Wednesday , February 21 2018
Home / آپ کے سوال / اپنی نماز جنازہ پڑھانے کیلئے وصیت کرنا

اپنی نماز جنازہ پڑھانے کیلئے وصیت کرنا

سوال : ایک مسجد میں جانے کا اتفاق ہوا، جہاں پہلے سے جنازہ موجود تھا، میں نے چاہا کہ نماز جنازہ کے بعد اپنے کام کے لئے چلے جاؤں گا، بڑا افسوس ہوا کہ میت رکھی ہوئی ہے اور نماز جنازہ پڑھانے کے لئے تکرار ہورہی تھی۔ بعض افراد خاندان کا کہنا تھا کہ مرحوم نے ایک اپنے عزیز کو نماز جنازہ پڑھانے کے لئے وصیت کی تھی، جبکہ وہ صاحب اس وقت موجودہ نہیں تھے، ان لوگوں کا اصرار تھا کہ وہ صاحب آنے تک نماز جنازہ نہ پڑھی جائے، تاہم مرحوم کے فرزند نے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امام صاحب کو نماز جنازہ پڑھانے کی اجازت دیدی، معلوم کرنا یہ ہیکہ اگر کوئی شخص انتقال سے قبل وصیت کرے کہ فلاں شخص اس کی نماز جنازہ پڑھائے تو کیا اس شخص کا ہی نماز جنازہ پڑھانا ضروری ہے یا اس سلسلہ میں شرعی احکام کیا ہیں ؟
عبداللہ، ملک پیٹ
جواب : اگر کوئی شخص کسی کے بارے میں وصیت کرے کہ بعد وفات وہ اس کی نماز جنازہ پڑھائے تو شرعی لحاظ سے ایسی وصیت کی تعمیل لازم نہیں۔ عالمگیری جلد اول ص : 163 میں ہے ۔ وفی الکبری المیت اذا اوصی بأن یصلی علیہ فلان فالوصیۃ باطلۃ و علیہ الفتوی کذا فی المضمرات ۔

مسجد صغیر میں نماز جمعہ
سوال : ہمارے محلہ میں ایک چھوٹی مسجد ہے، جس میں نماز پنجگانہ باجماعت ادا کی جاتی ہے ۔ اس کی نگرانی متولی کے زیر تحت ہے۔ اس مسجد میں قدیم سے جمعہ نہیں ہوتی۔ بعض مصلی حضرات اس بات پر مصر ہیں کہ اس میں جمعہ کا بھی آغاز کیا جائے اور ایک بہترین خطیب کو جمعہ کے لئے مقرر کیا جائے لیکن مسجد کے پابند مصلی نیز مسجد کے نگران اس سے متفق نہیں ہے۔ آپ سے معلوم کرنا یہ ہے کہ چھوٹی مسجد جس کے اطراف و اکناف میں مختلف بڑی بڑی مساجد ہوں، جمعہ کا اہتمام کرنا چاہئے یا نہیں ؟
عبدالرحیم،مادناپیٹ
جواب : نماز جمعہ جامع مسجد میں ادا کرنے کا حکم ہے ۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ لوگ ایک مقام میں جمع ہوں تاکہ ان کے درمیان پیار و محبت کے تعلقات قوی و مستحکم ہوں اور ان میں نرمی و رحمت کے جذبات بیدار ہوں ، بغض و حسد کے محرکات ختم ہوں، اس میں کوئی دورائے نہیں کہ جب بلا ضرورت متعدد مساجد میں جمعہ کا اہتمام ہوگا تو اس میں مسلمانوں کی اجتماعیت میں کمی واقع ہوگی۔ نیز متولی منجانب سرکار اوقاف کا نگران ومحافظ ہوتا ہے ۔ اس کی بلا اجازت کسی شخص کو مداخلت کا حق نہیں۔ (کتاب الفقہ علی المذاہب الاربعہ جلد اول ص : 385 )
پس صورت مسئول عنہا میں قدیم سے مسجد میں نماز جمعہ قائم نہیں ہے اور اس کے قریب میں جامع مسجد موجود ہیں تو بعض مصلیوں کا اس مسجد میں جمعہ قائم کرنے کے لئے اصرار کرنا مناسب نہیں ہے۔

نظربد کا علاج
چراغ پھونکر گل کرنا
سوال : عموماً ہمارے احباب میں یہ دیکھا گیا ہے کہ جب کسی کو نظر لاحق ہوتی ہے وہ ایک برتن میں پانی بھرکر اس میںکپڑے کے ٹکڑے جلاکر برتن میں ڈال دیتے ہیں، پھر ان کو مریض کے سر پر سے پھیرا جاتا ہے ۔ اس کے بعد پانی سے بھرے برتن کو بڑے برتن میں اوندھا ڈالا جاتا ہے پھر اس پر پازیب و چپل رکھ دیا جاتا ہے ۔ کیا یہ نظر کے علاج کا درست طریقہ ہے؟ کیا قرآن و حدیث میں نظر بد کا موزوں علاج نہیں ہے ؟ اگر ہے تو کس طرح کیا جانا چاہئے۔
(2 ایک اور معاملہ یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ ہم جب چراغ گل کرتے ہیں تو بعض لوگ پھونک کر گل کرتے ہیں اور بعض لوگ پھونک کر گل کرنے کو پسند نہیں کرتے۔ میرے ایک معزز دوست نے کہا کہ چراغ کو پھونک کر گل کرنا کفار کی مشابہت ہے کیونکہ آغاز اسلام میں کفار چراغ گل کرتے وقت یہ گمان کرتے تھے کہ وہ اسلام کو ختم کر رہے ہیں۔ معاذاللہ۔حوالہ انہوں نے یہ دیا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: یریدون لیطفؤا نوراللہ بافواھھم (یعنی وہ منکرین حق اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھانا چاہتے ہیں) لیکن تفاسیر میں مجھے کہیں بھی نہیں ملا کہ چراغ کو پھونک کر نہیں بجھانا چاہئے ۔ براہ کرم رکھ لیں میرا بھرم۔
محمد عبدالقدوس،لنگم پلی
جواب : بفحوائے حدیث شریف ’’ العین حق‘‘ نظر حق ہے۔ سنن ابو داؤد میں ایک روایت حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے ’’ لا رقیۃ الامن عین أوحمۃ یعنی (بالعموم) تعویذ نظر اور زہر کے علاج کیلئے ہوتی ہے) اس حدیث شریف سے نظر کا لگنا اور تعویذ کے ذریعہ اس سے نفع حاصل ہونے کا ثبوت ہے۔
بخاری، ابو داؤد، ترمذی ، ابن ماجہ اور نسائی میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنھما پر یہ دعاء پڑھ کر دم کیا کرتے تھے’’ اعیذکما لکلمات اللہ التامۃ من کل شیطان وھامۃ و من کل عین لا مۃ۔ ترجمہ : میں تم دونوں کو اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ میں دیتا ہوں۔ ہر شیطان ، زہریلے جانور اور ہر ملامت کرنے والی آنکھ سے۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اسی طرح تمہارے باپ (حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام) ان کلمات سے حضرت اسمعیل اور حضرت اسحاق علیھما السلام کو دم کیا کرتے تھے۔
جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : کیا بات ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حسن اور حسین کو نظر لگ گئی ہے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام ’’نظر‘‘ کی تصدیق کی اور کہا کہ نظر لگنا حق ہے ۔ پھر ان کلمات کو پڑھنے کیلئے کہا: ’’ اللھم ذالسطلان العظیم ، ذا المن القدیم ، ذالوجہ الکریم و ذا الکلمات التامات والدعوات المستجابات، عاف الحسن وال حسین من انفس الجن و اعین الانس۔
ترجمہ : اے پروردگار جو عظیم سلطنت والا ہے، ازل سے احسان کرنے والا ہے۔ بزرگ ذات ہے ، مکمل کلمات والا اور مقبول دعاؤں والا ہے، حسن اور حسین کو جنات اور انسانوں کی نظر بد سے عافیت عطا فرما۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسنین کریمین پر یہ دم کیا تو وہ فوری اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ کے روبرو کھیلنے لگے۔ نبی ا کرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے آپ پر ، اپنی عورتوں پر اور اپنی اولاد پر اس تعویذ سے دم کیا کرو۔ (اس کی روایت علی المتقی نے کنزالعمال میں کی ہے اور تفسیر ابن کثیر میں یہ روایت حضرت علی مرتضی کرم اللہ وجہہ سے مروی ہے)
ابن فیم نے اپنی مشہور کتاب ’’ طب نبوی‘‘ (ص : 170-168 ) میں نظر سے بچنے کیلئے معوذتین (سورۃ القلق، سورۃ الناس) سورۃ الفاتحہ اور آیۃ الکرسی کو کثرت سے پڑھنے کیلئے نقل کیا ہے۔
عرب میں نظر اتارنے کیلئے ایک طریقہ رائج تھا کہ جس کی نظر لگتی اس کا ہاتھ اور منہ دھلاکر وہ پانی ایک برتن میں جمع کرتے اور اس سے جس کو نظر لگ جاتی وہ غسل کیا کرتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طریقہ کو رد نہیں کیا بلکہ فرمایا: جب تم سے ہاتھ اور چہرہ دھوکر پانی دینے کیلئے کہا جائے تو تم دیدیا کرو اور آپ نے یہ بھی فرمایا اس کے بعد وہ بھی غسل کرے۔ (مسند امام احمد بن حنبل روایت حضرت عبداللہ بن عباس) ۔
پس دریافت شدہ مسئلہ میں نظربد کے علاج کے ضمن میں مذکور الصدر علاج نبوی کا استعمال کیا جائے اور اس کے علاوہ گیارہ مرتبہ سورۃ القریش پڑھ کر دم کرنا بھی اکابر سے منقول ہے ۔ اب رہا، سوال میں ذکر کردہ طریقہ کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔
آغاز اسلام میں غیر مسلمین یہ خیال کرتے تھے کہ وہ نہایت آسانی سے اسلام کے ر وشن چراغ کو گل کردیں گے اور وہ اسلام کے خلاف نت نئے ہتھکنڈے اختیار کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کے ناپاک عزائم اوراسلام کی حقانیت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : یریدون ان یطفؤا نور اللہ بافواھھم واللہ متم نورہ ولو کرہ الکفرون (سورۃ التوبۃ 32/9 ) وہ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ (یعنی پھونک) سے بجھادیں لیکن اللہ اپنے نور کو مکمل فرمائے گا اگرچہ کافرین ناپسند کریں۔
مذکورہ آیت کریمہ ، چراغ گل کرنے کے طریقہ سے متعلق نہیں ہے اور نہ شریعت میں چراغ کو پھونک کر گل کرنے کی ممانعت ہے۔البتہ چونکہ چراغ کی روشنی بھی اللہ کا نور ہے، اس کو گل کرنے میں بھی مذکورہ آیت میں ذکر کردہ غیر مسلمین سے تشابہ کا پہلو نہ ہو اس لئے اکابر نے احتیاط کیا ہے۔

ناپاکی اور اذان کا جواب دینا
سوال : یہ بات مشہور ہے کہ اذان کا جواب دینا ضروری ہے۔ بسا اوقات آدمی کو غسل کی ضرورت لاحق رہتی ہے ۔ ایسی صورت میں بھی اذان کا جواب دینا لازم ہے یا نہیں ؟ اسی طرح گھر میں خواتین کبھی ناپاکی کی حالت میں رہتی ہیں تو ان کیلئے کیا حکم ہے ؟
احسان قادری، گڈی ملکا پور
جواب : اذان سننے والے پر اس کا جواب دینا واجب ہے ، اگرچہ وہ جنبی ہو یعنی اسکو غسل کی حاجت ہو البتہ حیض و نفاس والی عورتوں پر اذان کا جواب دینا نہیں ہے۔ جنبی (یعنی جس کو غسل کی ضرورت لا حق ہو) کا اذان دینا منع ہے۔ اذان کا جواب دینا منع نہیں۔ در مختار جلد اول کتاب الصلاۃ باب الاذان ص : 427 میں ہے : (و یجیب) وجوبا وقال الحلوانی ندبا والواجب الاجابۃ بالقدم (من سمع الاذان) ولو جنبالاحائضا و نفساء اور ردالمحتار میں ہے : (ولو جنبا) لأن اجابۃ المؤذن لیست بأذان۔

نو مولود کی ماں کا پرورش سے انکار کرنا
سوال : میری شادی دو سال قبل امریکہ میں مقیم لڑکی سے ہوئی، مجھے ایک چھ ماہ کا لڑکا ہے، شادی کے بعد سے ہم دونوں میں اختلافات رہے، میری حیدرآباد میں ملازمت ہے اور میری معقول تنخواہ ہے، میری اہلیہ امریکہ ہی میں رہنا پسند کرتی ہیں اور شادی سے قبل کہہ دیا گیا تھا کہ لڑکی لڑکے کے ساتھ رہے گی لیکن وہ اپنی بات پر قائم نہیں رہے، بالآخر ہم دونوں میں طلاق ہوچکی ہے، اب وہ دوبارہ امریکہ واپس ہونا چاہتی ہے۔ وہ لڑکے کو اپنے ساتھ رکھنے تیار نہیں، وہ صاف کہہ رہی ہے کہ وہ لڑکے کو اپنے ساتھ نہیں رکھے گی۔ میں نے لڑکا مجھے دیدینے کیلئے کہا تو وہ دینے کیلئے بھی تیار نہیں اور وہ لڑکے کو اپنی والدہ کے پاس رکھنا چاہتی ہے۔ اس کے والد اور والدہ حیدرآباد ہی میں مقیم ہیں۔ ایسی صورت میں میرے لڑکے کی پرورش کا حق ازروئے شرع مجھے حاصل ہے یا نہیں ؟
سید عبدالمنان، نرسا پیٹ
جواب : شرعاً لڑکا سات سال تک ماں کی پرورش میں رہے گا، سات سال کے بعد اس کا حق حضانت باپ کو حاصل ہوجائے گا اور اگر ماں اپنا حق حضانت ساقط کردے، بچے کی پرورش کو قبول نہ کرے تو ایسی صورت میں لڑکے کی عمر سات سال ہونے تک اس کی پرورش کا حق اس کی نانی کو حاصل ہوگا۔ در مختار برحاشیہ ردالمحتار جلد 3 کتاب الطلاق باب الحضانۃ صفحہ 62 میں ہے: (والحاضنۃ أما أو غیرھا (أحق بہ) ای بالغلام حتی یستغنی عن النساء و قدر بسبع۔ اور ردالمحتار ص : 623 میں ہے : (ولا خیار للولد عندنا) ای اذ بلغ السن الذی ینزع من الأم یأ خذہ الأب۔ اور در مختار کے ص : 614 واذ اسقطت الأم حقھا صارت کمیتۃ أو متزوجۃ فتنتقل للجدۃ۔ اسی کتاب کے ص : 617 میں ہے (ثم) ای بعد الأم بأن ماتت اولم تقبل او اسقطت حقھا أو تزوجت بأجنبی (ام الأم) وان علت عند اہلیۃ القربی۔
پس صورت مسئول عنہا میں ماں اپنے چھ ماہی لڑکے کی پرورش کو قبول کرنے سے انکار کردی ہے اور لڑکے کی نانی موجود ہے تو اس صورت میں لڑکے کی عمر سات سال ہونے تک اس کی پرورشی کا حق اس کی نانی کو حاصل ہوگا۔ جب وہ سات سال کی عمر کو پہنچ جائے گا تو اس کا حق حضانت (حق پرورشی) باپ کو حاصل ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT