Saturday , September 22 2018
Home / سیاسیات / اپریل سے راجیہ سبھا میں کانگریس کی اکثریت ختم ، بی جے پی بڑی پارٹی

اپریل سے راجیہ سبھا میں کانگریس کی اکثریت ختم ، بی جے پی بڑی پارٹی

آئندہ دو ماہ بعد بی جے پی کے 23، کانگریس کے 8 اور دیگر جماعتوں کے 21 ارکان کا راجیہ سبھا میں داخلہ کا امکان

نئی دہلی۔ 15 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) راجیہ سبھا میں ماہ اپریل میں 55 ارکان کی مدت ختم ہونے جارہی ہے اور اگر متعلقہ ریاستوں کی موجودہ اسمبلی کی تصویر اور ممبران پارلیمنٹ پر نظر ڈالی جائے تو ان کی جگہ منتخب ہوکر آنے والے اراکین میں بی جے پی کو 6 نشستوں کا فائدہ ہوسکتا ہے اور کانگریس کو 4 نشستوں کا نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ اپریل میں بی جے پی کے 23، کانگریس کے 8 اور دیگر جماعتوں کے 21 رکن جیت کر آسکتے ہیں۔ ایوان بالا کی اصل تصویر ماہ اپریل میں بدلے گی جب کل 55 اراکین کی مدت پوری ہوگی۔ اپریل میں جن کی مدت مکمل ہوگی۔ ان میں مرکزی وزیر ارون جیٹلی، جے پی نڈا، روی شنکر، پرساد، پرکاش جاؤڈیکر، کانگریس لیڈر پرمود تیواری، راجیو شکلا، رینوکا چودھری اور نامزد رکن ریکھا اور سچن تنڈولکر شامل ہیں۔ اگر اعلیٰ ایوان میں موجودہ تعداد پر نظر ڈالی جائے تو بی جے پی کے 57 اور کانگریس کے 57 اراکان ہیں۔ اپریل میں موجودہ 55 اراکین کی جگہ نئے یا دوبارہ منتخب اراکین کی آمد کے بعد بی جے پی ارکان کی تعداد 64 اور کانگریس کی53 ہوسکتی ہے۔ اترپردیش اسمبلی کی موجودہ صورتحال کے مطابق راجیہ سبھا کی اس ریاست سے خالی ہورہی 9 سیٹوں میں سے 7 بی جے پی کو مل سکتی ہیں۔ جبکہ 2 اپوزیشن جماعتوں کے پاس جاسکتی ہیں۔ ہریانہ کی خالی ہورہی ایک نشست بی جے پی کے پاس رہ سکتی ہے۔ مدھیہ پردیش کے 5 خالی ہونے والی نشستوں میں سے بی جے پی کو 4 اور کانگریس کو مل سکتی ہے۔ آندھرا پردیش کے 3 میں سے 2 ٹی ڈی پی کو اور ایک دیگر کو مل سکتی ہے۔ مہاراشٹرا کی 6 نشستوں میں سے کم از کم 2 بی جے پی، ایک شیوسینا اور ایک کانگریس اور ایک این سی پی کے پاس جاسکتی ہے۔ ریاست کی چھٹی نشست کے لئے سخت مقابلہ ہوگا۔ کرناٹک کی 4 میں سے 3 نشست کانگریس اور دیگر اور ایک بی جے پی کے پاس جاسکتی ہے۔ مغربی بنگال سے خالی ہورہی راجیہ سبھا کی 4 چار نشستوں میں سے 3 ترنمول کانگریس اور ایک سی پی ایم کے پاس جانے امکان ہے۔ گجرات میں 4 میں سے 2 بی جے پی اور 2 کانگریس کے پاس جاسکتی ہے۔ اسی طرح چھتیس گڑھ کی واحد سیٹ بی جے پی کی جھولی میں جانے کا امکان ہے۔ بہار کی 5 میں سے 3 نشستیں جے ڈی یو اور بی جے پی اور 2 آر جے ڈی اور کانگریس کو مل سکتی ہے۔ اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش کی ایک ایک نشست بی جے پی کی جھولی میں جاسکتی ہے۔ تلنگانہ کی دو میں سے ٹی آر ایس کے پاس ایک اور کانگریس کے پاس ایک جاسکتی ہے۔ راجستھان میں تینوں بی جے پی کی جھولی میں جاسکتی ہے۔ اڈیشہ میں 3 میں سے 2 آزاد اور ایک دیگر کے پاس جاسکتی ہے۔ اپریل کے مہینے میں بی جے پی کے 17، کانگریس کے 12، ایس پی کے 6، بی ایس پی، شیوسینا، سی پی ایم کے ایک ایک، جے ڈی (یو) ، ترنمول کانگریس کے 3-3، ٹی ڈی پی، این سی پی، بیجو جنتا دل کے 2-2، آزاد 2 اور نامزد 3 رکن کی مدت مکمل ہونے جارہی ہے۔ مئی 2014ء میں مرکز میں آئی وزیراعظم نریندر مودی حکومت کی اگرچہ لوک سبھا میں واضح اکثریت ہو، لیکن راجیہ بھا حکمراں بی جے پی کے پاس ابھی تک نہ تو اکثریت تھی، اور نہ ہی وہ سب سے بڑی پارٹی تھی۔ اکثریت کی غیرموجودگی میں حکومت کو ایوان بالا میں کئی اہم بل کو منظور کروانے میں مشکل پیش آتی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ایوان بالا ایک مستقل ایوان ہے جس میں ہر دو سال کے اندر دوتہائی ارکان کی مدت مکمل ہوجاتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT