Thursday , June 21 2018
Home / مذہبی صفحہ / آپریشن کے ذریعہ علاج

آپریشن کے ذریعہ علاج

سوال : کیافرماتے ہیںعلماء دین اس مسئلہ میںکہ زیدمرضِ فتق کامریض ہے،اس کاآپریشن کے ذریعہ علاج کرواناچاہتاہے۔خدانخواستہ دورانِ علاج موت واقع ہوجائے تویہ خودکشی تونہیںکہلائی گی اوروہ دوزخ میںتونہ جائیگا؟ایسی صورت میںشرعاکیاحکم ہے۔
جواب : زیدکے معا لجین کامشورہ یہ ہوکہ وہ ذریعہ آپریشن علاج کروالے تواس مرض سے نجات پالیگا یایہ آپریشن ایساہے کہ معا لجینیہ نہیںکہ سکتے کہ اس میں کامیابی ہوگی یاناکامی توان دونوںصورتوںمیںزیدکوآپریشن کے ذریعہ علاج کروانے کی اجازت ہے۔ایسی حالت میںاگروہ خدانخواستہ مرجائے توکوئی گناہ نہ ہوگا۔ اور اگر معالجین کا خیال یہ ہوکہ آپریشن کے بعدزیدفوت ہوجائیگاتوزیدکوچاہئے کہ آپریشن نہ کروائے۔ عالمگیری جلد۵صفحہ۳۶۰ کتاب الکراھیۃ میں ہے: وفی الکیسانیات فی الجراحات المخوفۃ والقروح العظیمۃ والحصاۃالواقعۃ فی المثانۃ ونحوھاان قیل قدینجو وقدیموت أوینجو ولایموت یعالج وان قیل لاینجوأصلالایداوی بل یترک کذافی الظہیریۃ۔
قبرستان میںآلاتِ دفن کے لئے کمرہ بنانا
سوال : کیافرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میںکہ بھارت نگربورابنڈہ میںایک قبرستان ہے جس میں ایک بہت بڑی چٹان ہے جس میں قبور نہیں کھودسکتے۔ حکومت کی جانب سے قبرستان کیلئے نگران کاراورسامان رکھنے کیلئے کمرہ بنانے کی منظوری ملی ہے۔ ایسی صورت میںقبرستان کی اس چٹان پرایسے کمرہ کی تعمیردرست ہے یانہیں؟
جواب :قبرستان کی اراضی تدفین اموات کیلئے وقف رہتی ہے ۔آج کے دورمیںچٹان کوصاف کرکے زمین کوقابل تدفین بناناممکن ہے۔ تاہم قبرستان کی زمین میںآلات ِدفن اورنگران کارکیلئے کمرے کی تعمیراس شرط کے ساتھ جائزہے کہ تدفین کی جگہ تنگ ہوجائے توعمارت منہدم کرکے تدفین کی جائے۔ الاسعاف فی احکام الاوقافصفحہ۶۶ میںہے: لواتخذأھل قریۃ أرضالھم مقبرۃوقبروافیھاثم بنی فیھاواحد منھم بیتا لوضع اللبن وآلۃ الدفن وأجلس فیہ من یحفظ الامتعۃ بغیررضاأھل القریۃ أوبرضابعضھم فقط لابأس بہ ان کان فی المقبرۃ سعۃ بحیث لایحتاج الی ذلک المکان ولواحتاجوا الیہ یرفع البناء لیدفن فیہ۔ لہذاحسب صراحت حکم بالابھارت نگربورابنڈہ کے قبرستان میںموجودچٹان پرسوال میںمذکورغرض سے کمرے کی تعمیرکی جاسکتی ہے۔
فنِ خطاطی قابلِ قراء ت ہو
سوال : کیافرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کہ زید کوفن خوشنویسی ،خوردنویسی اورمنظرکشی کا شوق ہے، چنانچہ وہ چاول ،رائی ،اورخشخاش کے دانوںنیزمختلف جانوروںکے بال پرمختلف عبارتوںکوتحریر کرنے میںبڑی حدتک کامیابی حاصل کرلی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ گائے ،بیل ،بکری،گھوڑا،بلی ، خرگوش،ریچھ،چیتا،شیروغیرہ کے بال یاانکی مونچھ داڑھی یاپلک کے بال پرتکبیرتحریمہ ،کلمہ طیبہ یاآیات قرآنیہ لکھناجائز ودرست ہے یانہیں۔؟بینواتوجر وا
جواب : صورت مسئول عنہامیں مذکورہ جانورکے بال پاک ہیںلہذاان پرکتابت آیات قرآنیہ کلمہ طیبہ میںشرعااگرچہ کوئی گناہ نہیںتاہم یہ صرف خطاطی کاکمال ہوگااس سے عوام کوکوئی فائدہ نہیں۔ قرآن کریم کوواضح قابل قراء ت اورخوشخط لکھناچاہئے ۔ عالمگیری جلد۵صفحہ۳۲۳ میں ہے: وینبغی لمن أرادکتابۃالقرآن أن یکتبہ بأحسن خط وأبینہ ۔ فقط واﷲ تعالیٰ اعلم بالصواب ۔

TOPPOPULARRECENT