Wednesday , November 21 2018
Home / شہر کی خبریں / اپنی نشستوں کو بچانے بی جے پی سے درپردہ مفاہمت !

اپنی نشستوں کو بچانے بی جے پی سے درپردہ مفاہمت !

بدم بال ریڈی راجندر نگر منتقل،کاروان، نامپلی ، ملک پیٹ اور چارمینار میں مقامی جماعت کو عوامی ناراضگی کا سامنا
حیدرآباد۔/10نومبر، ( سیاست نیوز) پرانے شہر کے اسمبلی حلقوں میں عوامی ناراضگی کے سبب مقامی سیاسی جماعت نے اپنی 4 نشستوں کو بچانے ایک طرف ٹی آر ایس تو دوسری طرف بی جے پی سے خفیہ مفاہمت کرلی ہے۔ کاروان، نامپلی، چارمینار اور ملک پیٹ میں سخت مقابلہ کے پیش نظر مقامی جماعت کی قیادت کوئی خطرہ مول لینا نہیں چاہتی لہذا اکثریتی طبقہ کے ووٹ تقسیم کرکے اپنی نشستوں کو دوبارہ حاصل کرنے کی حکمت عملی تیار کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ کاروان حلقہ میں بی جے پی سے سخت مقابلہ کے امکانات کو دیکھتے ہوئے اس حلقہ سے سابق میں نمائندگی کرنے والے سینئر قائد بدم بال ریڈی کو اس مرتبہ راجندر نگر حلقہ الاٹ کیا گیا۔ حالانکہ وہ کاروان اسمبلی حلقہ میں کافی اثر رکھتے ہیں اور وہ اسی حلقہ کے مقامی ہیں۔ گزشتہ دو میعادوں سے کاروان میں ترقیاتی کاموں کی سُست رفتار سے عوام میں ناراضگی پائی جاتی ہے جس کا اظہار مقامی جماعت کے امیدوار کے دورہ کے موقع پر کیا گیا۔ اس حلقہ میں کامیابی کو آسان بنانے اطلاعات کے مطابق بی جے پی قائد کو بھاری رقم ادا کرکے راجندر نگر سے مقابلہ کیلئے راضی کیا گیا اور وہاں ٹی آر ایس کی کامیابی میں مدد کرنے ایک عام کارکن کو امیدوار بنایا گیا۔ راجندر نگر میں مسلم آبادیوں کے ووٹ تقسیم کرکے ٹی آر ایس یا بی جے پی کی کامیابی کی راہ ہموار کی جائیگی۔ اس حلقہ میں غیر معروف مسلم امیدوار کے سبب اصل مقابلہ ٹی آر ایس اور بی جے پی میں دکھائی دے رہا ہے۔ کاروان کو بچانے جس طرح کا معاہدہ کیا گیا اسی طرح چارمینار، ملک پیٹ اور نامپلی کے بارے میں بھی اطلاعات مل رہی ہیں۔ نامپلی میں کانگریس کی مقبولیت سے بوکھلاکر تشدد کا راستہ اختیار کیا گیا اور گزشتہ دنوں کانگریس مہیلا قائد کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حلقہ میں رائے دہندوں نے اس مرتبہ تبدیلی کے حق میں ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی طرح چارمینار اور ملک پیٹ میں مقامی جماعت کیلئے یہ الیکشن مہنگا ثابت ہوگا۔ دونوں حلقوں میں رائے دہندوں کا رجحان مقامی جماعت کے خلاف ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ مقامی جماعت کی قیادت نے اپنی تمام نشستوں کو بچانے ٹی آر ایس و بی جے پی سے ایسے امیدواروں کو میدان میں اُتارنے کا معاہدہ کیا جو اکثریتی طبقہ کے ووٹ تقسیم کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ چارمینار میں کانگریس اور ملک پیٹ میں تلگودیشم کے مضبوط موقف سے مقامی جماعت کو شکست کا خوف لاحق ہوچکا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان حلقہ جات میں اکثریتی طبقہ کے ووٹ تلگودیشم اور کانگریس کی طرف منتقل ہونے سے روکنے بھاری رقم خرچ کرکے بی جے پی اور ٹی آر ایس سے ایسے امیدواروں کے ناموں کی سفارش کی گئی ہے جو اُن کیلئے کام کرسکتے ہیں۔ گزشتہ کئی انتخابات سے مقامی جماعت کی پرانے شہر کے حلقوں میں یہی روش ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پرانے شہر میں بی جے پی کی تائید حاصل کرتے ہوئے نئے شہر کے حلقہ جات عنبرپیٹ اور خیریت آباد میں بی جے پی کی درپردہ مددکی جائے گی۔ پرانے شہر کے حلقوں میں مقابلہ کو آسان کرنے کیلئے لاکھ کوششیں کی جائیں لیکن جاریہ انتخابات میں نتائج چونکا دینے والے ہوسکتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ سارے تلنگانہ کی طرح شہر میں تبدیلی کے حق میں لہر جاری ہے۔ریاست کے دیگر حصوں میں کمزور موقف کے باعث ٹی آر ایس بھی پرانے شہر کے حلقوں میں مقامی جماعت کی کھل کر مدد کرنے سے قاصر دکھائی دیتی ہے۔ اسی لئے مقامی جماعت نے بی جے پی سے درپردہ مفاہمت کی تاکہ دونوں جماعتوں کی تائید سے اپنی نشستوں کو محفوظ کیا جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس بار کانگریس اور تلگودیشم نے پرانے شہر کے حلقوں سے مضبوط امیدواروں کو میدان میں اُتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT