Wednesday , September 19 2018
Home / شہر کی خبریں / اپنا گھر چھوڑ کر لنکا کی فکر میں قیادت مصروف

اپنا گھر چھوڑ کر لنکا کی فکر میں قیادت مصروف

12% تحفظات کے وقت جماعت خاموش ، 2800 نوکریوں کے نقصان کا اندیشہ
’’حیدرآباد /24 نومبر ( سیاست نیوز )ایسا لگتا ہے ہماری ریاست تلنگانہ میں اس محاورے پر بڑی کامیابی سے عمل ہو رہا ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ حکمران جماعت اور مقامی جماعت ایک دوسرے کی تعریفوں کے پل باندھنے میں ماضی کے تمام ریکارڈس توڑچکے ہیں ۔ مقامی جماعت کے صدر حیدرآباد میں بیٹھے یہ چیخ رہے ہیں گجرات کے مسلمانوں سے کانگریس نے تحفظات دینے کا وعدہ کیوں نہیں کر رہی ہے ۔ جبکہ پٹیل طبقہ کو تحفظات فراہم کرنے کا بھرپور یقین دلایا جارہا ہے ۔ ایک قائد کیلئے مسلمانوں کے تعلق سے اس کے دن میں ایسی تڑپ ہونا بہت ضروری ہے ۔ لیکن یہ تڑپ حقیقی ہے یا بناوٹی اس کا اندازہ خود اپنی ریاست میں مسلمانوں کے حالت زار سے لگایا جاسکتا ہے ۔ گجرات کے مسلمانوں کے تحفظات فراہم کرنے کا مطالبہ کرنے والی قیادت سے اب یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ تلنگانہ کے مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی سے متعلق مہم سے وہ کیوں دور رہے حکومت کو ساڑے تین سال کے دوران مسلم تحفظات پر توجہ کیوں نہیں دلائی اور ایک ایسے وقت جبکہ اسمبلی اور کونسل دونوں ایوانوں میں مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا بل پیش اور منظور کیا جارہا تھا ۔ اس وقت فلور لیڈر لندن میں کیوں چھٹیاں منارہے تھے ؟ آج ملت کی ہر دردمند شخصیت اچھی طرح جانتی ہے کہ ریاست کے سرکاری ملازمتوں میں حکومت نے 35 ہزار جائیدادوں پر تقررات کرنے کیلئے منظوری دے دی ہیں ۔ ان میں سے 29.500 جائیدادوں پر تقررات کرنے کیلئے اعلامیہ بھی جاری کردیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ حکومت نے محکمہ صحت کے 6186 جایئدادوں پر تقررات کا فیصلہ کیا ہے اور محکمہ فینانس نے بھی اس کی منظوری دے دی ہے ۔ اگر قیادت کا دعوی کرنے والے حقیقت میں ملت کے ہمدرد ہوتے تو حکومت کو 12 فیصد مسلم تحفظات ہر حال میں یقینی بنانے کیلئے مجبور کرسکتے تھے جس سے ان 35 ہزار جائیدادوں پر 4200 جائیدادوں پر مسلمان فائز ہوتے تھے ۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہوسکا ۔ کانگریس کے دور حکومت میں مسلمانوں کو فراہم کئے گئے 4 فیصد تحفظات سے صرف 1400 جائیدادوں پر ہی مسلمان فائز ہوسکتے ہیں ۔ 12 فیصد مسلم تحفظات پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ان 35 ہزار جائیدادوں پر تقررات میں مسلمانوں کو 2800 جائیدادوں کا نقصان ہو رہا ہے ۔ قیادت اپنی ہی ریاست میں مسلمانوں کے تحفظات کی مہم سے دور رہ کر مجرمانہ خاموشی اختیار کی دوسرے ریاستوں کے مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں تو عجیب لگتا ہے ۔ اسمبلی میں چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے ایک لاکھ ملازمتوں پر بھرتی کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ دو تین دن قبل ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سرویس کمیشن کے صدرنشین چکراپانی کو سکریٹریٹ طلب کرتے ہوئے ایک لاکھ ملازمتوں کی فراہمی کیلئے پیشرفت کا جائزہ بھی لیا جس میں انہوں نے واضح کردیا کہ 29 ہزار 500 جائیدادوں پر تقررات کیلئے 75 اعلامیہ جاری کردئے گئے ۔ کئی ہزار جائیدادوں پر تقررات کیلئے تحریری امتحانات کا بھی انعقاد کردیا گیا ہے ۔ مزید اعلامیہ بہت جلد جاری کئے جائیں گے ۔ اگر حکومت وعدے کے مطابق مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرتی تو تحفظات کی بنیاد پر مسلمانوں کو 12 ہزار ملازمتیں فراہم ہوتی تھی اور تعلیمی اداروں بالخصوص پروفیشنل کورسیس میں بھی مسلمانوں کا تناسب بڑھ جاتا تھا ۔ تلنگانہ میں تعلیم اور مسلمانوں میں 12 فیصد تحفظات نہ ملنے سے مسلمانوں کا جو نقصان ہو رہا ہے ۔ مقامی جماعت کو اس کی فکر نہیں ہے ۔ مسلمانوں سے متعلق حکومت کی اسکیمات اور ترقیاتی اقدامات کا اعزاز اپنے سر باندھنے اور اپنے آپ کو چیمپین قرار دینے والوں نے ریاست میں 12 فیصد مسلم تحفظات پر حکومت کو کیوں مجبور نہیں کیا ۔ کیا معاملہ داری ہے جس کی وجہ سے لب کشائی سے گریز کیا جارہا ہے ۔ مجرمانہ خاموشی کی وجہ کیا ہے ۔ قوم جاننا چاہتی ہے ۔ اپنے حلقہ پارلیمنٹ میں ترقیاتی کاموں کیلئے صرف 42 کروڑ روپئے جاری کرنے پر ٹیوٹر پر ٹیوٹ کرتے ہوئے تیز حکومت ہونے کا دعوی کیا گیا 4 ماہ میں 12 فیصد مسلم تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا 40 ماہ گذر جانے کے باوجود مسلمانوں سے کیا گیا وعدہ پورا نہیں کیا گیا ۔ وہ کیا تیز حکومت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT