڈس اور لیاپ ٹاپس سپرد کردینا ہوگا۔ یہ جدید امتناع بڑے عالمی طیرانگاہوں جیسے دبئی اور استنبول کے علاوہ 10 ایرپورٹس پر لاگو ہوگا۔ اس امتناع میں حسب ذیل 10 بڑے ایرپورٹس شامل کئے گئے ہیں۔ قاہرہ (مصر) ، دبئی اور ابوظہبی (متحدہ عرب امارات)، استنبول (ترکی)، دوحہ (قطر)، عمان (اردن)، کویت سٹی (کویت)، کاسابلانکا (مراقش) اور جدہ و ریاض (سعودی عرب)۔ آٹھ مسلم ممالک کے 9 ایرلائنس پر اس نئی پابندی کا اطلاق ہوگا۔ ان میں ایجپٹ ایر، امارات ایرلائنس، اتحاد ایرویز، کویت ایرویز، قطر ایرویز، رائل ایر مراکو، رائل جار ڈینئن ایرلائنس، سعودی عربین ایرلائنس اور ترکش ایرلائنس شامل ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے امتناع سے متاثرہ ان (9) ایرلائنس اداروں کو اندرون 96 گھنٹے اس فیصلہ پر عمل آوری کا آغاز کرنا ہوگا۔ امریکی انتظامیہ کے سینئر عہدیداروں نے کہا ہے کہ وہ انٹلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر یہ قواعد وضع کئے گئے ہیں کہ دہشت گرد، قابل منتقلی الیکٹرانک آلات کے ذریعہ دھماکہ خیز مواد منتقل کرسکتے ہیں

اور اس سے تجارتی ہوا بازی کو بدستور نشانہ بناسکتے ہیں۔واشنگٹن پوسٹ نے ایک عہدیدار کے حوالہ سے کہاکہ ’’انٹلی جنس کی ان معتبر خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ہوم لینڈ سکیورٹی سکریٹری جان کیلی اور ٹرانسپورٹ سکیورٹی انتظامیہ کے کارگذار منتظم ہوبان گواڈیا نے بعض ممالک کے ایرپورٹس سے امریکہ کے لئے پرواز کرنے والے طیاروں کے ضمن میں یہ پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘‘۔ اس عہدیدار نے کہاکہ اس فیصلہ کا امریکی طیاروں پر کوئی اثر نہیں ہوگا کیوں کہ ان 10 طیرانگاہوں سے امریکہ کا کوئی بھی طیارہ پرواز نہیں کرتا۔

 

ٹرمپ کی مقبولیت اور کارکردگی
کا تناسب صرف 37% : پول
واشنگٹن ۔ 21 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو امریکیوں کی کثیر تعداد اپنا منتخبہ صدر ماننے کو تیار نہیں جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہیکہ ان کے خلاف مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور اس طرح ان کی مقبولیت کی شرح میں مزید 37 فیصد کی گراوٹ آئی جو گذشتہ 70 سال میں کسی بھی امریکی صدر کا اقل ترین تناسب ہے۔ گیلپ نامی ادارہ کے سروے اور پول کے بعد یہ بات سامنے آئی ہیکہ صدر ٹرمپ کی مقبولیت اور کارکردگی 3 فیصد انحطاط پذیر ہوکر اب 37 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اب یہ بات ظاہر ہوجاتی ہیکہ امریکی صدر کی کارکردگی سے امریکی شہری مطمئن نہیں ہیں۔ 2011ء میں ڈونالڈ ٹرمپ نے اس وقت کے صدر بارک اوباما کی کارکردگی کے 39 فیصد تناسب کا مضحکہ اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ آخر اوباما کی کارکردگی اور مقبولیت کا تناسب اتنا کم یعنی 39 فیصد کیوں ہے اور اب یہ حال ہیکہ خود کی ان کی کارکردگی 37 فیصد تک انحطاط پذیر ہوچکی ہے۔ اسی لئے ٹرمپ کو بڑبولا کہا جاتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT