Thursday , November 15 2018
Home / Top Stories / اٹل بہاری واجپائی کی مکمل سرکاری اعزازات کیساتھ سمرتی استھل پر آخری رسومات

اٹل بہاری واجپائی کی مکمل سرکاری اعزازات کیساتھ سمرتی استھل پر آخری رسومات

جمنا کنارے ڈھلتی شام، متبنیٰ بیٹی نے چتا کو آگ دکھائی اور ایک اہم عہد غروب ہوگیا، جلوس میں ہزاروں افراد شریک

نئی دہلی ۔ 17 اگست (سیاست ڈاٹ کام) سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی آج یہاں راشٹریہ سمرتی استھل پر مکمل سرکاری اعزازات کے ساتھ بصدعقیدت و احترام آخری رسومات انجام دی گئیں۔ ان کی متبنیٰ دختر نمیتا کول بھٹاچاریہ نے اپنے آنجہانی پتا کی چتا کو آگ دکھائی۔ اس وقت سارا علاقہ ’’اٹل بہاری امر رہے‘‘ کے نعروں سے گونج رہا تھا۔ قبل ازیں یہاں انتہائی جذباتی مناظر دیکھے گئے۔ فوج نے آخری سلامی کا بگل بجایا۔ وردی پوش سپاہیوں نے سلامی دی جس کے ساتھ ہی مداحوں کے ہجوم پر غمناک خاموشی طاری ہوگئی اور دہلی کی ڈھلتی شام میں محبوب آنجہانی قائد کے جسدخاکی کو شعلوں کے سپرد کردیا گیا جس کے ساتھ ہی ایک ایسے شاعر اور سیاستداں کی زندگی کا سورج بھی غروب ہوگیا جس نے صلہ رحمی، رواداری اور اتفاق رائے کی سیاست کو فروغ دیا تھا۔ صدر رام ناتھ کووند، وزیراعظم نریندر مودی، کانگریس کے صدر راہول گاندھی، سابق وزیراعظم منموہن سنگھ اور دیگر کئی اہم قائدین بھی دریائے جمنا کے کنارہ بزرگ بی جے پی رہنما اٹل کی آخری آرام گاہ سمرتی استھل پر پہنچ کر خراج عقیدت ادا کیا۔ بھوٹان کے شاہ، بنگلہ دیش کے وزیرخارجہ ابوالحسن محمود، پاکستان کے وزیرقانون سید علی ظفر، افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی اور دیگر کئی اہم بیرونی شخصیات بھی سمرتی استھل پر موجود تھے۔ مکمل سرکاری اعزازات کے ساتھ سابق وزیراعظم واجپائی کی آخری رسومات انجام دی گئیں۔ اس موقع پر ہزاروں افراد موجود تھے۔ آنجہانی اٹل بہاری کے ارتھی کے جلوس میں انسانی سروں کا سمندر دیکھا گیا۔ خوبصورتی کے ساتھ سجی سجائی فوجی گاڑی میں اٹل جی کا جسد خاکی رکھا گیا تھا اور وزیراعظم نریندر مودی اس کے ساتھ آہستگی سے پیدل چلتے رہے۔

ان کے پیچھے بی جے پی کے صدر امیت شاہ، بشمول راجناتھ سنگھ، سشماسوراج، متعدد وزراء بشمول وجئے روپانی، شبوراج چوہان، یوگی آدتیہ ناتھ اور دیویندر فڈنویس متعدد چیف منسٹرس بھی مجسمہ غم بنے جلوس کے ساتھ راشٹرا سمرتی استھل کی سمت چل رہے تھے۔ 93 سالہ واجپائی کا طویل علالت کے بعد گذشتہ روز دہلی کے آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسیس میں انتقال ہوگیا تھا۔ دہلی میں آج غیریقینی موسم کے باوجود ہزاروں افراد ارتھی کے جلوس کے ساتھ سات کیلو میٹر تک چلتے رہے۔ راستہ میں کئی مقامات پر آنجہانی قائد کی ارتھی لے جانے والی گاڑی پر مداحوں کی طرف سے پھول کی پنکھڑیاں برسائی گئیں۔ محبوب قائد کے آخری دیدار کیلئے اس حد تک بڑا ہجوم امڈ آیا تھا کہ ہزاروں افراد کی دھکم پیل کے سبب بریکیڈس ٹوٹ گئے اور کئی افراد ایک دوسرے کو ڈھکیلتے ہوئے آگے بڑھتے ہوئے دیکھے گئے۔ سجی سجائی توپ بردار فوجی گاڑی نے دین دیال اپادھیائے مارگ پر واقع بی جے پی ہیڈکوارٹرس سے دوپہر 2 بجے سفر کا آغاز کیا تھا۔ واجپائی کی نعش کل رات ایمس سے کرشنامینن مارگ پر انکی رہائش گاہ منتقل کی گئی تھی۔ کانگریس صدر راہول گاندھی، آندھراپردیش کے چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو، قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوول، فوج کے سربراہ بپن راوت، بحریہ کے سربراہ سنیل لامبا، آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت، سابق وزیراعظم واجپائی کو آج صبح ان کی سرکاری رہائش گاہ پہنچ کر خراج عقیدت ادا کیا تھا۔

واجپائی کی استھیاں یو پی کی دریاوں میں بہائی جائیں گی
لکھنو 17 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) سابق وزیراعظم آنجہانی اٹل بہاری واجپائی کی استھیاں اترپردیش کے تمام اضلاع کی دریاوں میں بہائی جائیں گی ۔ ریاستی حکومت نے یہ بات بتائی ۔ حکومت اترپردیش نے 75 اضلاع کی فہرست تیار کی ہے جہاں چھوٹی اور بڑی تمام دریاٰں میں بی جے پی کے آنجہانی لیڈر کی استھیاں بہائی جائیں گی ۔ ان کی آخری رسومات آج دہلی میں ادا کی گئیں۔ چیف منسٹر یو پی آدتیہ ناتھ نے اعلان کیا کہ چونکہ واجپائی سیاسی اعتبار سے یو پی میں زیادہ سرگرم رہے تھے اس لئے اس ریاست کے عوام کو ان کے آخری سفر میں شریک ہونے کا موقع دیا جائیگا ۔ اٹل بہاری واجپائی لکھنو سے لوک سبھا کیلئے پانچ مسلسل معیادوں کیلئے بھی منتخب ہوئے تھے ۔

TOPPOPULARRECENT